22 اپریل 2021
تازہ ترین

قبر سے ایک خط… قبر سے ایک خط…

عنوان دیکھ کر آپ چونک تو گئے ہوں گے کہ یہ کیسا موضوع ہے، لیکن میری نظر میں دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ یہ اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ سنگاپور کے سابق وزیراعظم آنجہانی لی کوان یو کی جانب سے ہے، جنہوں نے اپنے ایک چھوٹے سے وطن، جو محض ایک جزیرہ ہی تھا، صرف ایک شہر چاروں طرف سے سمندروں سے گھرا ہوا، اُس کو انہوں نے ماحولیاتی گندگی اور معاشی بدحالی سے نکال کر دُنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کی صفوں میں لاکھڑا کیا۔ تو آئیں دیکھیں کہ لی کوان نے ایسا خط آخر کیوں لکھا۔ قبر کا حال تو مُردہ ہی جانتا ہے۔
مشہور مزاح نگار بھی اپنے پُرانے دوستوں بلکہ سیکڑوں سال پہلے دُنیا میں رہنے والے چچا غالب تک سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں اور مزاح ہی سہی لیکن غالب، فراز، فیض احمد فیض کے قبر سے آنے والے خطوط تک کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ تو اگر سنگاپور کے رہنما کا خط قبر سے دُنیا میں آیا تو اسے بھی مزاح اور سبق آموز سمجھ کے پرکھ لیجیے کہ ایک ایسا انسان جو اپنے غریب ملک کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچاگیا تو میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی ہرج ہے۔ انہوں نے افریقہ کے ملک گھانا کے قائدین کو خط لکھا کہ ’’میری موت 91 برس کی عمر میں بروز اتوار 23 مارچ 2015 کو ہوئی، آپ حضرات کی جانب سے  پُرسا کرنے کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سنگاپور میں اوسط عمر مردوں کے لئے 80 اور خواتین کے لئے 85 برس ہے، لیکن میں اپنی کُل زندگی 91 برس میں سے 31 سال اس جزیرے کا وزیراعظم رہا۔ ہوسکتا ہے اس پر اعتراض ہو، میں 11 سال مزید کیوں جیا تو اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں۔ البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے بہترین زندگی گزاری، جس میں مجھے اپنی قوم کی خدمت اور اُسے بلندیوں تک پہنچانے کا اعزاز حاصل رہا۔ مجھ پر سخت گیر ہونے پر تنقید بھی ہوئی، لیکن مجھے اُس کی قطعاً پروا نہیں، مجھے خود اس بات کا اعتراف ہے کہ سنگاپور جو ایک چھوٹا سا غریب ملک تھا، لیکن 1963 کے بعد وہ معاشی بدحالی سے نکلنا شروع ہوا اور 1965 میں ہی سنگاپور کو ملائیشیا کی کنفیڈریشن سے بے دخل کردیا گیا، جس پر مجھے بے حد صدمے سے دوچار ہونا 
پڑا، یہاں تک کہ میرے آنسو نکل پڑے۔ مجھے اتنا بھی نہیں معلوم تھا کہ ہمارا مستقبل اب کیا ہوگا۔ ہمارے پاس تو پینے کا صاف پانی تک نہیں تھا اور ہمیں دوسروں کی مدد حاصل کرنی پڑی۔ ہمارے پاس معدنیات بھی نہیں تھیں، نہ ہماری سرزمین تیل اور سونے جیسی دولت سے مالا مال تھی۔ ہمارے پاس صرف اور صرف انسانوں کا سمندر تھا۔ ایسے حالات میں ملک کا باقی رہنا ناممکن لگتا تھا، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور محنت جاری رکھی، جس کا صلہ آج دُنیا کے سامنے ہے۔‘‘
ملائیشیا جو ملائیشیا بننے سے پہلے ملایا کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا، زنک، تانبے اور ربر جیسے خزانے سے مالا مال تھا، اُسے بھی مہاتیر محمد نے بنایا سنوارا۔ اُس کے وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے بعد، ملائیشیا ایک بار پھر گہرائی میں ڈوب گیا۔ کئی اور مثالیں موجود ہیں، جہاں کے رہبروں نے ملک کی خدمت کی، اُس کی قسمت سنوار دی، ان لوگوں میں مصطفیٰ کمال اتاترک، ترکی کے موجودہ صدر طیب اردوان، امریکہ کے صدر بل کلنٹن اور بعد میں بارک اوباما (جن کا مسلم گھرانے سے بھی تعلق تھا) نے اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ سنگاپور واحد ایشیائی ملک ہے، جس کی 111 ریٹنگ 
ہے، یہ دُنیا کا چوتھا بڑا مالیاتی مرکز ہے۔ اور آج اُن کی بندرگاہ دُنیا کی پانچ بڑی بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ معمولی بات یا کوئی کھیل نہیں تھا، بلکہ عجوبوں میں شمار کرنا پڑے گا۔ سنگاپور دُنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے، جہاں کی لوگوں کی آمدن سنہری الفاظ میں لکھی جاتی ہے۔ اُن کے پاس تیل جیسی دولت تو نہیں تھی لیکن آج اُن کے پاس 4 بڑی تیل نکالنے والی مشینیں ہیں۔ یہ سب کچھ ہمت، محنت، دیانت سے ہوا۔ لی نے اپنے لئے کوئی دولت اکٹھی نہیں کی۔ 
حیف ہے ہمارے سیاسی قائدین پر زرداری، فریال تالپور، شرجیل میمن، آغا سراج درانی، خورشید شاہ، اعجاز جاکھرانی اور(ن) لیگ کے نواز شریف جو 8 ہفتے کی مہلت عدالت سے لے کر علاج کے بہانے لندن گئے، آج تک کسی ڈاکٹر سے علاج نہیں کرایا، ایک سال سے زیادہ عرصے سے انگلستان میں مقیم ہیں، شکل سے اچھے خاصے صحت مند نظر آتے ہیں، مریم نواز جن کے پاس 95 کروڑ خود اُن کے کہنے کے مطابق اثاثے ہیں۔ شہباز شریف، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، اُن کے چھوٹے بھائی تو پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جن پر ایل این جی کی درآمد پر کمیشن کا الزام ہے، رانا ثناء اﷲ جس کی کار سے منشیات نکلی، سابق رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی جن پر 
ایفیڈرین امپورٹ کرنے کا الزام ہے، حسن نواز، حسین نواز، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار، اُنہیں بھی انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کی ضرورت ہے، نواز شریف کے دونوں بیٹے لندن میں عالی شان فلیٹ میں رہتے ہیں، جن کی قیمت بقول عمران خان کے 800 ارب ہے، اُن فلیٹس کا نام ایون فیلڈ اپارٹمنٹ ہے۔ اُنہیں سب کو انٹرپول کے ذریعے واپس وطن لانا چاہیے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس خود جے آئی ٹی تشکیل دیں، اُن لوگوں پر مشتمل جن کا ایمان مستحکم ہو اور وہ بکنے نہ پائیں۔ اگر تفتیش کار صحیح طور پر کام کریں، گواہان پیش کرسکیں جو اپنے بیان سے مُکر نہ پائیں تو بدعنوانوں کے خلاف کارروائیوں میں خود بخود تیزی آجائے گی اور عدالت کو اُنہیں مجرم ٹھہرانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔
اب وزیراعظم کا کام ہے کہ وہ اپنے وزرا کو ناصرف احکامات دیں، بلکہ اُن پر عمل درآمد کم از کم وقت میں کرنے کی ہدایت بھی دیں، محض شکلیں بدلنا کافی نہیں ہوگا۔ آپ کے سامنے میں نے خط جو کہ مفروضے پر مبنی ہے، رکھ دیا ہے، یہ سبق آموز ہے۔ وطن عزیز میں سیاسی قائدین (جنہیں عوام ووٹ دے کر عزت و توقیر بخشتے ہیں) خود اپنی اور اہل خانہ کی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ملک کیسے سنورے گا۔ جواب آپ پر چھوڑ دیتا ہوں۔