22 اپریل 2021
تازہ ترین

بھٹو شہید کی خارجہ پالیسی کی یاد بھٹو شہید کی خارجہ پالیسی کی یاد

ذوالفقار علی بھٹو شہید کوہر برس 4 اپریل والے دن خاص طور پر یاد کیا جاتا ہے، جو لوگ بھٹو شہید کو ان کی پھانسی کے دن یاد کرتے ہیں، ان کی اکثریت کے لبوں پر فیض کے شعر کا یہ مصرع ’’جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا‘‘ ضرور ہوتا ہے۔ بھٹو شہید کو شدید چاہنے والوں کی طرح ان کی ذات پر تحفظات کا اظہار کرنے والے بھی کوئی کم شدت پسند نہیں، مگر بھٹو کی ذات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہنے والے بھی اس سے انکار نہیں کرتے کہ جس شان سے بھٹو نے موت کو گلے لگایا، وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسے لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ بھٹو نے ایسی شان سے موت کو گلے لگایا کہ ان کی کئی بشری کمزوریاں ان کی شاندار موت کے نیچے دب گئیں۔ بھٹو کے مخالف تو جو کہتے ہیں سو کہتے ہیں، مگر ان کے کئی حامیوں کا بھی خیال ہے کہ بھٹو کی برسی پر ان کی شاندار موت کا ذکر ہی اتنا طویل ہوجاتا ہے کہ ان کی زندگی میں سرانجام دیے گئے کارناموں کو یاد کرنے کا وقت ہی باقی نہیں بچتا۔ بھٹو نے اپنی زندگی اور حکومت کے دوران جو کارنامے سرانجام دیے، ان میں سے ان کی وضع کی گئی خارجہ پالیسی خاص طور پر ناقابل فراموش ہے۔ بھٹو کی برسی پر ان کی کامیاب خارجہ پالیسی اس وجہ سے خاص طور پر یاد آرہی ہے، کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی جس قدر کھوکھلی اور ناکام اب نظر آتی ہے، پہلے کبھی بھی نہ تھی۔ اس کھوکھلی اور ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر جتنا تنہا ہمارا ملک آج ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھا۔ ہمارے ملک کی بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا عالم یہ ہے کہ جس ملک سے دوستی کو ہم سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی کہتے نہیں تھکتے، اسی چین کے وزیر خارجہ نے اپنے دورۂ ایران کے دوران کچھ اس قسم کا بیان دیا، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جارہا ہے کہ پاکستان اب چین کے لئے بھی قابل اعتبار نہیں رہا۔ 
اگر مسلم دنیا کی بات کی جائے تو صورت حال یہ ہے کہ سعودی عرب سے اچھے تعلقات رکھنے کی قیمت پر ہمیں ایران کے ساتھ خراب تعلقات کرنا پڑتے ہیں۔ ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ کسی معاہدے میں شامل ہونے کا مطلب یہ کہ سعودی عرب کے ساتھ اب کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح روس یا امریکہ جیسی عالمی طاقتوں میں سے کسی ایک کے قریب ہونے کی صورت میں دوسرا ملک ہمیں دھتکار دیتا ہے۔ دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہمسایہ ملک بھارت کیا ہمیں تو بدحال ترین معیشتوں میں شمار ہونے والا افغانستان بھی کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ خارجہ تعلقات کے حوالے سے ہمارا ملک بتدریج گرتے گرتے قابل ترس حالت اور بدترین تنہائی تک آپہنچا ہے۔ عالمی طور پر بدترین تنہائی تک پہنچنے کی طرف ہمارا سفر بھٹو دور کے خاتمے کے بعد شروع ہوا۔
بھٹو دور میں خارجہ تعلقات کے حوالے سے ہماری حیثیت ایسی رہی، جسے بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں بہترین قرار دیا جاسکتا ہے۔  جنگ دسمبر 1971 میں بھارت کے ہاتھوں آدھا ملک گنوانے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو شہید نوے ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کرانے اور اپنے مقبوضہ علاقے بھارت سے واگزار کرانے کا معاہدہ کرنے کے لئے شملہ گئے۔ شملہ میں انہوں نے اپنی فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اندرا گاندھی کے سامنے مدلل انداز میں اپنا موقف بیان کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انتہائی خوداعتمادی سے بھارت کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات استوار کرنے کا معاہدہ کرتے وقت کسی طرح سے بھی ملک کے مفادات کو پس پشت نہ ڈالا۔ 
مسلم اور عرب ملکوں کے باہمی مراسم چاہے جیسے بھی تھے مگر بھٹو شہید نے ہر مسلم ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی۔ مختلف مکتب ہائے فکر کی آبادی کے حامل مسلم ملکوں کے ساتھ فروعی بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے کے بجائے بھٹو نے تمام ممالک کے سربراہان کے ساتھ ذاتی روابط قائم کرتے ہوئے انہیں اجتماعی طور پر معاشی خودانحصاری کی پالیسیاں اختیار کرنے کی طرف مائل کیا۔ لاہور میں منعقد ہونے والی فروری 1974کی اسلامی سربراہی کانفرنس اسی سلسلے میں اٹھایا جانے والا ایک بہت بڑا قدم تھا۔ خوش حال اسلامی ملکوں کے سربراہوں کو بھٹو کی ذات پر اس قدر اعتماد تھا کہ انہوں نے ناصرف اپنے ملکوں میں ہُنرمند افرادی قوت کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے پاکستانیوں کو ترجیح دی، بلکہ فلاحی کاموں کے سلسلے میں مختلف عمارتوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے درکار فنڈز کا رخ بھی پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ کچھ مسلم ملکوں کے سربراہوں نے بھٹو کے ساتھ ذاتی تعلقات کی وجہ سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی کے لئے پاکستان کی بے دریغ مالی مدد کی۔ 
پاک چین دوستی کے لئے سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہونے کا نعرہ بھٹو دور میں بلند ہوا۔ بھٹو شہید نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلا بیرونی دورہ چین کا کیا۔ اس دورے کے دوران چین کے ساتھ ناصرف کئی ملین ڈالر کے دفاعی سامان کی امداد کا معاہدہ ہوا، بلکہ پاکستان میں چین کے تعاون سے بنیادی صنعتوں کے قیام اور تعمیر و ترقی کے سلسلے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ یہ بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی اور ان کے چینی قیادت کے ساتھ خصوصی تعلقات کا ہی اثر تھا کہ پاکستان کے بنگلادیش کو تسلیم کیے جانے تک چین نے بھی اسے نہ تسلیم کیا اور اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے نہ اسے اقوام متحدہ کا رکن بننے دیا۔ 
بھٹو دور میں سوویت یونین (روس) کی بھارت کے ساتھ قربت کا کیا عالم تھا، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر اس کے باوجود بھٹو نے خارجہ امور میں اپنی مہارت استعمال کرتے ہوئے سوویت قیادت کو پاکستان میں پورٹ قاسم کے مقام پر سٹیل مل کی تعمیر کے لئے ٹیکنالوجی سمیت مالی امداد کی فراہمی پر آمادہ کیا۔ 
بھٹو نے امریکہ کا دم چھلا بنے بغیر اس کے ساتھ متوازن دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی پوری کوشش کی۔ بھٹو دور میں امریکہ کی صدارت فورڈ کے پاس تھی۔ جن شرائط پر امریکہ پابندیاں ختم کرنا چاہتا تھا، بھٹو شہید انہیں ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ پھر ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ اُلٹا اور بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے شہید کرکے ایسے امریکی غلامی اختیار کی کہ امریکہ نے بھٹو دور کے اختتام تک عائد رکھی گئی پابندیاں یکایک ختم کرنا شروع کردیں۔ یوں پس ماندہ فکر کے حامل لوگوں نے امریکی امداد کے ذریعے خود کو سرخرو کرنے کی خام خیالی میں مبتلا ہوکر عالمی سطح پر پاکستان کا وہ وقار دائو پر لگادیا جو بھٹو شہید نے اپنی ذہانت و فطانت سے بنایا تھا۔ آج عالمی سطح پر پاکستان اس حد تک تنہا ہوچکا کہ بھٹو کی شہادت کے دن ان کی کامیاب خارجہ پالیسی خاص طور پر یاد آرہی ہے۔