22 اپریل 2021
تازہ ترین

صاف اور صحت مند دنیا۔ سب کے لئے صاف اور صحت مند دنیا۔ سب کے لئے

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی پیداواری صلاحیت بڑھارہے ہیں۔ اِس کے ساتھ اُنہیں نقل مکانی اور شہری آبادی میں اضافے جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ایک بڑی تباہی جس سے ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور غریب ممالک شدید متاثر ہوئے، وہ کرونا وائرس ہے۔ اِس نے ایک جانب بیشتر ممالک کی ترقی کو پسِ پشت ڈال دیا، دوسری طرف دنیا میں غربت، بیماری اور غذائی قلت جیسے مسئلے بھی پیدا کردیے۔ اِس بیماری کا اثر لوگوں کی معاشی، معاشرتی اور گھریلو زندگی پر بھی پڑا۔ خواتین اور عمر رسیدہ افراد خصوصاً اِس کا شکار ہوئے۔ دُنیا یوں بھی صحت کی سہولتوں کی غیر مساوی فراہمی کا شکار ہے اور اُس پر اِس ناگہانی آفت نے صحت اور سلامتی کے ایسے مسائل پیدا کردیے ہیں جو اِنسانی زندگی کے تمام معاملات پر حاوی ہوگئے ہیں۔ اِن حالات میں ضروری تھا، ایک صاف ستھری اور صحت مند زندگی کے فروغ کے لئے کام کیا جائے۔
7 اپریل دُنیا بھر میں عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے صحت کے عالمی دِن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اِس یوم کو منانے کا مقصد عوام الناس، حکومتوں اور صحت کے کارکنان کو صحت کے مسائل کو اجاگر کرنے اور اِن کے حل کی خاطر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کوششوں کو یکجا کرنا ہے۔ اِس دِن کے حوالے سے عالمی ادارۂ صحت نے 2021 کے لئے مخصوص موضوع ’’صاف اور صحت مند دنیا ... سب کے لئے‘‘ وضع کیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی کمپین اپنے آئینی اصولوں کو بھی دنیا کے سامنے رکھ رہی ہے، جس میں اِس بات پر زور دیا گیا کہ معیاری صحت کا حصول ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور یہ حق اُسے بلاامتیاز مذہب، عقیدہ، رنگ ونسل، سیاسی وابستگی، معاشرتی اور معاشی حالات دیا جانا چاہیے۔ بدقسمتی 
سے دنیا اب بھی مساوی حقوق اور سہولتوں کی حامل نہیں۔ جس جگہ ہم رہتے، کام کرتے اور جو زندگی گزارتے ہیں، وہ حالات سب کے لئے یکساں نہیں اور یہ ناہمواری صحت کی سہولتوں کے حوالے سے زیادہ قابل تشویش ہے۔ صحت کی خدمات کی فراہمی میں نااِنصافی، اِمتیازی سلوک اور وسائل کی عدم دستیابی، برابری کے تصور کی نفی کرتے ہیں۔ خصوصاً کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے اِس فرق میں مزید خلا پیدا کردیا ہے۔ صحت کی سہولتوں سے محروم لوگ مزید پریشانیوں کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت ’’صحت سب کے لئے‘‘ کے فلسفے کو فروغ دے کر اِسے حقیقت کا لبادہ پہنانا چاہتا ہے۔ اِس کے ساتھ حکمرانوں کو بھی اِس اَمر کو یقینی بنانا ہوگا کہ صحت کی سہولتوں تک ہر شخص کی رسائی ہو جو اُنہیں آسان طریقے سے کم خرچ اور معیاری طور پر دستیاب ہوں۔ 
آج دُنیا میں قریباً ایک ارب لوگ غیر منظم آبادیوں اور کچی آبادیوں (Slums) میں رہ 
رہے ہیں، جنہیں صحت سے متعلق بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صحت اور صفائی کی سہولت اُن سے کوسوں دُور ہے۔ تعفن زدہ ماحول، پینے کا آلودہ پانی، ناقص اور کم خوراک، حفظانِ صحت سے بیگانگی اور نکاسیٔ آب کی سہولت سے محرومی سے اِن علاقوں میں بچوں کی شرح اموات بڑھ گئی ہے۔ سگریٹ نوشی، منشیات کا استعمال اور جنسی بے راہ روی لاعلاج بیماریوں کو جنم دے رہی ہیں۔ اِس بنا پر ہر سال دْنیا میں 6.6 ملین بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ 200 ملین عورتوں کو تولیدی صحت اور فیملی پلاننگ کی خدمات میسر نہیں۔
پاکستان معیاری صحت کی سہولتوں کے حوالے سے دُنیا کے 195 ممالک میں 154 ویں نمبر پر آتا ہے۔ ہمارے ہاں قابل علاج وبائی امراض اور ویکسی نیشن کے ذریعے بیماریوں سے محفوظ رہنے کی سہولتیں بیشتر آبادی کو میسر نہیں۔ ہیضہ، ہیپاٹائٹس، تپ دق، ملیریا، ٹائیفائیڈ، دِل کے امراض اور شوگر کی بیماریاں اموات کا سبب بن رہی ہیں۔ اب اِس میں کرونا وائرس سے متاثر اور ہلاک ہونے والے بھی شامل ہوگئے ہیں۔ پوری
 دنیا میں اب پاکستان صرف اُن تین ممالک میں رہ گیا ہے، جہاں پولیو جیسی خوف ناک بیماری موجود ہے۔ 2019 میں پولیو کے 150کیسز سامنے آئے۔ پاکستان دو طرح سے بیماریوں کا بوجھ اٹھارہا ہے۔ ایک غریب آبادی، دوسرے قابل علاج بیماریوں میں معیاری اور کم خرچ علاج کی سہولت کا فقدان۔ یہ دونوں بوجھ، صحت کی معلومات کے فروغ، ابتدائی اور ثانوی سطح پر معیاری صحت کی سہولت کی فراہمی، کم خوراکی کا تدارک، تولیدی صحت کی خدمات اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ذریعے کم کیے جاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن جو ایک خودمختار اور انضباطی ادارہ ہے، صوبے میں تمام قسم کی علاج گاہوں میں صحت کی معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کام کررہا ہے۔ صحت کی خدمات کی فراہمی میں کلینیکل اور انتظامی کوتاہیوں کے سدِباب کے لئے صحت کی سہولتوں کے کم سے کم معیارات تیار کیے ہیں، جن پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ علاج گاہوں کی رجسٹریشن، اِنسپکشن اور لائسنسنگ کا ایسا نظام وضع کیا ہے، جس پر عمل کرکے صحت کی محفوظ اور مستند خدمات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں معاشرے سے اتائیت کے خاتمے کے لئے بھی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔