22 اپریل 2021
تازہ ترین

’’نرم ہاتھوں‘‘ کی تلاش ’’نرم ہاتھوں‘‘ کی تلاش

پوری دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھنے والا سکندر دنیا سے خالی ہاتھ جانے سے پہلے اپنے استاد ارسطو سے پوچھتا ہے، ’’بابا ریاستیں کب تباہ ہوتی ہیں‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا، ’’جب بادشاہ عوام کی انتڑیوں پر دسترخوان سجانے لگیں۔‘‘ ارسطو کا محولہ بالا جملہ پاکستان کے حالات کا مکمل نقشہ کھینچتے ہوئے بتاتا ہے کہ پاکستانی اشرافیہ تو انتڑیوں سے بھی آگے جاکر ہماری زندہ لاشوں تک کو نوچ رہی ہے اور پھر بھی شکم پُر نہیں ہورہے۔ میں جب بھی بڑی توند والوں کو لش پش کرتی سرکاری خزانے(عوام کے پیسوں) سے خریدی گئی مہنگی گاڑیوں اور مہنگے برانڈز کے سوٹ بوٹ پہنے بڑی شان بے نیازی سے گردنیں اکڑائے بیٹھے دیکھتا ہوں تو مجھے اندازہ لگانے میں ذرا دیر نہیں لگتی کہ ان کی قیمت یہ ظالم حکمران نت نئے ٹیکس لگاکر عوام کے پیٹ سے نکالتے ہیں۔ یہ اس ملک کے حکمران ہیں، جہاں کی بڑی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ، جہاں لوگ دوا اور روٹی کے لئے گردے تک بیچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ہماری اشرافیہ کے بارے میں دنیا بھی یہ کہتی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو ٹیکس ادا نہیں کرتے مگر ہمارے دیے گئے پیسوں سے عیاشیاں کرتے ہیں، دنیا نے ’’اکڑخانوں‘‘ کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان کے لئے کئی امدادی پروگرام بند کردیے، ان کا کہنا ہے کہ کچھ تو خدا کا خوف کرو، عوام کی امانت میں خیانت بند کردو، اگر ایسا نہ کیا تو ہم بھی پھر سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ ان ’’شاہ خرچوں‘‘ کو مزید امداد دینی بھی چاہیے یا نہیں۔  
کچھ عرصہ پیشتر دنیا بھر میں غربت کے خاتمے اور کمی کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے آکسفیم نے مطالبہ کیا تھا کہ کئی دہائیوں سے بڑھتی ہوئی غیر مساوی تقسیم کو ختم کرنے کے لئے ایک عالمی سمجھوتہ کیا جائے۔ آکسفیم نے ورلڈ اکنامک فورم پر جمع ہونے والے عالمی رہنماؤں کو تجاویز دی تھیں کہ عالمی سطح پر کارپوریشنز پر ٹیکس کی شرح، عوام کی مفت فلاحی سروسز میں زیادہ سرمایہ کاری کی جائے اور بے روزگار لوگوں، بیماروں کے لئے زیادہ تحفظ فراہم کیا جائے۔  اس تنظیم کا یہ بھی کہنا تھا، عالمی رہنما نظام میں اصلاحات کریں، تاکہ یہ صرف عالمی اشرافیہ کے لئے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے مفادات کی خاطر کام کرے۔کیا پاکستان کی اشرافیہ کو بھی کوئی یہ احساس دلاسکتا ہے کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم معاشروں میں ٹوٹ پھوٹ کا باعث بننے کے ساتھ تباہی بھی لاتی ہے، ہمارا معاشرہ اس کی زندہ مثال ہے، حالات اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ اشرافیہ نے اگر حالات کی سنگینی کا احساس نہ کیا تو ممکن ہے انقلاب پرانے لوگوں کو مارنے سے نہیں ’’نرم ہاتھوں‘‘ کی تلاش سے شروع ہوجائے، جن کے دسترخوان تو انواع اقسام کے کھانوں سے سجے ہوتے ہیں، لیکن عوام کو مشورہ ’’ایک روٹی‘‘ کھانے کا دیتے ہیں۔ اس لئے انتڑیوں پر دسترخوان سجانے کی روش کو ختم کردینے میں ہی بھلائی نظر آتی ہے، اگر کوئی سمجھے تو…!
ہمارے ملک میں تو غربت کا نام و نشان دُور دُور تک نہیں ہونا چاہیے، اس لئے کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں دودھ، آم، پیدا کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر ہے جب کہ پاکستان ان تمام لوازمات، نعمتوں، وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے، جن کی بدولت یہ صرف خطے ہی نہیں بلکہ یورپی یونین کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کپاس پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا، گندم پیدا کرنے والا آٹھواں اور چاول پیدا کرنے والا دسواں بڑا ملک ہے۔ رقبے کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس کا شمار 34ویں، زرخیز زمین کے حوالے سے 52ویں، آبادی کے حوالے سے چھٹے، افرادی قوت کے حوالے سے 10ویں جب کہ گیس کے ذخائر کے حوالے سے 29ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں 185 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں، جن کی اندازاً مالیت کئی ٹریلین ڈالر ہے اور ان ذخائر سے 100 سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، اسی طرح سونے، چاندی، تانبے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے وسیع ذخائر ہیں، جن کی مالیت بلاشبہ کھربوں ڈالر ہے۔ پاکستان کی بندرگاہوں کا شمار دنیا کی بڑی پورٹس میں ہوتا ہے اور یہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک کا گیٹ وے ہے۔ اس لحاظ سے تو ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں شامل ہونا چاہیے، برآمدات، توانائی کی پیداوار، جی ڈی پی، صنعتوں کی ترقی، تعلیم اور صحت سمیت ہر حوالے سے ہمارا شمار کم از کم 20 ٹاپ ممالک میں ہونا چاہیے، لیکن ایسا بالکل بھی نہیں۔ فی کس جی ڈی پی کے حوالے سے ہم دنیا میں 135ویں، شرح خواندگی کے حوالے سے 159ویں، برآمدات کے حوالے سے61ویں، ماحولیات کے حوالے سے 131 ویں درجے پر ہیں، آسان کاروباری ماحول والے ممالک میں ہمارا شمار 76ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ پانی ہمیں بے تحاشا میسر ہے، لیکن ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی قلت ہے، چنانچہ ہر سال ساڑھے تین کروڑ ایکڑ فٹ سے زائد پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے، دوسری طرف نو ملین ہیکٹر زرخیز زمین پانی نہ ہونے سے بیکار پڑی ہے۔ 
کیا یہ ظلم عظیم نہیں کہ لاتعداد کم سن بچوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا بھی دستیاب نہیں، یہ بچے شدید گرمی اور سردی میں تن ڈھانپنے کے لئے دو گز کپڑوں کے لئے بھی ترستے ہیں، چھت اور چار دیواری سے بھی محروم ہیں، علاج معالجے کا سوچ بھی نہیں سکتے، جن کے بچے حصولِ تعلیم کے خواب دیکھنے کے بھی روادار نہیں، پاکستان کی لے پالک اشرافیہ اور حاکموں کے کرتوتوں سے ایسا ملک جہاں قدرت کی فیاضی پر دنیا بھر کی مملکتیں انگشت بدنداں ہیں، وہاں اکثریتی آبادی کو اپنے ہی ملک کی پیداوار میسر نہیں، یہاں ارض وطنِ میں بہت بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے، جن کا کوئی پرسان حال نہیں، جن کی حالت کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہے۔ تنگ وتاریک گلیوں، کچی بستیوں اور جھونپڑیوں کے یہ مکین کہنے، سننے اور دیکھنے کی حد تک تو پاکستانی ہیں، لیکن کھلی اور واضح حقیقت تو یہی ہے کہ ان کا پاکستان کے وسائل اور دولت میں کوئی حصہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ان کا نصیب ہے؟ اگر یہ ان کا نصیب نہیں تو پھر یہ اپنا نصیب بدلتے کیوں نہیں، کسی نے کہا تھا کہ غریب پیدا ہونا کوئی جرم نہیں مگر غریب مرنا جرم ہے۔