17 اپریل 2021
تازہ ترین

افراتفری مشن ناکام۔ لندن روانگی؟؟ افراتفری مشن ناکام۔ لندن روانگی؟؟

سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے بطور اپوزیشن لیڈر انتخاب کے بعد مفادات کے تناظر میں بنے نام نہاد اپوزیشن اتحاد کا عملاً خاتمہ ہوچکا اور اب (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جوتوں میں دال بٹ رہی ہے۔ سینیٹ کے الیکشن سے قبل آصف علی زرداری نے نواز شریف وغیرہ کو اعظم نذیر تارڑ کو سینیٹر بنوانے پر اپنے سنگین اعتراضات سے آگاہ کیا تھا کہ موصوف محترمہ بے نظیر بھٹو کے مبینہ قاتل پولیس افسران کے وکیل تھے اور اصل ملزمان کو مل ملاکر بری کروانے میں انہی کا ہاتھ تھا۔ اس سے پہلے آصف علی زرداری بدنام زمانہ پولیس آفیسر رانا مقبول پر بھی بطور سینیٹر اعتراض کرچکے تھے۔ اب سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ مریم نواز تو سرعام کہتی تھیں کہ ہم کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے اور اسمبلیوں سے استعفے دے دیں گے۔ اگر (ن) لیگ کے سینیٹرز پر نظر دوڑائیں تو ان کی اکثریت شریف فیملی کے تابع دار خدمت گزاروں پر مشتمل نظر آتی ہے۔ اس جماعت کی جمہوریت پسندی کی حقیقت تو اسحاق ڈار جیسے اشتہاری مفرور کو بھی سینیٹر بنواکر سینیٹ کی سیٹ کو بلاک کرنا ہے۔ ڈار ایسے ملکی مجرم کو 2018 میں سینیٹر بنوانا نواز شریف وغیرہ کی نظام کے خلاف ضد تھی اور میرے لئے حیرت کا باعث الیکشن کمیشن کا رویہ ہے کہ جب ایک شخص سینیٹ کا رکن بننے کے بعد قریباً 3 سال سے حلف اٹھانے آیا اور نہ ملک میں موجود ہے تو اس کی سیٹ کو خالی کیوں نہیں قرار دیا جارہا۔ 
پی ڈی ایم بنانے کے بعد مریم نواز نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ شاید بہت بڑی سیاسی ماہر بن چکی ہیں اور وہ پی پی پی اور فضل الرحمان کو اپنی خواہشات کے تحت چلاکر اپنے اور اپنے والد کے مذموم مقاصد کی تکمیل کرلیں گی، لیکن سیاست میں ایسا نہیں ہوتا۔ 2014 میں جب نواز شریف کی دھاندلی کے ذریعے بنی حکومت عمران خان کے بھرپور لانگ مارچ اور دھرنے کے باعث شدید ترین مشکلات میں تھی تو یہ پی پی پی تھی، جس نے نواز لیگ کا ساتھ دیا تھا اور نظام بچانے کی بات کی تھی، گو اُس وقت بھی ان کے پیش نظر سندھ حکومت تھی اور آج کے حالات میں بھی ان کے پیش نظر سندھ حکومت ہی ہے، لیکن میرے لئے مریم نواز کی عقل و فہم اور سیاسی دانش پر ماتم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ انہوں نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ایک ایسی خاتون جو ملکی عدالتوں سے سزا یافتہ اور اس کے ملکی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہے، کے اصرار پر پیپلز پارٹی اسمبلیوں سے ناصرف استعفے دے گی بلکہ ان کے ساتھ مل کر نظام کے خلاف چڑھ دوڑے گی۔
یہ کاٹھ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر پھوٹنی ہی تھی۔ عوام نے بھی نواز لیگ کا تیا پانچہ اور مفادات کے لئے قلابازیاں دیکھ لیں اور چند مہینوں میں لاہور سمیت تمام شہروں میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے عوام میں اپنی مقبولیت بھی دیکھ لی جو شرم ناک حد تک کم تھی۔ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین کا الیکشن ہروانے میں مریم نواز کا کلیدی کردار تھا اور جو ووٹ مسترد ہوئے ان کے پس پشت دیگر عوامل کے ساتھ مریم نواز کا بغض و ہیجانی فطرت بھی شامل تھی۔ پاکستان میں اپوزیشن کے اتحادیوں کی سیاست کی تاریخ بہت پرانی ہے، متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان میں بننے والے جگتو فرنٹ سے لے کر بھٹو صاحب کے خلاف بننے والے پاکستان قومی اتحاد کوئی بہت پرانے اتحاد نہیں، لیکن دنیا کے برعکس پاکستان میں مختلف الخیال سیاسی دھڑوں کے اتحاد بنتے چلے آئے جب کہ اگر علم سیاسیات کے مطابق دیکھا یا چلا جائے تو اتحاد وہی کامیاب ہوسکتے ہیں جن میں شامل سیاسی جماعتوں کے خیالات و نظریات میں ہم آہنگی ہو۔ مختلف الخیال سیاسی جماعتوں و دھڑوں پر مشتمل سیاسی اتحاد اور بالخصوص ایسے سیاسی اتحاد، جن کا مقصد اپنی کرپشن کا تحفظ و عدالتوں سے بچنا ہو، ان کا انجام پی ڈی ایم جیسا ہی ہوا کرتا ہے۔ افسوس ناک ترین حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں حکومتوں کی کرپشن کے خلاف احتجاج ہوتا ہے، بلکہ اتحاد بھی بنتے ہیں، لیکن پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں تمام کرپٹ اور سزا یافتہ سیاست دانوں نے مل کر ایک ایسا اتحاد (PDM) بنایا جو اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے تھا، لیکن ہوا کیا؟ پاک فوج اور تمام اداروں کے خلاف بدترین زبان و بیانیہ اختیار کرنے والوں نے دراصل پینترا بدلا تھا اور یہ ان کی ناقص العقلی تھی کہ بغاوت کی حدیں عبور کرنے کے بعد وہ ملک میں انتشار پیدا کرکے اس نظام کو گرا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرپائیں گے۔
میری دانست میں تو لاہور میں ہونے والے جلسے میں جب چند سو لوگوں نے شرکت کی تھی تو پی ڈی ایم کی موت اسی دن واقع ہوگئی تھی، اس کے بعد تو مریم نواز اس کا مُردہ ہی اٹھائے پھرتی رہیں۔ ویسے بھی پی ڈی ایم میں نواز لیگ، پی پی پی اور مولانا فضل الرحمان کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا، لیکن یہ اتحاد جسے مریم نواز شریف اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہ رہی تھیں، کو آصف علی زرداری نے نہایت خوبصورتی سے استعمال کیا اور انہی لوگوں سے ناصرف گیلانی کو سینیٹر منتخب کروایا، جنہوں نے انہیں وزیراعظم کی سیٹ سے محروم کروایا تھا، بلکہ انہیں سینیٹ میں اپوزیشن رہنما بھی بنوالیا۔ بلاول بھٹو نے اس ضمن میں بیان بھی دیا کہ ’’جنہوں نے گیلانی کو گھر بھیجا تھا انہوں نے ہی انہیں سینیٹر منتخب کیا ہے۔‘‘ اس وقت ملکی سیاست کا حال یہ ہے کہ سابق حادثاتی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی روزانہ مختلف چینلوں پر بیٹھ کر اپنا سیاسی ’’چورن‘‘ بیچنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ یہی حال باقی (ن) لیگی سیاست دانوں کا ہے۔ پی پی پی اور اے این پی کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے نوٹس بھیج کر مسلم لیگ نواز نے اپنی ’’جگ ہنسائی‘‘ کا سامان پیدا کرلیا ہے، جس پر بلاول اور آصف زرداری کا شدید ردّعمل سامنے آیا ہے جب کہ پی پی کے رہنماؤں نیّر بخاری اور قمر زمان کائرہ کی اس بات میں وزن نظر آتا ہے کہ ’’نواز لیگ اس قابل نہیں کہ وہ کسی اتحاد کا حصہ بن سکے کیونکہ ان کی قیادت سب جماعتوں کو اپنے حکم کے مطابق چلانا چاہتی ہے۔‘‘
سینیٹ انتخابات میں اگر اعظم نذیر تارڑ (محترمہ کے قاتلوں کے وکیل) جیسے امیدوار کے انتخاب پر اصرار نہ کیا جاتا تو شاید آج مسلم لیگ نواز اتنی اکیلی اور فارغ نہ ہوتی۔ عوام کو اب یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی سیاست میں فوج، عدالتوں، اداروں اور عمران کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں ناکامی اور نیب و حکومتی اداروں کے نوٹسز کے بعد مریم نواز نے اب اپنے والد کی طرح بیماری کا ڈھونگ رچالیا ہے اور بدنام زمانہ ڈاکٹر عدنان (جو بہرحال قومی مجرم ہے) مریم کا ’’تفصیلی چیک اپ‘‘ کرنے پاکستان پہنچ چکا ہے۔ بظاہر نظر یہی آرہا ہے کہ مریم نواز پاکستان سے بھاگنے کی تیاریوں میں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ڈاکٹر عدنان جیسے ’’جادوگر‘‘ کو ’’ہٹے کٹے‘‘ سابق وزیراعظم کو قریب المرگ ثابت کرکے دھوکے سے برطانیہ لے جانے کے الزام میں گرفتار کرلیا جائے، لیکن عوام کی ایسی خواہشیں کب پوری ہوئیں جو ڈاکٹر عدنان جیسا پلیٹ لیٹس کم کرنے والا جادوگر قانون کی گرفت میں آئے۔ آج بظاہر سیاسی صورت حال مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے اور اپوزیشن کا مفاداتی اتحاد پارہ پارہ ہوچکا۔ موجودہ سیاسی صورت حال اور عوام متقاضی ہیں کہ غربت اور مہنگائی میں پسے ہوئے لوگوں کی بھرپور مدد کرکے انہیں گرداب سے نکالا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے کسی بھی منصوبے میں اگر قانون سازی کی گئی تو پی پی حکومت کا ساتھ دے گی، اس لئے حکومت بالخصوص پنجاب حکومت کو ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی کے ذمے داروں کو نشان عبرت بناکر عوام کی زندگیوں کو سہل کرنا ہوگا۔