22 اپریل 2021
تازہ ترین

پاکستان کے شمال کا بلاوا پاکستان کے شمال کا بلاوا

برف رُت کے جاتے ہی دنیا بھر کے مثبت آوارہ گرد پاکستان کے نقشے سامنے سجاتے ہیں اور شمال کی فطری دلہن اپنے سارے حجاب اٹھادیتی ہے۔ اب وہی رُت آچکی اور وبا نے پھر سال رفتہ کی طرح پاؤں میں ایس او پیز کی زنجیر سجا رکھی ہے۔ سیاحت سے رواں زندگی کے تین ماہ میں سال بھر کا رزق کشید کرنے والے پہاڑی لوگ گزشتہ سال بھی بہت متاثر ہوئے کہ جب بالا کوٹ کے دروازے ہی بند تھے تو پھر سیاحت کیسی؟
شمال کی طرف جانے والے راستے برفوں کے پگھل جانے کے بعد کھلتے ہیں اور پھر مُرادیں بر آتی ہیں کہ بہرحال پہاڑوں کے سلسلے کوہ طور سے ملتے ہیں، غار حرا سے مماثلت رکھتے ہیں۔ سال بھر سیاست پر چھائی ہوئی دھند کے چھٹنے کا انتظار کرنے والے مایوس نہ ہوں، کیونکہ اب سیاسی دھند چھٹے نہ چھٹے مگر روح تک کو تسکین عطا کرنے والی فطری دھند نقاب سرکائے جاتی ہے، برف کا عرق رخساروں کو یوں نکھارے جاتا ہے جیسے پھولوں کو شبنم نکھارتی ہے۔
اپنے ہی کچھ لمحات خود اپنے سپرد کرنے کے لئے وہ وادیاں اپنی جانب بلاتی ہیں، جنہیں تخلیق کرنے والے نے صرف ہمارے لئے بنایا بھی ہے اور پھر سجایا بھی ہے۔ جاپان، جرمن اور کینیڈا سے ہی لوگ وہاں کیوں جاتے ہیں، ہم کیوں نہیں جاسکتے کہ یہ جھیلیں، آبشاریں، جھرنے، گلیشیئرز اور چوٹیاں ہماری ہیں۔
دریائے سندھ جہاں چلاس کی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس سے ذرا آگے کچھ بلندی پر پریوں کی چراگاہ ہے، جسے جرمن کوہ پیما نے برسوں پہلے دیکھا اور فیری میڈوز کا نام دے دیا۔ رائے کوٹ گلیشئیرز سے اوپر فیری میڈوز کے جنگل زمین پر جنت کی اعلیٰ مثال ہیں کہ دونوں کا خالق ایک ہی ہے۔ پھر نانگاپربت کا چاندی جیسا وجود آپ کو مقناطیس کی مانند کھینچتا ہے۔ اگر اس سے بھی بڑھ کر نشہ درکار ہو تو گلگت سے پہلے شاہراہ قراقرم کو ترک کردیا جائے اور سکردو کی طرف دریائے سندھ کے ساتھ قدرت کے حُسن بے مثال کو یوں دیکھا جاسکتا ہے کہ آپ کے اندر کی دائمی تھکن بھی دم توڑ دے۔ دنیا کا بلند ترین میدان دیوسائی بھی سیکڑوں رنگوں کے ہزاروں پھول اپنے وجود پر کاڑھے ہمارا منتظر ہے۔ پتھروں کا سینہ چیرتی ندیاں تب سے رواں ہیں جب سے یہ کائنات بنائی گئی ہے۔
استور کے پہلو میں راما جھیل تو ابھی تک کنواری ہے۔ پاکستان کا خوبصورت ترین گاؤں ترشنگ بھی نانگا پربت کے روپل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ سارے مناظر برسوں سے مسلط سیاسی سکوت کے خلاف برداشت پیدا کرنے کے لئے ایک موثر نسخہ ہیں۔
گلگت سے چترال کی طرف جائیں تو غذر کا علاقہ پاکستان کا دلکش خطہ ہے، جہاں دریائے غذر بہتا نہیں بلکہ آپ سے کلام کرتا ہے۔ پھنڈر کی وادی اپنی مثال صرف آپ ہی ہے۔ یہیں کہیں ضلع شگر بھی ہے، جہاں دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو ہے اور پھر ضلع نگر کی دودھیا دلہن راکا پوشی بھی آپ کو اپنی آغوش میں لے سکتی ہے۔ شمشال کا گاؤں نصیب والوں کے حصے میں آتا ہے۔
شمال کی ایک سو ساٹھ آبشاریں، اکسٹھ جھیلیں، انہتر گلیشئیرز، چودہ برفیلے وجود اور خوبصورت دریا صرف ہمارے وطن کا نصیب ہیں اور ہم بغیر ویزے کے انہیں اپنی آنکھوں کے راستے یادداشت میں اتار سکتے ہیں۔ پھر جب بھی ہمیں دولت کی غیر مساوی تقسیم، اداروں کی باہمی رسّہ کشی اور حبس زدہ سیاسی ماحول بے چین کرنے لگے تو ذہن کے میموری کارڈ سے فطرت کا فریم نکال کر سامنے رکھیں اور آب حیات پی لیں۔
اگر برف پگھلنے کے موسم میں گلگت جانا مشکل لگے تو اسلام آباد سے چند گھنٹوں کی مسافت پر آزاد کشمیر کے شہر مظفرآباد سے ہوتے ہوئے دواریاں پہنچیں اور درجنوں آبشاروں میں پروئے ہوئے رستے پر رتی گلی جھیل پر تیرتے برف کے راج ہنس دیکھیں۔ دھند میں لپٹی دلہن کا نقاب صرف ہوا سرکاتی ہے تو فطرت مسکراتی ہے۔ وادیٔ شونٹر، دومیل اور تاؤ بٹ کے نظارے آپ اپنا بدل ہیں۔ خنجراب پاس کی طرف جاتے ہوئے عطا آباد جھیل بھی سیاحوں سے گفتگو کرتی ہے۔ راکاپوشی کے سبھی بیس کیمپ نئی دنیا آباد رکھے ہوئے ہیں۔ شفاف پانی لئے دریا ہر وادی کا حُسن لازوال ہیں۔
اور اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر صرف سیاسی حبس سے مایوسی کیسی؟ پھر اندر کا خالی پن کیوں؟ ہم انہیں نظاروں میں چند دن گزار کر بہت سی الجھنیں برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ ضروری تو نہیں کہ ایک ایسے موضوع پر ہی بات کی جائے جو اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے مشکلات پیدا کرے۔ ہم پھولوں، تتلیوں اور خوشبوؤں پر بات کرکے بچ بچاکر نکل سکتے ہیں۔ حقائق پر پڑا ہوا دھند کا لحاف اترے نہ اترے مگر برف کی چادر اتر چکی اور شمال سے بلاوے آتے ہیں۔
سال بھر کی تھکن اتارنے کے لئے دس دن کی ریاضت کافی ہے۔ دنیاداری کا میل اتر سکتا ہے، اگر چند دن ہم اپنے لئے گزاریں۔ ہم اکثر ناگفتہ باتیں کرکے خود کو امتحان میں ڈالتے رہتے ہیں مگر اب کبھی نہیں کیونکہ بات تو اس طرح بھی ہوسکتی ہے، جیسے یاقوت کی سل چیر کے کوئی جھرنا پھوٹے۔ ہم فطرت پر بات کرکے بہت سے غیرفطری نتائج سے بھی بچ سکتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ پرندوں، جانوروں، درندوں اور سانپوں پر جی بھر کر لکھا جائے، کیونکہ درندے اور جانور گالیاں نہیں دیتے اور سانپ گولی نہیں مارتے۔