17 اپریل 2021
تازہ ترین

کووڈ کی آڑ میں… کووڈ کی آڑ میں…

2019 کے اواخر اور 2020 کے اوائل میں کرونا کے متعلق یہ باتیں بڑی شدومد سے کہی جارہی تھیں کہ یہ وائرس انسان کا بنایا ہوا ہے اور اُس وقت بوجوہ کوئی بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ یہ وبا اللہ یا قدرت کی طرف سے ہے۔ بہرکیف آج یہ بحث پس منظر میں جاچکی اور ساری دنیا یکسو ہوکر اس کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے، لیکن یہ وبا دن بہ دن مزید خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ پہلی، دوسری، تیسری اور اب چوتھی لہر دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، جو پہلی تین لہروں کی نسبت کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے۔ بالفرض اس وائرس کو انسانی دماغ کا شاخسانہ سمجھا جائے، تب یہ حقیقت بھی عیاں ہورہی ہے کہ اس کو بنانے والے، اس میں ہونے والی مزید تبدیلیوں سے متعلق بے خبر رہے، اس کی تباہ کاریوں کا کماحقہ اندازہ ہی نہ لگاسکے اور اس وقت تیسری لہر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ بنی نوع انسان کو نگلتی نظر آرہی ہے۔ گو اب اس جان لیوا وائرس کی ویکسین بھی مارکیٹ میں ہے، لیکن اس کے باوجود بھی یہ وبا انتہائی قیمتی زندگیوں کو نگل رہی اور بنی نوع انسان کی بقا کے لئے مسلسل ایک خطرہ بنی ہوئی ہے۔ ویکسین کے حوالے سے اعدادوشمار اور رسّہ کشی بھی انتہائی دلچسپ صورتحال اختیار کرچکی کہ ایک طرف امریکہ ہے تو دوسری جانب برطانیہ، چین اور روس ہیں، جن کی ویکسین کو امریکہ صرف اس لئے تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اس طرح ناصرف امریکہ کی سبکی ہوتی بلکہ عالمی اثررسوخ بھی متاثر ہوتا نظر آتا ہے۔ 
راقم نے اپنے ایک کالم مؤرخہ 8اپریل 2020 بعنوان ’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’شنید تو یہ بھی ہے کہ اس وائرس کے پیچھے کہیں اسرائیل کے اقتدارپرست، امریکی مفادات اور برطانوی سازشیں بھی موجود ہیں، اس میں کتنی حقیقت اور کتنا افسانہ ہے، اس گرد کے بیٹھنے کے بعد سب عیاں ہوجائے گا لیکن اس لڑائی میں ابھی تک چین انتہائی صبرو تحمل سے اپنے معاشی مفادات کے ساتھ قومی سلامتی کو بھی یقینی بنائے ہوئے ہے۔ بہرکیف موجودہ صنعتی صورت حال کے پیش نظر مستقبل قریب میںسخت کساد بازاری کا عالم متوقع ہے اور سرمایہ داروں کی اکثریت اس وقت اپنے اثاثے اونے پونے بیچنے کے لئے تیار ہوگی، تب صرف ایک قوم ایسی نظر آئے گی جو ان بیمار صنعتوں کو خریدنے کی سکت رکھتی ہوگی، وہ صرف چین ہی ہوگی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں چین صرف اپنی معاشی حیثیت کے بل بوتے پر دنیا بھر کو کنٹرول کرلے گا، یہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایک توقع ہے، جو کسی دوسرے محرک کی بنیاد پر غلط بھی ہوسکتی ہے۔ گو چین کو گھٹنوں کے بل بٹھانے کی امریکی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں، اس کے باوجود ابھی تک امریکہ اور اس کے حواری مزاحمت پر مائل نظر آتے ہیں اور چین کی مصنوعات کو حیلے بہانوں سے مسترد کیا جارہا ہے، درحقیقت معاشی مفادات کے کھیل میں یہی وہ کواکب ہیں جو عام انسانوں کو کھلا دھوکہ دے رہے ہیں۔‘‘
ابھی تک دنیا کی صنعتیں اس حد تک زوال پذیر نہیں ہوئیں کہ چین ان کو باآسانی خرید لے کہ کسی نہ کسی طور باقی دنیا ابھی تک اپنی معاشی حیثیت کو قائم رکھنے میں کامیاب نظر آتی ہے، لیکن اس کے دوسرے عوامل بہرطور سامنے آنا شروع ہوگئے، جو واضح طور پر امریکی اثررسوخ کو چیلنج کررہے ہیں۔ امریکہ ابھی تک ان سے نبردآزما ہونے کی بھرپور کوششوں میں نظر آتا ہے اور ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے مصداق اپنے ترکش کے تمام تیروں کو استعمال کررہا ہے کہ کسی صورت اقوام عالم کی سرداری اس کے پاس رہے جب کہ قانون قدرت اس حوالے سے ہمیشہ اٹل رہا ہے کہ اس کائنات اور اس کرۂ ارض کی ہر شے فانی اور لافانی صرف رب العزت کی ذات وحدہ لاشریک ہے۔ شخصی یا قومی اقتدار و سربراہی ازل سے کسی ایک قوم کو تفویض نہ ہوئی اور نہ ہوگی، البتہ جو قوم بھی قانون قدرت کے اٹل اصولوں کی، جب تک پیروی کرتی ہے، ان آفاقی اصولوں کو اپنی زندگی میں رہنما اصول تسلیم کرتے ہوئے، ان پر عمل پیرا ہوتی ہے، اس کا اقبال باقی اقوام سے بلند رہتا ہے اور وہ قوم باقی اقوام کی سربراہی کرتی ہے۔ یہی اصول دین اسلام کے ظہور سے اس کے ماننے والوں کے ساتھ رہا کہ جب تک اس کے ماننے والوں نے اس کی پیروی کی، وہ باقی اقوام سے برتر رہے، ان پر حکومت کی، لیکن جیسے ہی ان اصولوں سے پیچھے ہٹے، ذلت کی گہرائیاں ان کا نصیب ٹھہریں۔ دوسری طرف اپنے وقت کی سب سے بڑی سلطنت،برطانیہ جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا، آج سکڑ چکی، اسی دوران امریکہ و سوویت یونین کا ظہور ہوا، جسے امریکہ نے بہرطور افغان جنگ میں نیچا دکھادیا اور آج خود قریباً افغان جنگ کے نتیجے میں زمیں بوس ہونے کو ہے۔
اس آفاقی اصول کے پس منظر میں یہ بھی واضح نظر آرہا ہے کہ اس وقت امریکہ کا بلاشرکت غیرے اقوام عالم پر اقتدار سا اثررسوخ کا سورج نصف النہار پر پہنچ چکا، جس کے بعد یقینی طور پر اسے غروب ہونا ہے۔ اس کے غروب ہونے کے آثار بہت واضح ہیں، لیکن قانون فطرت کے عین مطابق امریکی اس کو دوام دینے کے لئے اپنی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن کیا وہ اپنے اثررسوخ کو بچاپائیں گے، اس سوال کا حتمی جواب تو بہرکیف وقت دے گا، لیکن آثار یہی بتارہے ہیں کہ اس سورج کو اب غروب ہونا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اس وقت جو صورت حال درپیش ہے، اس میں امریکی کردار اپنی موت آپ مررہا ہے کہ جس میں ہمیشہ یہی لائحہ عمل رہا کہ ان ممالک میں اندرونی طور پر دونوں ممکنہ طاقتوں کے سر پر ہاتھ رکھا جائے تو دوسری جانب دو ریاستوں کے درمیان موجود اختلافات کی خلیج کو مزید وسیع کرکے دونوں ریاستوں کا انحصار امریکہ پر قائم رکھا جائے اور یوں اپنے مفادات مسلسل کشید کیے جائیں۔ دباؤ کی یہ شدت ٹرمپ دور میں اپنی انتہا کو پہنچی، جب ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ نامی معاہدے میں عربوں کے تحفظات سے صرفِ نظر کیا گیا، یا ان کو ایسے سبز باغ دکھائے گئے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور دوسری جانب ایران کو مسلسل پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عربوں کی بڑھتی ہوئی معاشی حیثیت کو زک پہنچانے کے لئے انہیں جنگوں میں دھکیلا گیا، تاکہ ان کی معاشی حیثیت کو کسی بھی طور مستحکم نہ ہونے دیا جائے، عرب سپرنگ کے نام سے عوام کو حکمرانوں کے خلاف کیا گیا۔ بہرکیف اس سے قطع نظر، چین انتہائی مستقل مزاجی سے اندرونی طور پر خود کو مستحکم کرتا رہا اور بیرونی طور پر مشرق وسطیٰ و افریقہ میں اپنا اثررسوخ بڑھاتا رہا۔ 
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ افریقہ کے بیس ممالک نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو ڈالر سے یوآن میں تبدیل کرلیا ہے، عالمی سطح پر چین کی کرنسی کو بطور پیمانہ تسلیم کیا جارہا ہے، ڈالر سے بتدریج اقوام عالم پیچھے ہٹ رہی ہیں، گو اس کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا، لیکن یہی قانون فطرت ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔ امریکی ڈیل آف سنچری بظاہر اپنی موت آپ مرچکا اور چین مشرق وسطیٰ میں اپنے قدم مضبوطی سے جماتانظر آرہا ہے، ناصرف مشرق وسطیٰ بلکہ چین نے ایران میں بھاری سرمایہ کاری کرکے، ایران کو بھی اپنے قریب کرلیا ہے اور یوں خطے سے امریکہ کو نکال باہر کرنے کے قریب ہے۔
یورپ میں بھی صورت حال قریباً یہی بن رہی ہے اور امریکہ کے لئے اپنے قدم جمائے رکھنا انتہائی مشکل نظر آرہا ہے، ویکسین کی آڑ میں جو ترجیحات امریکہ نے متعین کر رکھی تھیں، ان کو چین بڑی مہارت اور سہولت کے ساتھ امریکہ کے منہ پر مار رہا ہے۔ کووڈ ویکسین پر اپنی اجارہ داری کے بل بوتے پر جو خواب امریکہ نے دیکھ رکھے تھے، وہ چکناچُور ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور ان خوابوں کے چکناچُور ہوتے ہی امریکی ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کی راہ ہموار ہوتی نظر آتی ہے ۔ ٹائی ٹینک بھی چونکہ بڑا بحری جہاز تھا اور اسے ڈوبنے میں زیادہ وقت لگا تھا، بعینہ امریکہ کی صورت حال بھی اس سے مشابہہ ہے اور اسے ڈوبنے میں بھی یقینی طور پر وقت لگے گا، مگر اس کو ڈوبنا ضرور ہے۔ یوں امریکہ کووڈ ویکسین کی آڑ میں جو کھیل چین کے ساتھ کھیلنا چاہ رہا تھا، خود اس کی لپیٹ میں آچکا اور چین صرف صنعتی دیو ہی نہیں بلکہ عسکری؍ حربی دیو بن کر بھی امریکی تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے تیار ہے۔ کووڈ کی آڑ میں کھیلا جانے والا امریکی کھیل، خود اُس کے گلے میں ہی پڑتا نظر آتا ہے اور چین اس کھیل میں فاتح بن کر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔