23 اپریل 2021
تازہ ترین

قیدیوں کی نقل و حرکت قیدیوں کی نقل و حرکت

بیرکس میں قیدی موبائل فونز واش رومز کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو سگنل آنے کے بعد باآسانی کال کر لیتے ہیں۔ قیدیوں کو جب کبھی تلاشی کا خوف ہو یا انہیں ملازمین کی طرف سے قبل ازوقت تلاشی کی اطلاع دے دی جائے تو وہ اپنے موبائل فونز واش رومز میں ٹائلز کے نیچے چھپادیتے ہیں۔ جب قیدیوں نے موبائل فونز کا استعمال کرنا ہو تو اپنے ساتھی قیدیوں کو بیرکس کے گیٹ پر پہرہ دینے کے لئے بٹھادیتے ہیں، جوں ہی تلاشی آتی ہے، وہ اپنے کوڈ ورڈ میں اندر قیدیوں کو باخبر کردیتے ہیں، جو چند لمحوں میں اپنے اپنے موبائل فونز خفیہ مقامات پر رکھ دیتے ہیں۔ بہت سی جیلوں میں تو کرپشن کا یہ عالم ہے، خصوصاً سینٹرل جیلوں کے لمبی سزاؤں والے قیدی جنہیں پرانے وقتوں میں نمبردار کہا جاتا تھا، جب سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے نمبرداری نظام کے خاتمے کا حکم دیا تو اب انہیں نگراں کہا جاتا ہے، ایسے قیدیوں کے ہسٹری کارڈ جس پر قیدیوں کی مشقت لکھی جاتی ہے، ان کے ہسٹری کارڈ پر ان کی مشقت تو فیکٹری یا لنگرخانے میں ہوتی ہے، لیکن وہ نگراں کے طور پر کام کرکے مال پانی جمع کرکے جیل ملازمین کو دیتے ہیں۔ جب کبھی آئی جی جیل خانہ جات کا سالانہ دورہ ہوتا ہے تو ایسے قیدیوں کو اپنی اپنی بیرکوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔
جیل کی زبان میں جب کسی قیدی سے کوئی روپیہ پیسہ لیا جاتا ہے تو اسے سب اچھا کہا جاتا ہے۔ اگر قیدی اور حوالاتی سب اچھا کرلیں تو ان کے لئے جیلوں میں کسی قسم کی کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ ایسے قیدیوں کی نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ بہت سے سب اچھا کرنے والے قیدی شام کو جب جیل بند ہونے کا وقت ہوتا ہے اور عام قیدیوں کو بیرکس میں بند کردیا جاتا ہے تو سب اچھا کرنے والے قیدی اور حوالاتی جیل ملازمین کے ساتھ جیل کے چکر میں چائے نوش کررہے ہوتے ہیں۔ جب جیل بند ہونے کا آخری وقت ہوتا ہے تو انہیں اپنی اپنی بیرکس میں ہیڈوارڈرز بند کردیتے ہیں۔ جیلوں میں مال پانی کمانے کا صرف موبائل فونز ہی ذریعہ نہیں بلکہ اور بھی بہت سے ذرائع ہوتے ہیں، جن میں لنگرخانہ جہاں سینٹرل جیلوں میں کم از کم قریباً پانچ سو قیدیوں کی مشقت ہوتی ہے، لیکن صرف دو سو قیدی مشقت کرتے ہیں جب کہ بقیہ قیدی سب اچھے پر ہوتے ہیں، انفرادی طور پر قیدی پانچ سے چھ ہزار ماہانہ ادا کرکے مشقت سے اپنی جان بخشی کراتے ہیں۔
جیلوں میں قیدیوں کے لئے سخت ترین مشقت لنگرخانے کی ہوتی ہے۔ جب عدالتوں سے سزا ہوتی ہے تو اگلے روز ملاحظہ میں قیدی کو پیش کرکے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس ان کی مشقت ڈالتے ہیں۔ عموماً قیدیوں کو سب سے پہلے لنگرخانے پر مشقت کے لئے بھیجا جاتا ہے، جس کے بعد وہ منت سماجت کرکے ’’سب اچھے‘‘ پر چلے جاتے ہیں۔ اگر کوئی قیدی لنگرخانے کے بجائے فیکٹری میں مشقت کرنے کا خواہاں ہو تو اسے کم از کم دس ہزار روپے ’’سب اچھا‘‘ دے کر اپنی مشقت لنگرخانے سے تبدیل کرنا پڑتی ہے۔ ایسے ہی 
فیکٹریوں میں مشقت کرنے والے قیدیوں کو بھی ’’سب اچھا‘‘ دینا پڑتا ہے۔ سب اچھا کرنے والے قیدی اپنی اپنی بیرکس میں دن بھر رہتے ہیں، جب کبھی دورہ آنا ہو تو انہیں مشقت والی جگہوں پر بھیج دیا جاتا ہے۔ ایک اور ذریعہ آمدن بھی ہے جو حوالاتیوں اور قیدیوں کی اڑتی لگاکر سب اچھا لیا جاتا ہے۔ وہ حوالاتی جو منشیات کے مقدمات میں آتے ہیں جیلوں میں روزانہ کی بنیاد پر ان کی اڑتی لگادی جاتی ہے۔ اڑتی سے مراد حوالاتیوں کو ایک رات کسی ایک بیرک میں رکھا جاتا تو دوسرے روز انہیں سامان اٹھاکر دوسری بیرکس جانا پڑتا ہے، جو انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے بہت سے حوالاتی ’’سب اچھا‘‘ کرکے اپنی اڑتی رکوالیتے ہیں۔ 
بے یارومددگار قسم کے قیدی جن کی سزا میں چند ماہ یا چند روز رہ جاتے ہیں، انہیں جھاڑو پنجہ پر بھیج دیا جاتا ہے، یہ انتہائی اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے، ایسے قیدیوں کے پیروں میں زنجیر لگادی جاتی ہیں اور انہیں جیل سے باہر مشقت کے لئے افسران کے گھروں میں کام کاج کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ جب شام کو جیل بند ہونے کا وقت ہوتا ہے تو ان کی واپسی ہوتی ہے، رات کے پہر بھی زنجیر ان کی ٹانگوں کے ساتھ رہتی ہے، کسی قیدی کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی اذیت ناک سزا نہیں ہوتی۔ ہر جیل کے باہر اور اندرون جیل تلاشی کے لئے ملازمین تعینات ہوتے ہیں۔ اب تو بہت سی جیلوں میں داخل ہوتے ہی جامہ تلاشی پر ملازمین متعین ہیں اور جب جیل کی ڈیوڑھی سے اندر داخل ہوں تو بھی قیدیوں کے سامان اور ان کی جامہ تلاشی کے لئے ملازمین ہوتے ہیں، لہٰذا قیدیوں اور حوالاتیوں کو اگر اپنے پاس پیسے رکھنے مقصود ہوں تو انہیں تلاشی والی جگہوں پر ’’سب اچھا‘‘ کرکے ہی اپنے پاس پیسے رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ تلاشی والی جگہوں پر ایسے ملازمین کو لگایا جاتا ہے جو بالا افسران کے ساتھ ہفتہ وار زیادہ سے زیادہ ’’سب اچھا‘‘ کرسکیں۔ پی پی اکاؤنٹس میں بھی بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہوتی ہیں، قانونی طور پر کوئی قیدی یا حوالاتی اپنے پاس پیسے نہیں رکھ سکتا۔ بہت سے قیدیوں کے اہل خانہ جیلوں سے باہر پی پی اکاؤنٹس میں اپنے قیدیوں کے لئے پیسے جمع کراکر رسید حاصل کرلیتے ہیں۔ جب کبھی قیدی چاہے وہ جیل کے اندر پی پی اکاؤنٹس پر مامور ملازمین کو رسید دکھاکر کل رقم کا کچھ حصہ جیل ملازمین کو دے کر اپنی رقم واپس لے سکتا ہے، حالانکہ قانونی طور پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ (جاری ہے)