17 اپریل 2021
تازہ ترین

جیل اور کرپشن کے ذرائع… جیل اور کرپشن کے ذرائع…

جیلوں میں کرپشن کے بہت سے ذرائع ہوتے ہیں، جنہیں پکڑنے کے لئے اینٹی کرپشن یا کسی اور ادارے کے ملازمین جیلوں میں سپرنٹنڈنٹ جیل کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے۔ اسی بنا پر آج تک کسی جیل میں اینٹی کرپشن یا کوئی ادارہ بدعنوانی کے خلاف چھاپہ نہیں مار سکا۔ سینٹرل جیل راولپنڈی میں چند سال قبل رحیم یار خان سے ایک پرانے مقدمے میں جیل کے ڈاکٹر سلطان شاہ (جو اَب اس دنیا میں نہیں) کی گرفتاری کے لئے اینٹی کرپشن والے آئے تو سپرنٹنڈنٹ نے انہیں گرفتاری کی اجازت نہیں دی کہ ان کے پاس صرف ایک ہی ڈاکٹر تھا۔ جیلوں میں کرپشن تنہا سپرنٹنڈنٹس یا کوئی افسر اور ملازمین نہیں کرسکتے، یہ تو ہوسکتا ہے کوئی ملازم کسی سے سو دوسو روپے انفرادی طور پر لے لے۔ جن جن جگہوں پر ’’سب اچھا‘‘ کرکے ملازمین اپنی ڈیوٹیاں لگواتے ہیں۔ ’’سب اچھا‘‘ کا مال بہت دُور تک جاتا ہے۔ جیلوں کے وزراء کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے۔ جیلوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے کن کن طریقوں کا ذکر کیا جائے۔ جب کسی کیس میں ایک ہی مقدمہ میں بہت سے ملزمان ہوں تو جیلوں میں آنے کے بعد انہیں علیحدہ علیحدہ رکھا جاتا ہے۔ یہ فطری امر ہے، جب کسی مقدمہ میں دوچار لوگ اکٹھے جیلوں میں جائیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے، انہیں ایک ہی بیرک میں رکھا جائے۔ اس طرح کے خواہش مند حوالاتیوں کو ایک ہی بیرک میں ہونے کے لئے پانچ سے دس ہزار روپے فی کس ’’سب اچھا‘‘ دینے کے بعد یک جا کیا جاتا ہے۔
عموماً جب قیدی یا حوالاتی آپس میں لڑتے ہیں تو لوہے کے کٹروں کو آزادانہ استعمال کرتے ہیں۔ قانونی طور پر کوئی قیدی یا حوالاتی نہ تو کانچ کا برتن رکھ سکتا اور نہ ہی لوہے کی کوئی شے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ جب کسی قیدی یا حوالاتی کو کٹر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ جیل ملازمین کو ’’سب اچھا‘‘ دینے کے بعد جیل کے لنگر خانے سے ٹین منگواکر اس کے بہت سے کٹر بنالیتے ہیں۔ قانونی طور پر جیل مینوئل میں کہیں نہیں لکھا، کوئی قیدی اپنے پاس آگ جلانے کے لئے انگیٹھی رکھ سکتا ہے، لیکن پنجاب کی تمام جیلوں میں قیدیوں اور حوالاتیوں کے پاس ایندھن جلانے کے لئے انگیٹھی ہوتی ہے، جو لنگرخانے سے ٹین منگواکر بنالیتے ہیں۔ ایندھن کے لئے کوئلہ جیل کی سرکاری کنٹین سے خریدا جاتا ہے، حالانکہ جیل مینوئل میں کہیں کسی قیدی کو ایندھن جلانے کی اجازت نہیں۔ جب کبھی جامہ تلاشی ہوتی یا قیدیوں کی بیرکس اور سزائے موت کے سیلوں کی تلاشی ہو۔ بالعموم قیدی اورحوالاتی کٹر وغیرہ چھپالیتے ہیں، اگر کوئی ملازم پکڑ بھی لئے تو ’’سب اچھا‘‘ دے کر واپس حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سینٹرل جیل راولپنڈی میں حالیہ لڑائی جھگڑے کے واقعات میں قیدیوں نے لوہے کے کڑوں کا آزادانہ استعمال کیا۔ سیکریٹری داخلہ پنجاب نے سینٹرل جیل راولپنڈی میں یکے بعد دیگرے لڑائی جھگڑے کے واقعات کے لئے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے، تحقیقات کرنے والے بھی جیلوں کے افسران ہی ہیں۔ ایسے میں کیا کوئی یقین کرسکتا ہے حقائق کو منظرعام پر لایا جائے گا۔ آج تک کسی بڑے کو سزا نہیں ہوسکی، نزلہ گرتا ہے تو زیادہ سے زیادہ جیل کے چیف یا ہیڈ وارڈرز اور وارڈرز کو سزائیں دے دی جاتی ہیں۔ جب تک جیلوں کے افسران اور نچلے ملازمین کے تبادلوں میں شفافیت نہیں لائی جاتی، اُس وقت تک نہ تو جیلوں سے کرپشن کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی لڑائی جھگڑے کے واقعات میں کمی ہوسکتی ہے۔ سینٹرل جیل راولپنڈی سے چند ایک ملازمین کو انہی واقعات کے بعد دوسری جیلوں میں تبادلہ کردیا گیا۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں چند ماہ کے بعد وہی ملازمین سینٹرل جیل کی اہم جگہوں پر تعینات ہوں گے، جس کی وجہ صرف ایک ہی ہے بعض ملازمین ’’سب اچھا‘‘ زیادہ سے زیادہ کرنے کے ماہر ہوتے ہیں، ایسے ملازمین افسران کے بھی قریب ہوتے ہیں، جب کبھی اس طرح کی صورت حال پیدا ہوجائے تو وقتی طور پر انہیں دوسری جیلوں میں بھیج دیا جاتا یا پھر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر معطل کردیا جاتا ہے۔
ہم دعوے سے کہتے ہیں، جن جن ملازمین کا حالیہ واقعات میں تبادلہ کیا گیا، بہت جلد سینٹرل جیل راولپنڈی میں تعینات ہوں گے۔ البتہ جن قیدیوں کے چالان بھیجے گئے، ان کی واپسی میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ آج تک کوئی سیاسی حکومت جیلوں میں مبینہ کرپشن کا خاتمہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ کرپشن کے خاتمے کے دعوے تو بہت کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دور میں کرپشن گذشتہ دور کی طرح جاری ہے۔ جب تک جیلوں سے پرانے ملازمین کو ریجن سے باہر نہیں بھیجا جائے گا اور جیلوں سے غیر قانونی اشیاء کی روک تھام کے لئے کوئی موثر نظام نہیں لایا جائے گا، جیلوں سے کرپشن کا خاتمہ خواب ہی ہوگا۔ پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خاتمے کے لئے عبدالستار عاجز جیسے نیک نام افسر کی ضرورت ہے، جو جیل کے لنگرخانے کی سوکھی روٹیاں فروخت کرکے ان کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرایا کرتا تھا۔ پنجاب کی جیلوں سے افسران کی بھینسوں کے باڑے ختم کردیے گئے، لیکن جیل مینوئل میں افسران کو بھینس رکھنے کی اجازت ہے یا تو جیل مینوئل میں ترمیم کردی جائے یا پھر انہیں قانون کے مطابق بھینس رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ انگریز سرکار نے کرپشن کے خاتمے کے لئے ہی تو بھینس رکھنے کی اجازت دی تھی، تاکہ افسران دودھ بیچ کر اپنا گزارا کرسکیں۔
پنجاب کی جیلوں میں ایک نیک نام اطہر جان ڈار بھی ہے، جو ’’سب اچھا‘‘ کیے بغیر سپرنٹنڈنٹ جیل رہتا اور آج کل ہیڈ آفس میں ہے، تاکہ وہ خود کو کرپشن سے بچاسکے۔ وہ بھینس رکھ اور اس کا دودھ بیچ کر اپنی گزر اوقات کیا کرتا ہے۔ جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے تبادلوں کے لئے واضح پالیسی ہونی چاہیے نہ کہ سفارشیوں کو ان کی من پسند جیلوں میں تعینات کردیا جائے اور لاوارثوںکو صوبے کی آخری جیلوں میں لگا دیا جائے۔ یوں تو اگر جیلوں کے متعلق لکھا جائے تو پوری کتاب تحریر کی جاسکتی ہے، لیکن ہم یہاں مختصربیان کرنے پر اکتفا کررہے ہیں، تاکہ اگر اصلاح احوال کی کوئی صورت نکل سکے تو اس میں بہت سوں کا بھلا ہوگا۔ 
قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جیلوں میں اگر کسی کو لڑائی جھگڑے یا کسی اور جرم میں سزا والے بلاک (جسے قصوری کہا جاتا ہے) میں بند کردیا جائے تو وہاں سے نکلنے کے لئے مال پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ قصوری بلاک میں چوبیس گھنٹے قیدیوں کو بند رہنا پڑتا ہے، نہ تو وہ باقی قیدیوں کی طرح کوئی چیز خود پکا سکتے ہیں، اس لئے قصوری بلاک میں قیدیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ قصوری سے نکلنے کے لئے قیدی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔ اگر ’’سب اچھا‘‘ نہ کریں تو انہیں کئی کئی ماہ تک قصوری بلاک میں رہنا پڑتا ہے۔ ہمیں یاد ہے طارق بابر کے دور میں، جب وہ سینٹرل جیل راولپنڈی میں سپرنٹنڈنٹ تھے، آج کل وہ ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ہیں، جب کسی قیدی سے موبائل فون برآمد ہوتا تو وہ انفرادی طور پر کسی قیدی کو قصوری بلاک سے باہر نہیں نکالتے تھے، بلکہ موبائل کیسز میں جو بھی قیدی بند ہوتا تو سب کو ایک ساتھ قصوری سے باہر نکالا کرتے۔ دل چسپ بات جتنے موبائل قیدیوں سے برآمد ہوتے وہ سب کے سب کو ملاحظہ میں توڑ دیا کرتے، تاکہ کوئی جیل ملازم یا افسر ان موبائل کو استعمال میں نہ لاسکے۔ قصوری سے نکالنے کے لئے وہ کسی کی سفارش نہیں مانا کرتے بلکہ سب قیدیوں سے مساوی سلوک کیا کرتے تھے، یہ ان کی ایمان داری کا بیّن ثبوت ہے۔
جیلوں میں قیدیوں اور حوالاتیوں سے ملاقات بھی ایک ذریعہ آمدن ہوتا ہے۔ وی آئی پی قسم کے لوگ عام ملاقاتوں کی طرح اپنے جاننے والوں سے نہیں ملتے، بلکہ اس مقصد کے لئے وہ جیلوںمیں سپرنٹنڈنٹس کے اردلی سے رابطہ کرتے ہیں۔ جب وہ وی آئی پی ملاقات کے لئے اردلی سے ’’سب اچھا‘‘ کرلیتے ہیں تو قیدیوں کے نام کی چٹ پر سپرنٹنڈنٹس کے دستخط کرکے چکر میں بھیج دیا جاتا ہے، جس کے بعد فوری بعد ایسے قیدیوں اور حوالاتیوں کو سپرنٹنڈنٹس جیل کے آفس سے ملحقہ کمرے میں بلالیا جاتا ہے اور وہ اپنے جاننے والوں سے گھنٹوں ملاقات کرتے ہیں۔ عام ملاقاتی تو صبح سویرے لائن میں لگ کر اپنے شناختی کارڈ کا اندراج کرانے کے بعد گھنٹوں بعد ملاقاتی شیڈوں میں کھڑے ہوکر قیدیوں سے چند منٹ ملاقات کرتے ہیں۔ جیلوں میںملاقاتی شیڈ کا بھی ٹھیکہ ہوتا ہے، جہاں ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عہدے کا افسر انچارج ہوتا ہے، جس کا باقاعدہ ہفتہ وار ’’سب اچھا‘‘ اوپر دیتا ہے۔ قانونی طور پر کوئی قیدی اپنے پاس نقد رقم نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی وہ ملاقاتیوں سے نقد رقم وصول کرسکتا ہے، لیکن وہ قیدی جو اپنے ملاقاتیوں سے نقد رقم لیتے ہیں۔ ملاقاتی شیڈ کے باہر جامہ تلاشی کرنے والے ملازمین سے ’’سب اچھا‘‘ کرکے اپنے پاس نقد رقم بیرکوں میں لے جاسکتے ہیں۔ اگر کوئی قیدی ’’سب اچھا‘‘ نہ دے تو اسے پی پی اکاؤنٹس کی رسید تھمادی جاتی ہے۔ جیلوں میں قانونی طور پر گوشت وغیرہ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ انگریز دور کے مینوئل میں گوشت لے جانے کی پابندی کا مقصد اندرون جیل بیماروں سے قیدیوں کو محفوظ رکھنا تھا، لیکن ہماری جیلوں میں ’’سب اچھا‘‘ کرنے کے بعد گوشت اور مچھلی لے جائی جاسکتی ہے۔   (جاری ہے )


ہمیں یاد ہے سینٹرل جیل راولپنڈی کی بی کلاس کے ڈی فریزر میں بہت سے حوالاتی منوں مچھلی رکھ دیا کرتے تھے، جو بعدازاں مختلف دعوتوں میں استعمال ہوا کرتی تھی۔ جیلوں میں غیر قانونی اشیاء کا استعمال عام ہے، کوئی ضروری نہیں کسی قیدی کے پاس موبائل فون ہی ہو۔ سی کلاس کے قیدیوں کے پاس بیرکس میں تکیے، میٹرس، کانچ کے برتن، کٹر، وکی رضائیاں، پیسے، پرائیویٹ کپڑے، ناخن کٹر، بلیڈ وغیرہ عام طور پر ہوتے ہیں۔ قارئین کو پڑھ کر حیرت ہوگی قیدیوں اور حوالاتیوں کی ہیئرکٹنگ کے لئے حوالاتی اور قیدی ہوتے ہیں، جن کو استرے، بلیڈ وغیرہ جیل کے چکر سے فراہم کیے جاتے ہیں، شام کو جب قیدی اپنے ساتھی قیدیوں کی کٹنگ کرنے کے بعد لوٹتے ہیں تو انہیں چکر میں ’’سب اچھا‘‘ کرنا ہوتا ہے۔ حالانکہ قیدیوں اور حوالاتیوں کی ہیئر کٹنگ کے لئے معاوضہ نہیں لیا جاسکتا، لیکن ہمارے ملک کی جیلوں میں قیدیوں سے ہیئر کٹنگ کا معاوضہ لیا جاتا ہے۔ گنتی بند ہونے سے قبل تمام ہیئر ڈریسر کو اپنے اپنے حصے کے پیسے چیف چکر یا امدادی کے پاس جمع کرانا پڑتے ہیں۔ چکر میں ایک منشی کا عہدہ بھی ہوتا ہے، جو ہیڈ وارڈر یا وارڈر عہدے کا ملازم ہوتا ہے، اس کے ذمے قیدیوں اور حوالاتیوں کی من پسند بیرکس میں گنتی ڈالنا ہوتا ہے۔ اس عہدے پر کام کرنے والے ملازمین کو پہلے سے ’’سب اچھا‘‘ ماہانہ یا ہفتہ وار طے کرنے کے بعد تعینات کیا جاتا ہے۔ چکر میں منشی لگنے کے لئے ملازمین بڑی تگ ودو کرتے ہیں۔ سینٹرل جیلوں میں تو منشی کو خاصی آمدن ہوتی ہے، جو لاکھوں روپے اوپر دینے کے بعد کم ازکم لاکھ دو لاکھ روپے ماہانہ اپنے لئے بچالیتا ہے۔ اور تو اور قیدیوں اور حوالاتیوں سے مقررہ وقت سے زیادہ ڈھلائی یعنی چہل قدمی کے لئے ’’سب اچھا‘‘ لیا جاتا ہے۔ جیلوں کا کونہ کونہ ذریعہ آمدن ہوتا ہے، اسی لئے مرحوم سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے، انہیں علم نہیں تھا ملک میں دو وزیراعظم ہوتے ہیں، ایک وزیراعظم جیل سپرنٹنڈنٹ بھی ہوتا ہے۔
بہت سی جیلوں میں سپرنٹنڈنٹس اور جنرل سیٹ پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس لگنے کے لئے بھاری معاوضہ دینے کے بعد پوسٹنگ ملتی ہے، جو بعدازاں کئی گنا زیادہ کمالیتے ہیں۔ کوئی حکومت خواہ وہ سیاسی ہو یا کوئی اور۔ جیلوں سے کرپشن کا خاتمہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ سرکاری اداروں میں معمول کے مطابق ملازمین رخصت پر جاتے ہیں، لیکن بہت سی جیلوں میں ڈیوٹی بک کو ’’سب اچھا‘‘ دینے کے بعد رخصت لی جاتی ہے، ڈیوٹی بک بھی کیا کرے، اسے بھی تو آگے ’’سب اچھا‘‘ دینا ہوتا ہے، لہٰذا جیلوں کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہوتا، جہاں ’’سب اچھا‘‘ کیے بغیر کوئی کام ہوسکے۔ پینے کے پانی کا کولر رکھنے کی اجازت تو نہیں ہوتی، لیکن جیلوں میں کولر کی سہولت میسر ہوتی ہے۔ روپے پیسے والے قیدی اور حوالاتی پینے کے لئے پانی کولروں میں رکھتے ہیں اور لاوارث قیدی ٹھنڈا پانی کرنے کے لئے پلاسٹک کی بوتلوں پر کوئی کپڑا چڑھاکر پانی ٹھنڈا کرتے ہیں۔ لنگرخانوں سے اشیاء کی خوردبرد کی شکایات ہوتی ہیں، سینٹرل جیل راولپنڈی میں کئی ایک ملازمین کے خلاف جیل کے گودام سے اشیائے خورونوش کی انکوائری زیر عمل ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک راست باز میڈیکل آفیسر نے ناقص روٹی کی شکایت کی تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے اس کا تبادلہ کرادیا۔ جیلوں میں ڈاکٹرز ڈیپوٹیشن پر آتے ہیں، اگر کوئی میڈیکل آفیسر جیل سپرنٹنڈنٹ کی منشا کے مطابق کام نہیں کرے گا تو اس کا جیل میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیل کے ہسپتال میں میڈیکل آفیسر تنہا قیدیوں اور حوالاتیوں کو نہیں رکھ سکتا، بلکہ اس ضمن میں سپرنٹنڈنٹس جیل کے ساتھ اس کا پورا پورا تعاون ہوتا ہے، بلکہ ہسپتالوں میں ’’سب اچھا‘‘ جمع کرنے کے لئے قیدیوں کو بطور ڈسپنسر کے بھیج دیا جاتا ہے، جو ہسپتال میں رکھے جانے والے قیدیوں اور حوالاتیوں سے باقاعدہ ماہانہ اکٹھا کرکے آگے پہنچاتے ہیں۔ بعض جیلوں میں کئی کئی سال سے قیدی ہسپتالوں میں مشقت کے نام پر ’’سب اچھا‘‘ جمع کررہے ہیں۔ اگر کوئی سیاست دان کہے وہ جیلوں کے حالات بدل دے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے، کوئی وزیر یا بیوروکریٹ جیلوں میں ہونے والی کرپشن کا سدباب کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا، جب تک اوپر کی سطح پر راست باز افسران نہیں ہوں گے، جیلوں میں مبینہ کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔