22 اپریل 2021
تازہ ترین

غیر ذمہ دارانہ طرز عمل … غیر ذمہ دارانہ طرز عمل …

وزیراعظم عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں، ملکی وسائل بڑھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہے۔ معیشت کے استحکام کے لئے اُن کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔ وزیراعظم جوں ہی اپنی کوششوں میں توانائی اور تیزی پیدا کرتے ہیں، ملک کے اندر بعض عوامل اپنی حرکتوں سے ترقی کی رفتار میں سست روی پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اُن کو مسائل کے حل کی جانب قدم بڑھانے سے باز رکھنے کے لئے اپوزیشن اتحاد ہر حربہ اختیار کرچکا ہے۔ دعوے جمہوریت کے کیے جاتے ہیں، لیکن عمل اس کے یکسر منافی ہے۔ بھئی جب عوام نے ایک جماعت کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے تو آپ کون ہوتے ہیں، اُنہیں وقت سے پہلے اقتدار سے بے دخل کرنے والے۔ اگر موجودہ حکومت عوام کی اُمیدوں پر پوری نہیں اُترتی تو اگلے عام انتخابات میں عوام اس حوالے سے خود بہتر فیصلہ کرلیں گے۔ اگر آپ انتخابی عمل کو مشکوک اور غیر شفاف قرار دیتے ہیں تو پھر حکومت کے ساتھ مل کر ایسی انتخابی اصلاحات متعارف کرائیں کہ آئندہ کسی کو بھی انتخابی عمل پر انگلی اُٹھانے کی جرأت نہ ہوسکے۔ حکومت کی جانب سے تو بارہا انتخابی اصلاحات کے ضمن میں پہل ہورہی ہے، مگر اپوزیشن کی طرف سے اس پر سردمہری کا سلسلہ دراز نظر آتا ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ ملک میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی میں ہولناک اضافہ ہوا ہے، غربت انسانوں کو کھارہی ہے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں۔ بنیادی ضروریات (بجلی، گیس اور ایندھن) کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور اب بھی وقتاً فوقتاً ان میں اضافے ہوتے رہتے ہیں۔ ہر شے کے دام آسمانوں پر پہنچ چکے ہیں۔ اشیاء ضروریہ کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہیں۔ چینی اور آٹا قومی تاریخ میں اس وقت سب سے زیادہ بلند قیمتوں پر فروخت ہورہے ہیں۔ اس حوالے سے مصنوعی بحران بھی وقتاً فوقتاً پیدا کیے جارہے ہیں۔ حکومت گرانی کا تدارک کرنے میں اب تک یکسر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے حکومت کو سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تو ہی بہتری کی صورت حال پیدا ہوسکے گی۔
ایک طرف مہنگائی کا عفریت ہے تو دوسری جانب کرونا وبا نے ساری کسر نکال کر رکھ دی ہے۔ اس کے باعث بے روزگاری میں خاصی شدّت آئی ہے۔ لوگوں کے جمے جمائے کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کی آمدن میں خاطرخواہ کمی واقع ہوگئی ہے۔ اُن کے لئے سفرِ زیست کسی عذاب سے کم نہیں۔ اوپر سے گرانی اُن کے لئے مزید سوہانِ روح ثابت ہورہی ہے۔ یہ بلاشبہ حکومت کے لئے خاصا کڑا وقت ہے اور اُسے بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نبردآزما ہونا کسی طور آسان نہیں ہے۔ ان تمام تر مشکلات کے باوجود وبا کی تینوں لہروں کے دوران حکومت کے اقدامات ہر لحاظ سے لائق تحسین قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ وبا کی پہلی لہر کے دوران حکومت نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی ڈیڑھ کروڑ سے زائد خاندانوں کی مالی امداد کا انقلابی اقدام کیا۔ سب سے بڑھ کر مکمل لاک ڈائون سے اجتناب کی پالیسی پر عمل پیرا رہی۔ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی کاروباروں کو چلنے دیا گیا۔ یوں معیشت کا پہیہ محدود پیمانے پر چلتا رہا۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں وبا کی دونوں لہروں سے قوم سرخرو ہوکر نکلی۔ وطن عزیز میں یہ اتنا نقصان نہیں پہنچاسکی، جتنا دوسرے ممالک کو ہوا۔ 
ملک کو معاشی ترقی دینے کے لئے تمام توانائیاں اور صلاحیتیں لگانے کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ خوش حالی لانے کے لئے ملک کے حکمرانوں، سیاست دانوں، صنعت کاروں، تاجروں، زمینداروں، ٹرانسپورٹروں اور مزدوروں سمیت سب کو اپنے اپنے دائروں میں خلوص دل سے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ کام میں تعطل پیدا کرنے کے رویوں کو ترک کرنا ہوگا۔
اقتدار میں آتے ہی ایک طرف وزیراعظم عمران خان نے مثبت سرگرمیوں کو بڑھاوا دیا، دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ابتدا سے رُکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں، یہ سلسلہ اب بھی پوری شد و مد سے جاری ہے۔ صاف دِکھائی دیتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی سیاست مفادات کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس باعث ان جماعتوں کے متعلق عوام میں خاصی بدگمانی پیدا ہورہی ہے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جو طبقات عوامی حمایت اور ہمدردی سے محروم ہوجائیں، انہیں کسی صورت کامیابی نہیں مل سکتی۔ اس لئے خدارا ملک و قوم کے حالات پر رحم کریں۔ تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کی روش اختیار کریں۔ ضروری ہے کہ سیاست دان برداشت، صبر، تحمل اور جمہوری رویوں کو پروان چڑھائیں۔ عوامی مسائل کے حل کے ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔