22 اپریل 2021
تازہ ترین

پی ڈی ایم بھی بے مقصد اتحاد ثابت ہوا پی ڈی ایم بھی بے مقصد اتحاد ثابت ہوا

فکر کرنے کی حیران کن ضرورت ہے کہ پاکستان میں اب تک جتنے بھی سیاسی اتحاد قائم ہوئے ہیں، سب کا انجام یا خاتمہ بالخیر کیوں نہیں ہوا؟ وہ اپنا مقصد حاصل کیے بغیر باعث نفاق ختم ہوگئے۔ اتحاد تو خوشی خوشی بن جاتے یا بنالئے جاتے ہیں، لیکن راستے میں ایسے اندھے موڑ آجاتے ہیں، جن سے حادثہ ہوجاتا ہے۔ کیا یہ سیاست دانوں کی ذاتی مفاد پرستی ہوتی ہے یا نادانی، جو سیاسی اتحاد کو ڈھادیتا ہے۔ موجودہ پی ڈی ایم میں جو کچھ ہورہا ہے، کیا یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے سیاست داں اتحاد بنانے میں مخلص تھے۔ حکومتی عناصر کی بات میں اب وزن محسوس ہوتا ہے کہ اتحاد اپنے اپنے عیوب چھپانے اور خود کو احتساب سے بچانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ ملک میں جمہوریت کی بحالی عوام کو بہلانے کے لئے محض ایک نعرہ تھا۔ مولانا کو پیپلز پارٹی کے پہلے سے نظر آنے والے رویے سے ایسا دھچکا لگا کہ بخار ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ مریم کو بھی دھچکا لگا، لیکن انہوں نے اپنے غم اور غصے پر بظاہر قابو پالیا اور ان کے بارے میں طرح طرح کی خبریں گردش میں ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے حصول میں ناکامی کے بعد یوسف رضا گیلانی کا قائد حزب اختلاف منتخب ہونا پی ڈی ایم میں دراڑ کا آغاز بنا، جو بڑھتے بڑھتے ایک طرح سے اس کے عملاً خاتمے کا سبب بن گیا۔ بلاول کا کہنا ہے کہ جنہوں نے گیلانی کو نااہل کروایا، انہی کے ووٹوں سے ہم گیلانی کو پارلیمنٹ میں لے آئے۔ وہ گیلانی کی کامیابی کو پیپلز پارٹی کی بڑی کامیابی تصور کررہے ہیں، حالانکہ یہ پی ڈی ایم کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ بیانات کے تبادلوں سے صاف نظر آتا ہے کہ دلوں سے کدورتوں کی صفائی نہیں ہوئی تھی کہ اتحاد بنالیا گیا۔ 
کیا موجودہ پی ڈی ایم بنانے والی جماعتوں میں کوئی اتفاق تھا کہ وہ اس ملک میں جمہویت کی روح کے تناظر میں جمہوریت کا قیام چاہتے تھے یا صرف کسی کے ہاتھوں کٹھ پتلی یا ’’گماشتہ‘‘ تھے۔ ایوب دور میں بھی قائم ہونے والے اپوزیشن اتحاد کو سیاست دانوں کے درمیاں اختلافات اور نااتفاقی نے ختم کردیا تھا۔ کیا پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت کا قیام ہی اس کا نصب العین ہے، تو پھر (ن) لیگ اور پی پی کو باہر نکال کر باقی لوگ ملک بھر میں رائے عامہ ہموار کریں۔ مولانا کیوں یہ تہمت برداشت کرتے ہیں، ان کی سربراہی میں قائم ہوا سیاسی اتحاد آپس کے نفاق کی نذر ہوگیا۔ مولانا کیوں بچوں کے ہاتھوں رسوا ہوئے۔ بلاول اور مریم نے سوائے وقت ضائع کرنے کے کچھ نہ کیا۔ کسی تاریخی قربانی کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی سامان پیدا کیا۔ نہ ایسے نقش چھوڑے کہ جو نشان سمجھے جاتے۔ (ن) لیگ کے ترجمان ہوں یا پیپلز پارٹی کے ترجمان، سب ہی اپنی اپنی جماعت کے موقف کو درست ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور الزاامات کے تبادلے ایک دوسرے کو کسی چوراہے پر رسوا کررہے ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے، جس کے دعوے دار یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں۔ دونوں طرف سے ’’ماسٹروں‘‘ کی رائے ٹھونس دی جاتی ہے، جسے سیاست میں سرگرم لوگ پھیلانے کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ اگر یہی سیاست ہے تو پھر عوام کو کیوں ذہنی انتشار میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ کیا یہ سب کچھ کسی طاقتور حلقے کی کوشش تھی کہ عوام میں موجودہ حکومت کے خلاف خصوصاً روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی مہنگائی پر غم و غصہ کم کرایا جاسکے۔ سب کچھ گفتار کے غازی والا معاملہ ثابت ہوا۔
بلاول بھٹو کا کہنا کہ پیپلز پارٹی اکیلے بھی اس حکومت سے لڑنے کے لئے تیار ہے۔ (ن) لیگ کا دعویٰ کہ پی پی کو نکال کر پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کام کریں گی۔ یہ دعویٰ کہاں تک منزل کی طرف گامزن ہوسکتا ہے؟ اس دوران سینیٹ میں 
مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، پی کے میپ، بی این پی مینگل اور نیشنل پارٹی بلوچستان کے ارکان کا علیحدہ گروپ تشکیل دینا، سینیٹ میں گیلانی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرنا، پیپلز پارٹی کے رہنما نیّر بخاری کا کہنا کہ ہمارے پاس بہت باتیں ہیں لیکن خاموش ہیں، ہم کسی کے ماتحت نہیں کہ یہ شوکاز نوٹس دینے کی بات کررہے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ پی ڈی ایم کا جنازہ نکلے۔ ان کا کہنا کہ دو جماعتیں فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہیں، پیپلز پارٹی کسی کے فیصلے مسلط نہیں ہونے دے گی۔ ہم ڈیل پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ڈھیل پر۔ ڈیل وہ کرتے ہیں جو 2019 میں ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ نواز شریف کو تو یہ الزام طویل عرصہ تک برداشت کرنا پڑے گا۔ اگر انہیں پاکستان میں جمہوریت کا قیام عزیز ہے تو انہیں ملک واپس آنا اور کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ سات سمندر دُور بیٹھ کر ٹیلی فون کے ذریعے بیانات کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ انہیں اپنی بیٹی، جسے وزیراعظم بنانے کی خواہش ان کے دل میں طویل عرصے سے مچل رہی ہے، کو پارٹی پر تھوپنا نہیں چاہیے تھا۔ ان کے بھائی موجود تھے۔ وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں، مریم اور ان کا کیا مقابلہ۔ لیکن نواز شریف تو ہمیشہ اپنے ہی خاندان اور رشتہ داروں کو ان کے حقوق سے محروم کرتے آئے ہیں۔ مشرف دور میں تو وہ اپنے خانسامائوں اور خصوصی ملازمین کی فوج تک اپنے سامان کے ساتھ سعودی عرب لے گئے تھے اور پاکستان میں اپنی جماعت کے لوگوں کو ’’جمہوریت کی بحالی‘‘ کے کام پر لگادیا تھا۔ اگر ان کی سیاسی جماعت سے وابستہ لوگ 2021 میں بھی یہی سمجھتے ہیں کہ بیرون ملک بیٹھا شخص ان کی رہنمائی کرسکتا ہے تو پھر ایسے افراد کے بارے میں کیا کہا جائے۔ 
پاکستان کی سیاسی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہاں سیاست کرنے والا دولت مند طبقہ جمہوریت اپنی پسند کی چاہتا ہے، حکومت تو اپنی چاہتا ہی ہے۔ سرکاری ملازمین اپنے ذاتی ملازمین جیسے چاہتا ہے، عوام کا ذکر کیا کریں، وہ تو خوامخواہ بدنام ہیں۔