23 اپریل 2021
تازہ ترین

گیدڑوں کی آوازیں گیدڑوں کی آوازیں

ہائے ہائے کرتا پاکستان اور ہائے ہائے کرتے عوام کی کوئی سننے والا نہیں۔ 26 افراد کی شہادتیں، 5 سو صفحات، کیس بھی ثابت، لیکن آوازوں کا خوف، ایک بھٹو، ایک ایف آئی آر، زندگی کو پھانسی تک لے گئی۔ ایون فیلڈ، یہ ہیں وہ ذرائع، یہ ہیں وہ رپورٹیں، قطری خط، لیکن ایک اقامہ نااہل کر گیا۔ 320 دن جیل میں بھٹو نے کس تکلیف میں گزارے، اس کا  بیان مشکل ہے۔ بہرحال یہ 33 ملین ڈالر اور 15 سو ڈالر پر بھی پانی پھر جائے گا۔ حکومت کو اور کس طرح کے ثبوت درکار ہوں گے، جس کی بنیاد پر سزا ممکن ہوسکے۔ اچھا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اب دیکھ بھال کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ عمران حکومت کو معاشی مشکلات ضرور ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ان گیدڑوں کی آوازوں کے باعث ہے جو اس ملک کو لوٹنا چاہتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے حوالے سے ایک بڑی خوف ناک وار چل رہی تھی، جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اب اسٹیٹ بینک حکومت پاکستان کے اختیار سے باہر چلاگیا ہے، حکومت پاکستان یا کوئی ادارہ اُس سے سوال جواب نہیں کرسکے گا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پر قابض ہوگیا ہے، گورنر رضا باقر نے صحافیوں سے ملاقات میں ان سوالات کو واضح کیا، جس پر عوام میں بے چینی سی پیدا کی گئی تھی۔ رضا باقر کا کہنا تھا کہ کچھ قانونی ترمیم کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس کو اسمبلی میں منظور ہونا باقی ہے، جس میں ایسی کوئی شق نہیں جو ریاست پاکستان کے قانون کے منافی ہو، کوئی بھی سکیورٹی ادارہ کسی بھی افسر سے معلومات حاصل کرسکتا ہے، لیکن اس سے پہلے اس کو بورڈ کی اجازت درکار ہوگی، بورڈ ممبرز سے بھی انکوائری کی جاسکے گی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہم وفادار ہیں، اپنے وطن کی بہتری کے لئے کام کررہے ہیں، اگر کوئی پالیسی بہتر نہیں ہوگی تو اسمبلی کے پاس اختیار ہے، وہ اس کو تبدیل کرسکتی ہے۔ بات تو واضح ہے کہ اسٹیٹ بینک کے حوالے سے ہونے والی تبدیلی 2015 میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور میں مرتب کی گئی، حکومت پاکستان کے اہم ادارے پی ایس پی سی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، دوسرا حصہ این ایس پی سی کو اسٹیٹ بینک کو فروخت کیا گیا تھا، اب نیو کرنسی ادارہ کو اسٹیٹ بینک کے حوالے کردیا گیا تھا، اُس وقت کہیں بھی کوئی آواز نہیں نکلی، اپوزیشن کس بات کا شور کررہی ہے، یہ آواز تو تب لگانی چاہیے تھی۔
عمران حکومت پر چاروں اطراف سے دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ناکامی کا تصور پیدا کیا جارہا ہے، ابھی تو مسودے کے تیار ہونے سے پہلے ہی اپوزیشن کی طرف سے میڈیا ٹرائل شروع ہوگیا، جس سے بہت سارے معاملات، فائلز کو بریک لگنا شروع ہوجاتا ہے، عمران حکومت کو درپیش بڑا چیلنج صرف اور صرف مہنگائی ہے، باقی کوئی بھی مشکل عمران کو کمزور نہیں کرسکے گی، اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف ان کی وطن کے ساتھ وفاداری اور ایمان داری ہے، اپوزیشن کی طرف سے میڈیا وار جاری تھی، جس میں کہا جارہا تھا کہ عمران خان  کے اپنے لوگوں نے چینی سے مال بنایا، وزیراعظم نے ثابت کیا کہ جو بھی ملک کو لوٹے گا، اس کا احتساب ضرور ہوگا، جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کی طرف سے قانونی اقدامات نے ثابت کیا کہ عمران خان ہمیشہ انصاف کو فوقیت دیتے ہیں۔