22 اپریل 2021
تازہ ترین

ریاست مدینہ اور ہم ریاست مدینہ اور ہم

اخلاقیات، ہمدردی اور خوف خدا جس معاشرے سے ہجرت کرجائیں، وہ خواہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، اس کے پاس اقتصادی، دفاعی یا افرادی قوت جتنی بھی وافر کیوں نہ ہو، وہ سماج ناصرف اپنا وجود ختم کر بیٹھتا، بلکہ آنے والی کئی نسلیں صدیوں تک اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سے قاصر رہتی ہیں۔ معاشرے کا وجود صرف مال و دولت کی فراوانی پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لئے اپنوں کا احساس، دکھ سکھ میں سانجھ، دوسروں کو آگے بڑھنے کے مواقع کی فراہمی اور انسانیت کی قدر ایسے عوامل تازگی اور تقویت فراہم کرتے ہیں۔ اسلام نے خاندانی نظام کی مضبوطی اور رشتے داروں سے انس اور لگائو کا درس اور عزیز و اقربا کی مدد سب سے پہلے کرنے کا حکم دیا ہے، رشتوں میں ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی، اولاد اور دیگر عزیزوں کے حقوق و فرائض اسلامی معاشرے نے تفصیل سے بیان کیے ہیں۔
1947 میں قائم ہونے والا معاشرہ جس کی بنیاد ہی اسلامی معاشرے پر رکھی گئی، 73 سال بعد بھی اخلاقیات، ہمدردی اور خوف خدا کو عملاً اپنانے سے محروم رہا۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت ایسی فنی خرابی پیدا ہوچکی، جس نے ہماری نئی نسل کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا ہے، آج کا نوجوان خود فریبی کے جال میں ناصرف پھنس چکا، بلکہ اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے سے بھی قاصر ہے۔ عزیز و اقارب جن کی اہمیت اسلام نے بیان کی ہے، وہ اپنی ذات کو فوقیت دینے کی خاطر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ انسان کی تمام زندگی ان گنجلکوں کو سدھارنے میں بیت جاتی ہے، جن کا سوائے زندگی کے خاتمے کے اور کوئی حل سُجھائی نہیں دیتا۔ اگر کوئی زندہ ضمیر ان خرابیوں کا تدارک کرنے کی کوشش کرے بھی تو اس کے گرد جمع افراد یہ کہہ کر اسے دُور رہنے کی تجویز دیتے ہیں کہ آپ اپنی ذات کی فکر کرو، اپنے بچوں کو دیکھو، کیوں پرائی آگ میں چھلانگ لگاتے ہو، جن کا آپ احساس کررہے ہو، وہی کل کو آپ کے خلاف ہوں گے، لہٰذا جس کو جو سمجھ آتا ہے، اسے کرنے دو۔ وہ بے چارہ اپنی زندہ ضمیری کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتا  دیکھ کر بھی بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے۔
بزرگوں کا قدیم قول ہے کہ زن، زر اور زمین، سب رشتوں کو برباد کردیتے ہیں۔ ہمارے ؎
معاشرے میں ان جھگڑوں کی جھلک ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔ نوجوان ایک دوسرے کو پسند اور ناپسند کی بنیاد پر گھروں میں ایسا طوفان برپا کرتے ہیں کہ خاندانی نظام کی بنیادیں ہل کر رہ جاتی ہیں۔ علاقے میں اپنا مقام رکھنے والے بزرگ اولاد کی اس حرکت سے کم تری کی ایسی سطح کو چھونے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ تمام عزیز و اقارب انہیں اچھوت تصور کرنے لگتے ہیں۔ مال و دولت کی حرص انسانوں میں ایسی تقسیم پیدا کردیتی ہے کہ بھائی بھائی کا جانی دشمن بن جاتا ہے، اگر کسی کو اللہ کچھ عطا کردے تو سب اس کھوج میں لگ پڑتے ہیں کہ یہ مال اس کے پاس آیا کہاں سے اور اسے برباد کرنے کے لئے تمام حدیں پار کرلی جاتی ہیں، یہاں تک کہ جو رشتے اسے انتہائی محبوب ہوتے ہیں، ان کو اپنے جال میں پھانس کر تباہی و بربادی کا سامان اکٹھا کیا جاتا ہے۔ رشتوں ناتوں میں ایسے ایسے تماشے لگائے جاتے ہیں کہ زندہ شخص سب رشتے داروں کے سامنے دو وقت کی روٹی سے عاجز ہوتا ہے مگر اس کے مرنے کے بعد دولت مند رشتے دار اپنا شملہ اونچا دکھانے کے لئے، اس کے نام پر انواع کے کھانے تقسیم کرتے اور لوگوں کو حج و عمرہ کرانے میں سکون محسوس کرتے ہیں، حالانکہ مرنے والے کی بیوی اور بچے ان کے سامنے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ 
اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 
پاکستان میں ہر تیسرا شہری ذہنی تنائو کا شکار ہے۔ اس بیماری کا شکار دس سال کے بچے سے لے کر 70 سال کے بزرگ افراد ہیں۔ بظاہر اس کا شکار لوگ تندرست و توانا دکھائی دیتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ یہ بیماری کینسر کی مانند انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کردیتی ہے۔ دس سال کا بچہ جب اپنے ارگرد کسی چیز کو دوسرے بچے کے پاس دیکھتا ہے تو اسے حاصل کرنے کے لئے اپنی خواہش کو ضد اور پھر نہ ملنے پر مایوسی میں تبدیل کرلیتا ہے، یہ مایوسی اس کی عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ شادی ہے، جس میں انتخاب سے لے کر اخراجات تک کے تمام مراحل مایوسی اور بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اور خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ شریکے اور رشتہ داروں کی رسہ کشی نے ہمارے معاشرے کی اکثریت آبادی کو دکھاوے کی ایسی لت ڈالی ہے کہ دن رات کمانے والے افراد بھی فاقہ کشی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ خوشی ہو یا غمی، اپنی ناک کٹنے سے بچانے کے لئے قرض پہ قرض اٹھانا معمول بنالیا ہے۔ قرضوں کے حوالے سے ایسے افراد کی حالت پاکستان سے ذرا بھی مختلف نہیں، انہیں بھی قرض پر سود ادا کرنے کے لئے ادھار اٹھانا پڑتا ہے۔ خواہشات، دکھاوا، مقابلے بازی، ضد اور ہٹ دھرمی نے معاشرے سے اخلاقیات، ہمدردی اور خوف خدا ایسے خیالات کو ناپید کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر طرف افراتفری، بے چینی اور بداخلاقی کا راج ہے۔ اکثر حالات پر 
حکومتوں کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے مگر ان حالات کا تعلق براہ راست افراد کے اپنے رویوں اور سوچ سے ہے، حکومتیں جتنی مرضی تبدیل ہوجائیں جب تک معاشرے میں بسنے والے افراد کی سوچ تبدیل نہیں ہوگی، اُس وقت تک یہ بیمار معاشرہ ٹھیک نہیں ہوسکتا۔
معاشرے کی اس بگڑی حالت کو سدھارنے کے لئے ہر مکتب فکر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کا حل افراطِ زر بڑھانے یا میٹرو ٹرینیں چلانے میں نہیں، بلکہ اس کا حل اس نظام میں پوشیدہ ہے، جو حضور ﷺ نے چودہ سو سال پہلے قائم کیا اور خاندانوں، شریکے برادری اور قبائل میں بٹے معاشرے نے انصار اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنادیا۔ ایسا معاشرہ ریاست مدینہ کہلایا، جہاں، جو اپنے لئے پسند کرو وہ دوسرے بھائی کے لئے بھی پسند کرو، کا پیغام افراد کا نصب العین بن گیا۔ اخلاقیات اور خوفِ خدا کا یہ عالم تھا کہ اپنے حصے کا کھانا دوسرے کو کھلانے والے کی اپنی بھوک ایسے مٹ جاتی، جیسے اس نے معمول سے زیادہ کھالیا ہو۔ ایسی ریاست سے حکیم6 ماہ کے بعد یہ کہہ کر رخصت ہوگیا کہ یہاں کوئی بیمار ہی نہیں ہوتا، مگر افسوس کہ ریاست مدینہ کی طرز پر قائم ہونے والی مملکت خداداد کے باشندے اپنے مسائل کا حل اخلاقیات کے بجائے اقتصادیات میں تلاش کررہے ہیں۔ یاد رہے جب تک اخلاقیات کو درست نہ کیا جائے، تب تک اغیار کی گود سے نکلنا ناممکن ہے۔