22 اپریل 2021
تازہ ترین

چینی اور جوا … چینی اور جوا …

مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے چینی پر جوا کیسے کھیلا جاتا ہے، اس بارے میں بتاکر قوم کی رہنمائی فرمائی اور ہماری نالج میں بھی اضافہ کیا۔ ہم تو اب تک یہی سمجھتے آرہے تھے کہ جوا صرف کرکٹ اور دیگر کھیلوں پر ہوتا ہے، لیکن اب پتا چلا کہ باقاعدہ ایک مافیا ہے جو چینی پر ناصرف جوا کھیلتا، بلکہ زبانی کلامی چینی کے سودے ہوتے ہیں، فرضی چینی خریدی جاتی اور فرضی سودے کرکے بیچ دی جاتی ہے، یوں کروڑوں، اربوں روپے کی ہیر پھیر کرکے عوام کو مہنگے داموں چینی خریدنی پڑتی ہے۔ چینی ایسی ضرورت کی شے بن چکی کہ اب اس کے بغیر ہمارا گزارا بھی نہیں ہوتا۔ امتحان میں پاس ہوئے یا نئی گاڑی لی، منگنی یا شادی خانہ آبادی کا موقع ہو، پاکستانی ٹیم جیتی ہو یا الیکشن میں کسی امیدوار نے میدان مارا ہو، نوکری لگی ہو یا تنخواہ میں اضافہ ہوا ہو، ہر جگہ مٹھائی یا کسی بھی میٹھی چیز کی صورت کامیابی کا جشن منایا جاتا ہے، کیوںکہ قریباً ہر میٹھی چیز میں چینی استعمال ہوتی ہے، تو پھر قیمت بھی اسی حساب سے بڑھتی ہے، یعنی طلب اور رسد میں توازن نہ ہونے سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
گئے وقتوں میں مہمان کسی کے گھر جاتے تو موسمی پھل ساتھ لے کر جاتے تھے، اب بیکری سسٹم جب سے پاکستان میں رائج ہوا ہے، پھل بھی مہمانوں کی آمد کے ساتھ ناپید ہوگئے، اب جسے دیکھیں کوئی کیک لارہا ہے تو کوئی مٹھائی کا ڈبہ۔ ماضیٔ قریب ہی کی بات ہے، لوگ پھل اور دیسی اجزا سے تیار کردہ اشیا لوگوں کے گھروں میں لے جاتے تھے، اب تو کوئی مہمان اگر غلطی سے پھل وغیرہ لے ہی جائے تو میزبان اسے مشکوک نظروں سے گھور رہا ہوتا ہے کہ کیا لے کر آگیا۔ ویسے جس حساب سے چینی مہنگی ہوتی جارہی ہے، سو کا ہندسہ پار کرچکی تو اب عوام کو بھی چینی کے بجائے کسی اور چیز سے منہ میٹھا کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ لے دے کے نمک رہ جاتا ہے جو اس وقت کسی حد تک ہماری پہنچ میں ہے، اگر چینی کی جگہ نمک کا استعمال کیا جائے اور نمک سے بنی مٹھائیاں کھائی جائیں تو چینی کے دام نیچے گرائے جاسکتے ہیں، کیوںکہ ایک تو نمک ہماری اپنی پیداوار ہے، ہمارے اپنے پہاڑوں سے نکلتا ہے، ہمیں بھارت سے اس کو درآمد کرنے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی عوام کے طعنے سننے کو ملیں گے جیسے چینی کے حوالے سے حکومت کو سننے کو مل رہے ہیں۔ آج کل ویسے بھی مارکیٹ میں چینی کے بغیر مٹھائیاں متعارف کرائی جاچکی ہیں، جس سے ذیابیطس میں مبتلا مریض بھی مستفید ہوسکتے ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ نمک کی بنی مٹھائی پر تجربات کرائے اور عوام کو اس کی عادت ڈالے، ویسے بھی چینی زیادہ کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ ہے، البتہ نمک سے بلڈپریشر بڑھنے کا بھی خطرہ ہے، لیکن اس کی مقدار کم کرکے اس خطرے کو ٹالا جاسکتا ہے، لیکن ایک اور بات کا خدشہ بھی ہے، جس طرح چینی کی انڈسٹری میں مافیا در آیا ہے، اسی طرح جیسے ہی نمک کی کھپت بڑھے گی تو مافیا یہاں بھی پنجے گاڑلے گا اور یہ بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوجائے گا تو پھر زندگی ساری روکھی پھیکی پڑ جائے گی۔ پھر ہمیں چینی ملنی ہے اور نہ نمک، پھر صرف کھٹا رہ جائے گا۔ 
چینی اور نمک کی محرومی سے بچنے کے لئے عوام بے چارے کریں تو کیا کریں، ایک ہی حل رہ جاتا ہے کہ حکومتی ارکان کی پریس کانفرنسیں دیکھیں اور سنیں۔ اتنی لمبی پریس کانفرنسیں چینی مافیا کے حوالے سے کرنے کے بجائے ایک پریس کانفرنس کسی ڈاکٹر کو ساتھ بٹھاکر کرنی چاہیے جو عوام کو بتائے کہ چینی کھانے کے کتنے سنگین نقصانات ہیں، اگر عوام اپنی جیب بھی بھاری رکھنا چاہتے اور چینی بھی سستی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کا استعمال کم یا ترک کرنا ہوگا۔ یہ تو اب چینی میں مافیا آگیا، وگرنہ ہمیں یاد ہے کہ چینی اتنے ٹکے ٹوکری ہوتی تھی کہ ہمارے بچپن میں تو ہم چینی والا برگر کھایا کرتے تھے، اب یار لوگ کہیں گے چینی والا برگر کیا ہوتا ہے، تو جناب روٹی میں چینی اور دیسی گھی ڈال کر اس کا رول بناکر کھانا بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا تھا، دیسی برگر کے مزے اڑائے جاتے تھے۔ خیر کہنے کا مطلب کہ جس طرح میرے بار بار چینی یا شکر لکھنے سے آپ کا منہ میٹھا نہیں ہورہا، اسی طرح لمبی پریس کانفرنس کرنے سے بھی مافیا کا کچھ بگڑنا ہے اور نہ چینی کے ریٹ نیچے آسکتے ہیں۔