22 اپریل 2021
تازہ ترین

وقف پراپرٹیز ایکٹ اور چند گزارشات وقف پراپرٹیز ایکٹ اور چند گزارشات

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ہدایات پر پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچانے کے لئے مذہبی جماعتوں کے گرد گھیرا تنگ کیا، ساتھ ہی مذہبی مقامات، مساجد، مدارس اور خانقاہوں سے متعلق ستمبر 2020ء میں قومی اسمبلی میں وقف پراپرٹیز ایکٹ 1979ء میں ترامیم کا بل پیش کیا، جسے وقف پراپرٹیز ایکٹ 2020 کا نام دیا گیا، اراکین قومی اسمبلی نے اس بل کو منظور کرلیا تو دیگر صوبوں کی اسمبلیوں میں بھی اسے اکثریت سے منظور کرالیا گیا، حیرت انگیز طور پر چھ ماہ گزرنے کے باوجود قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی اکثریت تاحال اس بل سے لاعلم ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بل عجلت میں پیش کیا گیا، جس میں بظاہر اراکین اسمبلی کا اعتماد اور رضامندی شامل نہیں، وقف پراپرٹیز ایکٹ 2020 کے حوالے سے چھ ماہ بعد تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ میں تشویش کا آغاز ہوگیا ہے، بالخصوص اہل سنت کے علماء و مشائخ شدید احتجاج کررہے ہیں، مگر یہ احتجاج ماضی کی طرح بند کمروں، اجلاسوں کے اعلامیے اور پریس ریلیز کی حد تک ہے، کوئی عملی قدم اٹھانے کی حکمت عملی نظر نہیں آرہی، مفتی منیب الرحمٰن کے مطابق اس بل کی تیاری کا علم ہوا تو غیر رسمی ملاقات میں انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرسے باضابطہ ملاقات کا وقت مانگا اور گزارش کی کہ علماء کی رائے لے کر بل کو حتمی شکل دی جائے، مگر معلومات یہ ہیں کہ سپیکر قومی اسمبلی اور علماء کی کوئی مشاورتی میٹنگ نہ ہوسکی، اس غیر رسمی ملاقات میں مفتی حنیف جالندھری اور مفتی تقی عثمانی بھی موجود تھے، گو صرف ایک مکتب فکر کو اس بل سے متعلق 
تشویش نہیں، تمام مکاتب فکر اس مسئلے پر متفق ہیں۔
خیر حکومت فیٹف کی ہدایات پر اسے ہر طور نافذ کرنا چاہتی ہے، تاکہ پاکستان گرے لسٹ سے باہر آئے، حکومت کے نزدیک فیٹف کی تمام شرائط تسلیم نہ کی گئیں تو پاکستان کے لئے بین الاقوامی سطح پر مسائل پیدا ہوں گے اور ملک تنہا رہ جائے گا، سو کسی بھی قیمت پر گرے لسٹ سے نکلنا ہوگا، کیونکہ خطہ ایشیا بالخصوص بھارت کی نظریں اس وقت پاکستان کو ڈیفیٹ کرنے پر ہیں، جس کے لئے وہ ہر حربہ استعمال کررہا ہے، وقف پراپرٹیز ایکٹ 2020 کی مختلف شکلیں ہیں، یہ کہہ لیں کہ اسلام آباد، پنجاب، کے پی کے، سندھ، بلوچستان کے لئے الگ الگ بل ڈرافٹ کیے گئے ہیں، ان میں سب سے زیادہ تشویش کا باعث اسلام آباد کا ایکٹ ہے، جس میں سخت پابندیاں اور شرائط شامل کی گئی ہیں، پنجاب حکومت کے شعبۂ اوقاف نے تو باقاعدہ عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے، ایک اخباری اشتہار کے ذریعے ملک بھر میں موجود روحانی، علمی اور محبت و عقیدت کے مراکز عظیم 
صوفیاء کے آستانوں پر روشنی اور محبت پھیلانے والے مشائخ اور سجادگان کو ’’منیجر‘‘ بنادیا گیا ہے، یعنی اب ایک خانقاہ کے سجادہ نشین کا سٹیٹس اکتوبر 2020 سے ایک ’’منیجر اوقاف‘‘ کا ہے اور یہ ایسے منیجرز ہوں گے، جن کی کوئی تنخواہ بھی مقرر نہیں کی گئی، پنجاب وقف پراپرٹیز ایکٹ 2020 کی رو سے مساجد، مدارس، خانقاہوں اور امام بارگاہوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے، بل  کے متن میں بالخصوص بیرونی فنڈنگ اور نذرانوں کی تفصیلات سے آگاہ رکھنے کا سختی سے حکم دیا گیا ہے، مزارات کی زمین وقف کی تحویل میں ہوں گی، مزارات میں کام کرنے والے سٹاف سے لے کر کرسی میز کتنے ہیں، تک کا حساب کتاب رکھا جائے گا، نذرانوں کے ذریعے خدمت کرنے والے پیر بھائیوں کو بھی محتاط رہنا ہوگا، مزارات پر صدیوں سے جاری لنگرخانوں کا بھی چیک اینڈ بیلنس قائم کیا جائے گا، دربار شریف کا سجادہ نشین اوقاف ایڈمنسٹریٹر کے ماتحت ہوگا، جس سے کسی بھی وقت پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے، اسی طرح مساجد کی کمیٹیاں تحلیل ہوں گی اور امام و خطیب اوقاف نمائندے کے ماتحت ہوں گے، قریباً یہی احکامات امام بارگاہوں اور مدارس کے لئے ہیں۔
وقف پراپرٹیز ایکٹ 2020 اسلام آباد کا متن زیادہ تشویش ناک ہے، جس میں مقررہ مدت کے اندر مدارس کی رجسٹریشن نہ کرانے کی صورت یومیہ ایک لاکھ جرمانہ اور رجسٹریشن سے انکار کی صورت ایک سے پانچ سال قید کی سزا اور پچاس لاکھ تک جرمانے عائد ہوں گے، سالانہ آمدن اخراجات کا حساب دینا ہوگا، حساب کتاب برابر نہ آنے کی صورت تین گنا رقم ادا کرنا ہوگی، جمعہ کے خطبات کی اجازت لینا ہوگی اور متن پہلے ایڈمنسٹریٹر سے منظور کرانا ہوگا، مذہبی تقریبات اور ثقافتی پروگرامز کی بھی اجازت لینا ہوگا، وقف پراپرٹیز کو کسی بھی وقت فروخت بھی کیا جاسکتا ہے اور حاصل شدہ رقم کسی بھی مقصد کے لئے حکومت استعمال کرسکتی ہے جو سراسر غیر شرعی فعل ہے، مختصراً یہ بل مذہبی خودمختاری سلب کرنے کے لئے نافذ کیا گیا ہے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا مدعا صرف بیرونی فنڈنگ اگر وہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہورہی ہے تو اسے روکنا ہے، اگر ایک سادہ رائے کی بات کی جائے تو صوفیاء اور اولیاء عظام سے عقیدت رکھنے والے مکتب فکر کا اس بل سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ عقل سے بالا ہے، مکمل وثوق سے عرض ہے کہ یہ نہایت پُرامن اور محبت والے لوگ ہیں، ان کا کام بیرونی فنڈنگ پر پلنا نہیں بلکہ اپنا پیٹ کاٹ کر مخلوق خدا کو دن رات لنگر کھلانا ہے، ان آستانوں پر بلارنگ، نسل و مذہب روٹی تقسیم کرنے کا کام صدیوں سے جاری ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کو اس معاملے میں خود دلچسپی لینی چاہئے اور علماء و مشائخ کے خدشات کا ازالہ کرنا چاہیے، اولاً فی الفور جرمانوں اور سزاؤں کو ختم کرنا چاہیے، تاکہ علماء و مشائخ کی تضحیک کا سلسلہ رک سکے، دوم وزارت قانون اور وزارت داخلہ کے اراکین سمیت ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے، جس میں علماء و مشائخ کو حصہ بناکر اس بل پر نظرثانی کی جانی چاہیے، سوم منیجر کا سٹیٹس ختم کرکے سجادگان کا عظیم سٹیٹس بحال کیا جانا چاہیے، چہارم منی لانڈرنگ سے بابت تحقیقات اور جانچ پڑتال ضرور کی جانی چاہیے، تاہم اس معاملے میں بلاوجہ تنگ کرنے سے گریز کیا جائے۔
بیرونی غیر قانونی فنڈنگ والے مدارس کی باز پرس ضروری ہے، عجلت کے فیصلے کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ فی الحال ملک میں صرف ایک طبقہ پُرامن اور احتجاج کی سیاست سے کوسوں دُور ہے اور وہ علماء و مشائخ ہیں، اطلاعات کے مطابق مشائخ نے مشاورت کا سلسلہ تیز کیا ہے، شاید رمضان یا فوری بعد ایک تحریک کا بھی آغاز ہو، اسی سلسلے کی کڑی میں سابق وزیر مملکت پیر امین الحسنات شاہ نے ایک اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا، دربار حضرت خواجہ محمد یار فریدیؒ کے سجادہ نشین خواجہ غلام قطب الدین فریدی بھی اس بل سے بابت ملاقاتوں اور پریس میں شدید احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ تو عدالت سے رجوع کررہے ہیں کہ شاید وہاں سے انصاف مل جائے، کے پی کے سے تحریک پاکستان میں کردار ادا کرنے والے آستانے مانکی شریف سے پیرزادہ محمد امین بھی آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے خیبر پختون خوا کے مشائخ کو آئندہ ہفتے جمع کررہے ہیں، لاہور میں تحفظ ناموس رسالت محاذ اور پاکستان سنی تحریک نے بھی احتجاج کا اعلان کررکھا ہے، اسی طرح دیگر مکاتب فکر کا بھی سخت موقف سامنے آیا ہے، جس سے ہر طرف بے یقینی کی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا ارباب اقتدار اس مسئلے کا مناسب حل علماء و مشائخ کی مشاورت سے طے کریں، تاکہ ملک انارکی کی کیفیت سے دوچار نہ ہو اور پاکستان عملاً ریاست مدینہ کی تصویر پیش کرے۔


Z