10 اپریل 2020
تازہ ترین

خبروں پر تڑکےخبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکےخبروں پر تڑکے

٭سیاستدان لفظ سلیکٹڈ میں الجھے ہیں
اپنے اپنے سلیکٹڈ وزرائے اعظم کا تجربہ رکھنے والے آج کے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے کی رَٹ لگائے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کو ان کا نوٹس ہی نہیں لینا چاہیے، وہ تو ان کی باری کا سرکل توڑ کر عوامی سپورٹ سے منتخب ہوئے ہیں۔ ان کے اقدامات بول رہے ہیں۔ ماضی کے وزرائے اعظم صدور کی طرح سلیکٹڈ ہوتے تھے۔ جیسے آصف علی زرداری نے اپنی سلیکشن صدر کے طور پر کرانے کو ترجیح دی تھی۔ کچھ وزرائے اعظم تین تین بار بھی سلیکٹ ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ سالہا سال کی جدوجہد سے عوامی مقبولیت کا حصول اور پھر وزیراعظم منتخب ہونے جیسے اوامر سلیکٹڈ کی نفی کرتے ہیں۔ 
٭نسوار ساتھ رکھ کر فضائی سفر کرنا جرم قرار
بہت سارے ممالک نے نسوار کو منشیات قرار دیا ہے تو اب اس پر پابندی عائد کی جارہی ہے، ورنہ ایک عرصے سے لوگ نسوار کے ساتھ سفر کرتے رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے بعض پائلٹ اور عملہ کے لوگ بھی نسوار استعمال کرتے رہے ہوں۔ ہمارے کے پی کے میں تو نسوار بہت عام ہے۔ ایک پٹھان اپنے بچے کو ہسپتال لے کر گیا۔ چونکہ بچہ تکلیف میں تھا۔ ڈاکٹر نے پوچھا، بچے کو کوئی سخت چیز تو نہیں دے دی۔ پٹھان بولا، کوئی سخت چیز تو نہیں دی۔ یہ رو رہا تھا تو اسے ایک چٹکی نسوار دی۔ کیا اب ہمیں بھی نسوار پر پابندی لگانی ہوگی۔
٭ٹائیفائیڈ کی وجہ جنک فوڈ، ہوٹلوں کا کھانا، محکمہ صحت
کہتے ہیں کہ آپ اس وقت تک جنک فوڈ کھاسکتے ہیں جب تک آپ اسے خود تیار کریں۔ ہمارے نوجوانوں کے ساتھ مسئلہ ہے کہ نہ تو وہ سائیکلوں پر سکول یا کالج جاتے ہیں اور ان کے اداروں میں فاسٹ فوڈ ہی دستیاب ہوتا ہے۔ محکمۂ صحت کہہ رہا ہے کہ ٹائیفائیڈ کی وجہ جنک فوڈ ہے۔ والدین کو چاہیے، بچوں کو کچن فوڈ کی طرف واپس لائیں تاکہ وہ محفوظ رہ سکیں۔ ماں باپ کو چاہیے کہ کم از کم بچے گھروں میں تو جنک فوڈ سے اجتناب کریں۔ آج کل کے ہمارے شیر گھر کے کھانے کو جنک فوڈ کہہ کر بازاری جنک فوڈ کو گھروں میں دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ ہماری گلیوں میں ڈیلیوری بوائے ایسے نظر آتے ہیں، جیسے وہ محلے کا حصہ ہوں۔ گھروں کا کھانا تو ضائع ہورہا ہوتا یا پھر ملازمین کے استعمال میں آتا ہے۔
٭شوہر سے گھر کے کام کرانے پر بیوی کو سزا
ایک باپ نے بیٹے سے کہا کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے والدین، استاد اور باس سخت ہیں اور ان کا رویہ برا ہے تو اپنی شادی کا انتظار کرو، تم ان سب کی تعریف کرنے لگوگے۔ دنیا میں ایسے خطے بھی ہیں جہاں بیویوں کی سخت گیری پر خاوند بھی شکایت کرسکتے ہیں۔ اب برطانیہ میں شوہر کی شکایت پر بیوی کو 17 گھنٹے جیل میں گزارنا پڑے۔ ہمارے ہاں اگر ایسے مقدمات ہونے لگیں تو بیویوں سے زیادہ شکایات شوہروں کی درج ہوں۔ ہمارے ہاں شوہر اخلاقاً سب ضبط کرلیتے ہیں۔ اگرچہ خواتین بھی اکثر صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں، تاہم ہمارے معاشرے میں زیادہ شوہر بے چارے اور بیویوں کے زیر اثر ہیں۔ اس لیے اکثر مائیں بیٹوں کو رن مرید کا طعنہ دیتی نظر آتی ہیں۔
٭پی آئی اے: یورپی روٹس پر پروازوں کی بندش، ہالینڈ میں جائیدادیں کرایہ پر دے دیں
ہمارے ہاں عام لوگ بسیں خرید کر کمپنیوں میں ڈال دیتے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ طیارے خرید کر پی آئی اے کو دے دیں اور منافع وصول کرتے رہیں۔ یوں پی آئی اے کی سروس تو ہر جگہ چلتی رہے گی، ورنہ آئے دن یہی سننے میں آرہا ہے کہ پی آئی اے کی امریکا کی سروس بند اور کبھی یورپ کی سروس بند، تاہم ان لوگوں کو حکومتی گارنٹی لازمی ہوگی کہ پی آئی اے کے خسارے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ یقین مانیں کہ پی آئی اے کو طیاروں کی کمی نہیں رہے گی۔ پی آئی اے کو بھی بسوں کے سٹائل پر چلانا ضروری ہوگیا ہے۔ پاکستانی اپنے طیارے خرید کر پی آئی اے میں ڈالنا شروع کردیں۔
٭لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی: ملازمین کو بائیومیٹرک حاضری کا حکم
بہت سارے طلباء سمجھتے ہیں کہ کلاس میں 75 فیصد حاضری پوزیشن حاصل کرنے سے بھی مشکل ہے۔ اسی طرح دفاتر میں لوگ سمجھتے ہیں کہ تھوڑا سا لیٹ جاکر بھی وہ اپنے کام سے انصاف کرسکتے ہیں، تاہم اس کے باوجود باس سمجھتے ہیں کہ وقت پر آنا اور وقت پر جانا ہی بہترین کارکردگی ہے۔ اس لیے ہمارے دفاتر میں بائیومیٹرکس حاضری کی رسم ڈالی جارہی ہے۔ یہ اور بات کہ ملازمین اس مشین کو گاہے بگاہے خراب کردیتے ہیں۔ اس لیے ان پر کیمرے کی آنکھ بھی رکھی جانی چاہیے۔ ویسے جب سکول میں ہوتے تھے تو سوچتے تھے کالج جائیں گے تو کالج کم ہی جایا کریں گے مگر 75 فیصد حاضری کے چکر میں کالج جانا پڑا۔ اب دفاتر میں بائیومیٹرکس حاضری کے باعث کتنے ارمان ہیں کہ وہ رہ ہی جاتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں یہ عام ہے کہ روز دفتر جانے والے کو بھی اتنی ہی تنخواہ ملتی ہے جو کبھی کبھار جانے والوں کو ملتی ہے۔
٭پاکستانی کلینر کو 15کلو سونے سے بھرا بیگ لوٹانے پر اعزاز سے نوازا گیا
چکری کے نوجوان طاہر علی نے متحدہ عرب امارات میں پارکنگ سے ملنے والا بیگ (جس میں 15کلو سونا تھا) لوٹاکر لوگوں کو چکرادیا۔ دبئی روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سربراہ نے طاہر علی کو اعزاز سے نوازا۔ صحیح کہتے ہیں کہ ایمان داری سے زیادہ عزت کا کوئی مقام نہیں۔ ہمارے ہاں اکثر عام لوگ اور دیار غیر میں بھی ہمارے لوگ ایمان داری کی مثالیں قائم کرتے رہتے ہیں۔ شاید ہمارے عام لوگوں میں لالچ کی شرح کم اور ایمان داری کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت تنخواہ دار اور عام لوگوں سے ہی ٹیکس وصول کرتی ہے۔ عام لوگ ہمیشہ کے لیے ایمان داری کو شعار بناتے ہیں جب کہ بڑے لوگ اپنی مرضی کے اوقات میں ایمان داری چنتے ہیں۔