22 اپریل 2021
تازہ ترین

بندہ بن بندہ بندہ بن بندہ

پچھلے دنوں پاکستانی چڑیا گھر میں ناکردہ جرم میں عمر قید کی سزا بھگتنے والے بے زباں سفید شیرنی کے بچے کی ہلاکت کی خبر پڑھی تو ہمیشہ کی طرح مغموم ہوگئے۔ اسی طرح کچھ عرصہ پہلے ہم نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کے جانوروں کی ایک تصویر دیکھی، جس میں شیرنی کسی غریب ملک کی بلی لگ رہی تھی اور ہاتھی سکڑ کر بھینس کے قد کا نظر آرہا تھا۔ اسلام آباد کے چڑیا گھر کے جانوروں کے سکڑنے کی وجہ سردی یا کرونا نہیں، بلکہ انسانوں کی وہ سردمہری ہے جو سرکار سے ان جانوروں کی خوراک کے لئے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں اور پھر سارا سال حیوانی بھائی چارے کے تحت مل کے کھاپی جاتے ہیں۔ انکل سرگم کا کہنا ہے کہ اگر ایک نظر چڑیا گھر کے افسروں کو دیکھا جائے اور ایک نظر چڑیا گھر کے جانوروں کو تو فرق صاف نظر آنے لگتا ہے کہ افسر شیر بنا ہوا ہے اور شیر بکری۔ سمجھ نہیں آتا کہ شیر کرپشن پکڑے جانے کی وجہ سے بکری بن گیا ہے یا کرپشن کی وجہ سے بکری ہوگیا ہے۔ زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ انسانوں کی کرپشن یا کرونا کے باعث جانور بھی اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ 
ایک زمانہ تھا جب کوئی انسان زیادہ کھاتا تو اسے حیوان سے تشبیہہ دی جاتی تھی۔ اب کوئی زیادہ کھا جائے تو اسے حیوان نہیں بلکہ سیاست دان کہہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی بات پہ چڑیا گھر کے حیوان احتجاج بھی کرسکتے ہیں کہ پنجرے میں ہماری جگہ چڑیا گھر کے ان افسروں کو ہونا چاہیے، جن کی صحت ہم سے کہیں زیادہ ’’قابلِ دید‘‘ ہے۔ جانوروں کو بولنے کی قدرت ہوتی تو وہ انسانوں کا کردار دیکھ کر اس بات پہ بھی ضرور مائنڈ کرجاتے، جب ان کا کوئی ساتھی جانور ان سے یہ کہتا، ’’اوئے، انسان بن‘‘ ایک غریب انسان کی حالت دیکھ کر جانور آج کل اﷲ کا شکر بھی ادا کرتے ہوں گے کہ رب نے جو بنایا ٹھیک ہی بنایا۔ بقول انکل سرگم، آج کل کے گھر میں قید ایک انسان کی حالت بالکل ویسی ہی ہے، جیسی ہمارے ایک دوست کی ہے، جو ایک دوسرے دوست سے کہہ رہا تھا کہ اس کی خواہش ہے، اس کی عمر لمبی ہوجائے مگر سمجھ نہیں آتا کہ اس ناخالص ماحول میں ایسا ہونا کیسے ممکن ہوگا؟ دوست بولا، اس کے لئے تم شادی کرلو۔ وہ بولا، کیا شادی کرنے سے اس کی عمر لمبی ہوجائے گی؟ دوست نے جواب دیا، نہیں لمبی عمر کی خواہش ختم ہوجائے گی۔ 
تو جناب ہم کرونا سے تو بچتے پھر رہے ہیں مگراس دوران بہت سی ایسی چیزیں بھی نظر آنی شروع ہوگئی ہیں جنہیں ہم پہلے نظر انداز کرتے چلے آرہے تھے۔ ہمیں اندازہ ہوگیا کہ قید کیا ہوتی ہے اور آزادی کسے کہتے ہیں؟ ہمارا گھر اور خاندان کیا اہمیت رکھتا ہے، ہمیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ہماری زندگی میں گھر سنبھالنے والی بیوی اور بچے سنبھالنے والے اور انہیں کامیاب انسان بناکر اعتماد دینے والے ٹیچرز کی اہمیت کتنی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر انسانی خدمت میں اپنی جانیں نثار کردینے والے آرمی، ڈاکٹرز اور پولیس کے یونیفارم میں فرشتے ہماری زندگیوں کو کتنا سہل بنادیتے ہیں۔ مگر ہم انسانوں میں جو سب سے بڑی برائی ہے، اسے جھوٹ کہتے ہیں اور جو صرف انسان ہی بولتا ہے۔ اور ان میں جو سچ بولتا ہے، اسے ہم بدزبان، بدکلام، بدتہذیب اور بُرا کہتے ہیں۔ ایک غریب انسان چڑیا گھر کی سیر کرتے ہوئے طوطے کے پنجرے کے پاس جاکر بولا، ’’چُوری کھائو گے؟‘‘ طوطے نے تمسخرانہ لہجے میں جواب دیا، ’’کبھی خود بھی کھائی ہے؟‘‘ جانوروں اور انسانوں کے صدیوں ساتھ ساتھ رہنے سے ان میں کئی عادات اور حرکات بھی ملنا جلنا شروع ہوگئی ہیں۔ بقول انکل سرگم، اب ایک وفادار جانور اور وفادار ماتحت انسان میں صرف دُم کا ہی فرق رہ گیا ہے۔ جانور صرف انسان کے کام آتا ہے جب کہ انسان کو جانور کا کام بھی آتا ہے۔ 
آج کل اگر کسی انسان کو الو کہا جائے تو الو کو بُرا لگتا ہے۔ اسی طرح اگر شیر انسان کو کھاجائے تو اسے آدم خور کہہ کر مار دیا جاتا ہے اور اگر انسان شیرکو کھا جائے تو اسے حرام خور کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انسانوں کے بزنس سے جانور کو کوئی فائدہ نہیں جب کہ جانوروں کے بزنس سے انسان بڑے بڑے فائدے اُٹھاتا ہے۔ تانگے کے آگے جُتا گھوڑا، تماشائیوں کو سلام کرتا بندر، تماش بینوں کا جی بہلاتا بھالو، ٹی وی فلم کا اداکار، گلوکار، گلیمر اور سرکس میں کرتب دکھاتا شیر اور ہاتھی، یہ سب وہ مخلوق ہے جو اشرف المخلوق کی کمائی اور پیٹ بھرنے کے کام آتی ہے۔ بقول انکل سرگم، ٹریکٹر اور بیل میں بیل انسان کے زیادہ کام آتا ہے کہ بیل خراب ہونے کے بعد پھینکا نہیں جاتا، بلکہ کھالیا جاتا ہے۔ انسان مرجائے تو انسان روتا ہے کہ مرنے والا اب کسی کام کا نہیں، جانور مرجائے تو روتا اس لئے نہیں کہ وہ اب ’’سوا لاکھ‘‘ کا ہوگیا۔ جانور انسان سے بہت کچھ نہیں سیکھ سکا، مثلاً، کرپشن، رشوت، دھاندلی، بددیانتی وغیرہ۔ ہمارے ہاں انسانوں نے مغرب کے علاوہ جانوروں سے بھی سیکھا ہے، اس کی ایک مثال ہمیں اکثر سڑک کے کنارے دونوں مخلوقات کو پیشاب کرتے دیکھ کر مل جاتی ہے۔ جو جانور محنتی، وفادار، آنکھیں بند کرکے تعمیل کرنے والے ہوتے ہیں، ان کی کوالٹی کی بنا پہ انسانوں کو ان جانوروں کے ناموں کے خطاب سے نوازا جاتا ہے، مثلاً گدھا، طوطا، الو، کتا، بیل وغیرہ وغیرہ۔ استاد نے بچے سے پوچھا، ’’وہ کون سا ایسا جاندار ہے جو ہمیں خوراک مہیا کرتا ہے، سردی میں گرم پوشاک اور جوتے مہیا کرتا ہے اور سواری بھی کراتا ہے؟‘‘ ایک بچے نے جواب دیا، ’’اباجان‘‘۔ 
انسان اور حیوان میں اخلاقی اقدار دن بہ دن اس قدر مشترک ہوتی جارہی ہیں کہ انسانوں میں بھیڑیے، خون آشام چمگادڑوں اور گِدھوں کی پہچان مشکل ہوتی جارہی ہے۔ انکل سرگم کے ذاتی تجزیے کے مطابق کرونا وائرس نے جہاں انسانوں کو بے بس بنادیا، وہیں انسانوں کو بہت کچھ نیا سکھلادیا کہ میڈیا پہ بتایا جانے والا یہ نعرہ کہ کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے، بالکل غلط ہے، اس لئے کہ اﷲ کے عذاب سے لڑا نہیں جاسکتا، بلکہ اس سے بچنے کے لئے انسانوں کو اﷲ سے دعا مانگنی چاہیے اور توبہ کرنی چاہیے، نہیں تو انکل سرگم کی شاعری سچ ثابت ہوجائے گی کہ انسان بھی ترقی کیا خوب کررہا ہے۔۔۔ بیماریوں سے اپنی جھولی کو بھررہا ہے۔
آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ لاک ڈائون کے دوران انسان تو انسان، حیوان بھی پریشان ہوگئے تھے۔ پرندے جو سویرے سویرے اپنی خوبصورت بولیاں بول کر فضائوں میں رس گھولتے اور قدرت کے حسن میں اضافہ کرتے، وہ بھی خموشی سے جانے کہاں چلے گئے؟ بلکہ یوں کہیے کہ پالتو جانور بھی حیران ہیں کہ انسانوں کو یہ کیا ہوگیا ہے، انسان اب انسان جیسے کیوں لگنا شروع ہوگئے ہیں؟ اب وہ سارا دن گھر میں کیوں رہتے ہیں؟ وہ اپنے بچوں اور خاص طور پہ ہم جانوروں پہ اتنا پیار کیوں جتانے لگ گئے ہیں؟ اور تو اور چڑیا گھر کے جانور جو سارا دن تماش بین انسانوں کے ہاتھوں پریشان نظر آتے تھے، وہ بھی اب دُور دُور تک انسانوں کا وجود نہ دیکھ کرایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ انسان کہاں غائب ہوگئے؟ اب وہ ہمیں قید میں دیکھ کر خوشی سے تالیاں بجانے کیوں نہیں آتے؟ اب کیا وہ انسان نہیں رہے؟ کیا سارے انسان بندے بن گئے ہیں؟ یہ تو تھی آج کل کے حالات میں سہمے ہوئے انسان کی کہانی جو سہما ہوا بھی لگتا ہے اور اس کے ساتھ اپنی انسانی روایات (جس میں قتل، ڈاکہ، چوری، بے ایمانی اور ملاوٹ سرفہرست ہیں) کو بھی اپنایا ہوا ہے اور ایک ہاتھ میں موت اور دوسرے میں اپنی انسان و حیوان کُش روایات کو اٹھائے بھی پھرتا ہے۔