23 اپریل 2021
تازہ ترین

خوراک میں ملاوٹ کی پہچان کیسے کی جائے؟ خوراک میں ملاوٹ کی پہچان کیسے کی جائے؟

دینِ اسلام میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ کی سختی سے نفی کی گئی ہے۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے، جس نے ملاوٹ کی، وہ ہم میں سے نہیں۔ حضرت شعیبؑ کی قوم ملاوٹ، دھوکہ دہی اور ناپ تول میں کمی جیسی برائیوں کا شکار تھی، اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا اور پوری قوم کو اس برائی کے سبب برباد کردیا۔ آخر ملاوٹ سے کیا مراد ہے؟ اور ہمارے مذہب میں اس کی اتنی سختی سے ممانعت کیوں کی گئی ہے؟ ہر وہ عمل جس میں خوراک سے کوئی ضروری جزو نکال لیا جائے، یا کچھ غیر ضروری چیز شامل کردی جائے، ملاوٹ کہلاتی ہے۔ ملاوٹ کی نشان دہی کرنا مشکل ہوتا ہے۔ خوراک میں ملاوٹ بعض دفعہ ارادی طور پر بعض دفعہ غیر ارادی طور پر اور یا پھر قدرتی طور پر بھی واقع ہوجاتی ہے، مگر ہر صورت یہ انسانی جان کے لئے خطرے کا باعث بنتی ہے، مگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو یہ برائی ہمیں ہر جگہ عام دکھائی دے گی اور لوگ اسے برا بھی نہیں سمجھتے۔
ملاوٹی اشیاء کے استعمال سے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جیسا کہ انسانی جسم میں زہر کی سرایت، جسم کا مفلوج ہونا اور بعض صورتوں میں ملاوٹ انسان کی جان بھی لے لیتی ہے۔ اس لئے صحت مند معاشرے اور نسلوں کو پروان چڑھانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ناصرف خوراک میں ملاوٹ کی نشان دہی کی جائے، بلکہ ملاوٹ مافیا کی سختی سے سرکوبی کی جائے۔ خوراک میں ملاوٹ شدہ زہریلے مواد سے دل کے امراض بالخصوص دل کے دورے، جگر کی خرابی، گردوں کے مسائل اور دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ملاوٹ سے خوراک کی غذائی افادیت بھی کم ہوجاتی ہے، جس سے انسان میں غذائی اجزاء کی کمی ہوجاتی ہے، اس سے انسان کی قوت مدافعت بھی کم ہوجاتی ہے، جو بیماریوں کو دعوت دینے کا باعث بنتی ہے۔
ہمارے روزمرّہ معمول میں کچن میں استعمال ہونے والے چند بنیادی مسالہ جات اور اشیائے ضروریہ میں ملاوٹ چیک کرنے کے چند بنیادی طریقے یہ ہیں۔ ہلدی کا استعمال ہر گھر میں لازمی کیا جاتا ہے اور اس کے صحت کے لئے بیش بہا فائدے ہیں، لیکن بدقسمتی سے جب اس میں ملاوٹ کی جاتی ہے، خاص طور پر عام مصنوعی رنگ سے لے کر مالٹے رنگ کی دال تک شامل کی جاتی ہے تو اس کی افادیت مضر صحت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ہلدی میں شامل ملاوٹ کو چیک کرنے کا بہت آسان طریقہ یہ ہے کہ پانی کے گلاس میں ایک چمچ ہلدی ڈال کر دیکھیں اگر اس کا رنگ جلدی چھوٹ جائے یا اس کی کچھ ذرّات دوسروں سے الگ ہوکر نیچے بیٹھ جائے تو یہ ملاوٹ کی نشان دہی ہے۔ اس قسم کی ملاوٹ شدہ ہلدی کا استعمال معدے کے السر اور کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
آئس کریم میں واشنگ پاؤڈر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ملاوٹ کو چیک کرنے کے لئے لیموں کا جوس کریم کے اوپر ڈال کر دیکھیں، اگر یہ بلبلے بنائے یا اس کی خاصیت تبدیل ہوجائے تو اس میں واشنگ پاؤڈر شامل کیا گیا ہے۔ ایسی آئس کریم کے استعمال سے معدے اور جگر کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ کالی مرچوں میں پپیتے کے بیج ڈال کر فروخت کرنا بھی عام ہے، جس سے جگر اور معدے کے امراض جنم لیتے ہیں، اس میں ملاوٹ کو چیک کرنے کے لئے ثابت کالی مرچوں کو پانی کے گلاس میں ڈالیں، مرچ پانی میں ڈوب جائیں گی جب کہ پپیتے کے بیج تیرنے لگیں گے، کیونکہ وہ وزن میں ہلکے ہوتے ہیں۔ 
کافی کے پاؤڈر میں املی کے بیج کو پیس کر شامل کردیا جاتا ہے۔ ایسی کافی کو چیک کرنے کے لئے اگر پانی کے گلاس میں ڈالا جائے تو کافی پانی پر تیرنے لگتی ہے جب کہ بیج پانی میں نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور ان کا رنگ بھی چھوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح چینی میں چونے کے اجزاء بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ ایسی چینی کو پانی میں حل کریں تو چینی نیچے بیٹھ جاتی ہے اور پانی میں امونیا کی بدبو بھی آتی ہے۔ شہد کو صحت کے لئے بہت مفید سمجھا جاتا ہے، لیکن حیف ہے کہ اس مفید خوراک کے اندر بھی ملاوٹ عام ہے۔ شہد میں ملاوٹ چیک کرنے کے لئے ماچس کی تیلی پر لگاکر اس کو جلائیں۔ خالص شہد کی صورت یہ جل جائے گی جب کہ ملاوٹ شدہ شہد کی صورت ماچس کی تیلی پانی کی وجہ سے نہیں چلے گی۔
ساگودانہ میں ٹیلکم پاؤڈر اور ریت کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ ایسے ساگودانہ میں ملاوٹ چیک کرنے کے لئے اس کو اگر جلایا جائے تو یہ پھول جاتا اور راکھ باقی رہ جاتی ہے جب کہ خالص ساگودانے کی صورت راکھ باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح نمک کے اندر چونا ملایا جاتا ہے، ایسے نمک کو اگر پانی میں حل کرکے دیکھیں تو چونا نیچے بیٹھ جاتا جب کہ نمک پانی میں حل ہوجائے گا۔ اسی طرح سبزیوں کو خصوصاً ہری سبزیوں جیسا کہ ہری مرچ اور مٹر وغیرہ پر مصنوعی رنگ چڑھادیا جاتا ہے، جو زہریلے مادوں پر مبنی ہوتا اور انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔
صوبے میں عوام کی صحت و تندرستی اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا عزم ہے۔ وزیر خوراک بھی ملاوٹ مافیا کی سرکوبی کے لئے بھرپور سرگرم عمل ہیں۔ اس سلسلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں سرانجام دینے کے لئے حکومت کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی رفاقت علی نسوانہ صوبے بھر میں ملاوٹ مافیا کی سرکوبی کے لئے شبانہ روز مصروف عمل ہیں۔ اس حوالے سے چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کاوشوں کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آپ عہدہ سنبھالنے سے اب تک ادارے کی سربراہی کے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ملاوٹ مافیا کے قلع قمع کے لئے ہر حربہ استعمال کرتی ہے، جس میں ملاوٹ مافیا کے خلاف چھاپے مارنا، فیکٹریاں سیل کرنا، جرمانے عائد کرنا اور ہر طرح کی قانونی چارہ جوئی کرنا شامل ہے۔ اس سے ناصرف صوبے میں خوراک کے معیار میں بہتری آئی ہے، بلکہ صحت کا شعبہ بھی بہتر ہوا ہے۔