22 اپریل 2021
تازہ ترین

سفارتی محاذ پر امتیازی سلوک کیوں؟ سفارتی محاذ پر امتیازی سلوک کیوں؟

ابھی امریکی صدر کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی کی عالمی کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کو شرکت کی دعوت نہ دینے اور امریکی موسمیاتی تبدیلی کے ایلچی جان کیری کے عنقریب شروع ہونے والے دورۂ ایشیا میں پاکستان کا نام شامل نہ ہونے سے عالمی سطح پر نظرانداز ہونے کا تکلیف دہ احساس کچوکے لگا ہی رہا تھا کہ برطانوی حکومت کے بڑھتے کرونا کیسزکی بنیاد پر پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے نے ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کا پورا پورا سامان فراہم کردیا۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو نظرانداز کرنے سے سیاسی و صحافتی حلقوں میں ہونے والی تنقید کو حکومتی ارباب اختیار نے کئی طرح کی تاویلات پیش کرکے ردّ کرنے کی کوششیں کیں، تاہم برطانوی حکومت کے پاکستان کو ریڈلسٹ کرنے کے فیصلے پر ہونے والی ہزیمت پر حکمران جماعت کا صبر جواب دے گیا۔ برطانوی حکومت کے فیصلے پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کے ردعمل کا لب لباب یہ واضح کررہا تھا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ سائنسی بنیادوں کے بجائے خارجہ پالیسی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو کرونا وائرس کی نئی قسم سے محفوظ رکھنے کے لئے پاکستان، بنگلادیش، فلپائن اور کینیا کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا تھا۔ برطانوی ریڈ لسٹ میں شامل ہونے والے ان ممالک پر 9اپریل سے سفری پابندیاں عائد ہوں گی۔ خیال رہے کہ برطانیہ کی اس ریڈلسٹ میں پہلے سے ہی 35 ممالک شامل ہیں اور 9 اپریل 
کے بعد ریڈ لسٹ ہونے والے ممالک کی تعداد 39 ہوجائے گی۔
بلاشبہ گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر بتدریج زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان سمیت چند ایک ممالک کو ریڈ لسٹ کرنے کے فیصلے میں بظاہر امتیازی رویے کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ پاکستان کو ریڈلسٹ کرنے کے فیصلے کو لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی رکن پارلیمان ناز شاہ نے امتیازی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک میں فی لاکھ افراد میں متاثرین کی تعداد پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، لیکن پابندی صرف پاکستان پر لگائی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں فی الحال کرونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم کا پھیلائو وہ نہیں جو فرانس میں ہے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ فیصلہ سائنسی بنیادوں کے بجائے خارجہ پالیسی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، تاہم اگر ہم ٹھنڈے دماغ سے اس فیصلے کے اسباب و عوامل پر غور کریں تو ہمیں اپنی کچھ خامیوں اور کمزوریوں کا ادراک ضرور ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت، فرانس اور جرمنی میں وائرس کا پھیلائو پاکستان اور بنگلادیش سے کم نہیں، لیکن کرونا ٹیسٹنگ اور ویکسی نیشن کے حوالے سے ہمارے ہاں پائے جانے والے ابہامات و مسائل بھارت، فرانس اور جرمنی میں بہت کم ہیں۔ ہمارے ہاں ابھی تک یومیہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت پچاس ہزار سے زائد نہیں ہوسکی جب کہ ان ممالک میں روزانہ کی بنیادوں پر دس دس لاکھ سے بھی زیادہ ٹیسٹنگ ہوتی رہی ہے۔ فی ملین پاپولیشن کے حساب سے ہمارے ہاں ہونے والے ٹیسٹوں کی شرح بھارت سے قریباً چار گنا، فرانس سے دس گنا اور جرمنی سے سات گنا کم ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں ابھی تک ہونے والی ویکسی نیشن کی شرح بھی ان ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ برطانیہ سے یہ بات ہرگز ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت، فرانس اور جرمنی کے مقابلے میں پاکستان، بنگلادیش اور کینیا جیسے ممالک نہ تو ویکیسن خود بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس جلد سے جلد بڑے پیمانے پر ویکسین خریدنے کی معاشی صلاحیت ہے۔ اس کے علاوہ فرانس اور جرمنی کے مقابلے میں پاکستان اور بنگلادیش کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ویکسی نیشن کرانے کو ہی تیار نہیں۔
دوسری طرف حکومت اگرچہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہ دینے پر امریکہ سے گلہ شکوہ نہیں کررہی، تاہم اندر ہی اندر انہیں امریکہ کی طرف سے پاکستان کو اس طرح سے نظرانداز کرنے کا بڑا رنج ہے۔ اگرچہ وزیراعظم سمیت حکومتی ارباب اختیار نے یہ جواز دے کر سیاسی و عوامی حلقوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کانفرنس میں ایسے ممالک کو مدعو کیا گیا ہے، جو آلودگی پھیلانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، لیکن جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کانفرنس میں آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے سربراہان کو بھی بلایا گیا ہے۔ وائٹ ہائوس کے بیان کے مطابق ایسے 17 ممالک کے رہنمائوں کو مدعو کیا گیا ہے، جو قریباً 80 فیصد کاربن کے عالمی اخراج اور عالمی پیداوار کے ذمے دار ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر نے ایسے سربراہان کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے، جنہوں نے مضبوط کلائمیٹ لیڈرشپ کا مظاہرہ کیا ہے، جو ماحولیاتی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں یا اپنی معیشت کو کاربن کے صفر اخراج کی طرف لے جانے کے لئے نئے طریقے استعمال کررہے ہیں۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق پاکستان تیسری شرط یعنی ماحولیاتی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں کی کیٹیگری کے تحت کانفرنس میں شرکت کا اہل تھا۔ 
مستند اعدادوشمار کے مطابق پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح دنیا کے آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے جب کہ اس فہرست میں بنگلادیش کا پہلا اور بھارت کا تیسرا نمبر ہے۔ اب امریکی صدر کی سلیکشن کے معیارات ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے پاکستان کے مقابلے میں آلودگی سے کم متاثر ہونے والے ملکوں کو تو کانفرنس میں مدعو کرلیا، لیکن شدید ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دوچار پاکستان کو نظرانداز کردیا، جو ناصرف ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے پچھلے کئی برس سے کوشاں ہے بلکہ اس کے بلین ٹری منصوبے کو ورلڈ اکنامک فورم اور اقوام متحدہ سمیت دنیا کے متعدد ادارے سراہنے کے ساتھ قابل تقلید بھی قرار دے چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے دانستہ ہمیں نظرانداز کیا ہے۔ افغان تنازع کے حل کے حوالے سے 25 مارچ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی رپورٹ کے مندرجات پر نظر دوڑانے سے اس معاملے کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اصل میں امریکہ افغان تنازع کو امریکی خواہشات کے مطابق حل نہ کرانے پر پاکستان سے خوش نہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ پاکستان چاہے تو افغان تنازع کو امریکی خواہشات کے عین مطابق حل کرایا جاسکتا ہے، لیکن افغانستان میں بھارت کے سفارتی وتجارتی اثررسوخ کے باعث پاکستان ایسے کسی حل کی طرف جانے پر آمادہ نہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان میں قائم ہونے والی حکومت میں افغان طالبان گروہوں خصوصاً حقانی نیٹ ورک کو کمزور کردار ملے۔