22 اپریل 2021
تازہ ترین

انصاف کے منتظر بینک ملازمین انصاف کے منتظر بینک ملازمین

آئین پاکستان شہریوں کو ان کے حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ بھٹو دور میں جب آئین بنایا گیا تو اس میں یہاں رہنے والوں کے حقوق کا خاص خیال رکھا گیا۔ انہوں نے ریاست کے شہریوں کو ایسا آئین دیا، جس کی بدولت بھٹو مرحوم کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جب مملکت کے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے تو لوگ اعلیٰ عدالتوں پر دستک دیتے ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں ایسا فورم ہے، جب وہاں سے کسی کیس کا حتمی فیصلہ ہوجائے تو اداروں کو عدالتی احکامات پر عمل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ انگریز سرکار نے انصاف کو یقینی بنانے کے لئے مختلف فورم رکھے تھے، تاکہ کسی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے پائے۔ جنرل ضیاء الحق نے سرکاری ملازمین اور شہریوں کی سہولت کے لئے وفاقی محتسب کا عہدہ تخلیق کیا، تاکہ وکلاء کی خدمات کے بغیر عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے محتسب سے رجوع کرسکیں۔ بہت سے سرکاری ملازمین کو ان کے بقایا جات اور پنشن کے حصول کی خاطر وفاقی اور صوبائی محتسب سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور عموماً ان کے اس طرح کے مسائل اعلیٰ عدالتوں میں جائے بغیر حل ہورہے ہیں، لیکن جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے کسی کیس کا فیصلہ ہوجائے اور اس پر عمل درآمد کرنے والے ادارے ملازمین کے معاملات کو طول دیں تو اس کا مطلب انہیں عدالتی احکامات کی پروا نہیں۔
بھٹو دور میں نجی بینکوں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا، جس کے بعد عشروں تک بینک سرکاری تحویل میں عوام کو بہتر خدمات دیتے رہے۔ خصوصاً جب بینک ملازمین اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہوتے تو انہیں اپنی جمع شدہ پونجی کے حصول کی خاطر عدالتوں میں دھکے کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ نہ جانے نواز شریف کو کیا سوجھی، انہوں نے اپنے دور میں بینکوں کو ایک مرتبہ پھر نجی تحویل میں دے دیا۔ چلیں نجی تحویل میں ہی دے دیا تو کیا اس کے بعد وہاں کام کرنے والے ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاسکتا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے وہ بینک ملازمین جو ایک عشرے سے زائد عرصہ قبل بینک ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے، اپنے حقوق کے لئے آج تک دربدر ہورہے ہیں۔ بہت سے بینکوں نے عدالتی فیصلوں پر عمل نہ کرنے کا وتیرہ اپنارکھا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق سپریم کورٹ نے جب ایک بینک کو اپنے ملازمین کو ان کی پنشن اور دیگر فوائد دینے کا فیصلہ کردیا تھا تو انتظامیہ کو قطعی طور پر نظرثانی میں جانے کی ضرورت نہیں۔ جب سپریم کورٹ نے نظرثانی بھی خارج کردی تو بینک انتظامیہ کو ریٹائر ملازمین کے بقایا جات ادا کردینے چاہیے تھے۔ 
بسااوقات جب عدالتیں اپنے احکامات پر عمل نہ کرنے والوں کو طلب کرتی ہیں تو لوگ معافی مانگ کر جان چھڑا لیتے ہیں۔ قانونی طور پر ملک کا کوئی ادارہ عدالتی احکامات سے صرف نظر نہیں کرسکتا۔ البتہ قانونی طور پر عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیل کا فورم ہوتا ہے، لیکن ان بینک ملازمین کا معاملہ تو بالکل سیدھا سادہ ہے، جب ملازمین نے اپنی زندگی کے کئی عشرے بینک کی خدمت میں گزارے ہیں تو پنشن ان کا قانونی استحقاق تھا، وہ برسوں سے مارے مارے پھر رہے ہیں، اس کے باوجود ان کی دادرسی نہیں کی جارہی۔ اگرچہ بینک ملازمین نے ابتدائی طور پر غلطی تو ضرور کی۔ قانونی طور پر جب عدالت عظمیٰ سے ان کے حق میں فیصلہ آیا تھا تو انہیں اپنے صوبے کی ہائی کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 187کے تحت رجوع کرنا چاہیے تھا، جو ان کے لئے قانونی فورم تھا۔ پھر دیکھا جاتا کہ بینک انتظامیہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر کیسے عمل نہ کرتی۔ جیسا کہ بتایا گیا بینک انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سول عدالتوں سے رجوع کرلیا، جس کا واضح مقصد ملازمین کے معاملات کو طول دینے کے سوا کچھ نہیں۔ بینک انتظامیہ خواہ کتنے جتن کرلے، اسے ہر صورت ریٹائر ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے ہی بقایا جات ادا کرنا ہوں گے۔ بینک انتظامیہ کو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے ریٹائر ملازمین کو ان کے بقایا جات ادا کردینے چاہئیں، ورنہ انہیں یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی، ایک روز انہیں ان تمام ملازمین کو بقایا جات کے ساتھ ان کی رقوم پر منافع ادا کرنا پڑے گا، جس کی ذمے داری بینک کے متعلقہ افسران پر ہی ہوگی، کیونکہ قانونی طور پر اس طرح کی جب صورت حال ہوجائے تو کوئی بھی ادارہ اس طرح کی ذمے داری اپنے سر لینے سے گریزاں ہوتا ہے، بلکہ بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر کی ذمے داری متعلقہ حکام پر پڑتی ہے۔
بینک حکام کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے، ایک روز انہیں بھی ملازمت سے سبکدوش ہونا ہے۔ پھر جیسا کروگے ویسا بھرو گے کے مصداق انہیں اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔ گرانی کے اس دور میں جب عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں اور اداروں میں اپنی زندگی کا اہم حصہ گزارنے والوں کو ان کے حقوق سے یکسر محروم رکھا جارہا ہو تو وہ اور ان کے اہل خاندان پر کیا بیتتی ہوگی۔ کیا تحریک انصاف حکومت ان بینکوں کی گوشمالی کی طرف توجہ دے گی، جن کے ملازمین اپنی پنشن اور دوسری مراعات کے لئے ترس رہے ہیں۔ امید کامل ہے، وزیراعظم پاکستان بینک کے سابق ملازمین کے معاملات کو اپنی اولین فرصت میں حل کرنے کے احکامات دے کر ملازمین اور ان کے اہل وعیال کی دعائیں لیں گے۔