23 ستمبر 2018
تازہ ترین

۲۸ جولائی ۲۰۱۷ ۲۸ جولائی ۲۰۱۷

 ڈاکٹر طاہر حمید تنولی قیام پاکستان پر قائد اعظم نے فرمایا تھا پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے، یہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ قائد اعظم کا یہ بیان صرف بیان نہیں بلکہ قیام پاکستان کی اساس اور اس وجہ جواز کو بیان کر رہا ہے جو اس کے مستقبل کا ضامن ہے۔ پاکستان کا قیام ایک نظریے اور ایک فکر کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس کی آج انسانیت کو ضرورت ہے۔ جب تک انسانیت موجود ہے، یہ نظریہ ختم نہیں ہو سکتا۔ یہی نظریہ اس ملک کے تسلسل اور قیام کی ضمانت بھی ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ا س ملک میں وہی قیادتیں عزت اور بقا حاصل کر پائیں گی جو اپنے ذاتی مفادات کی بجائے اس ملک کی خدمت اور مفادات کے تحفظ کو اپنا مطمح نظر بنائیں گی یعنی ملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمر۔ ہماری ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حکمرانوں نے ا س نظریے سے بغاوت کی دست قدرت نے انہیں طاق نسیاں کے سپرد کر دیا۔ ۲۸ جول  ائی کو عدالت عالیہ کے فیصلے نے ہمیں من حیث القوم اپنے قومی مع املات پر نظر ثانی کرنے اور اپنے معاشرے کو قیام پاکستان کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد قومی مقاصد کو ملکی آئین اور نظام کا حصہ بنانے کے لیے قرار داد مقاصد منظور کی گئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قرارداد مقاصد کی روح پر عمل کرتے ہوئے ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دیا جاتا جو عدل اجتماعی کا عملی مظہر ہوتا۔مگر بعد کے ادوار میں قرار داد مقاصد کی روح پر عمل کرنے کی بجائے اسے مذہبی مباحث کی نذر کر کے اس کی اہمیت کو کم کیا گیا۔ ۲۰ اپریل ۲۰۱۷ئ کو پانامہ کیس کے پہلے فیصلے میں ان مغالطوں اور بے مقصد بحثوں کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ اس فیصلے میں ان تاریخی حقائق کا اعادہ کیا گیا جن کے بارے میں معاشرے میں اکثر مغالطے پیدا کرنے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ قرار داد مقاصد کے تاریخی پس منظر اور پاکستان کے لیے اس کی آئینی، سماجی اور معاشرتی اہمیت بیان کرتے ہوئے اس فیصلے میں قرار دیا گیا کہ اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اس ریاست کے قیام کا بنیادی نظریہ جسے نظریہ پاکستان کہتے ہیں کا بنیادی عنصر اسلام اور ایمان ہے۔ آئین پاکستان کی تشکیل سے پہلے ۱۹۴۹ئ میں پاکستان کی پہلی آئینی اسمبلی نے نظریہ پاکستان کو واضح کرنے کے لیے ایک قرار دار پاس کی تھی جس کا متن درج ذیل ہے مذکورہ قرار داد جسے عام طور پر قرار داد مقاصد کہا جاتا ہے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور پاکستان کے عوامی نمائندے اس اقتدار اعلیٰ کو بطور امانت استعمال کریں گے قرارداد مقاصد کے نکات کو آئین پاکستان کا غالب حصہ اور ان نکات کے اطلاق کو آئین کا ناقابل تنسیخ حصہ بنا دیا گیا ہے۔ قرار داد مقاصد کے کئی نکات بہت شاندار ہیں اور ان سے فرار کسی طور ممکن نہیں  یہ ایک مسلمان کے ایمان کا بنیادی جوہر ہے کہ وہ زندگی میں اپنی مرضی کے فیصلے تو کرسکتا ہے لیکن وہ کبھی بھی خالق کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا  صرف جمہوریت ہی واحد طرز حکومت ہے لیکن ایسی جمہوریت جو اسلام اور ایمان سے متصادم نہ ہو  قرار داد مقاصد میں جمہوریت، مساوات، آزادی، رواداری اور سماجی انصاف کے جو اصول وضع کیے گئے ہیں وہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہیں  یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے اسلامی جمہوریت کا تصور دیا جس کو بعد میں کئی دیگر اسلامی ملکوں نے بھی اپنایا  اگر حکومتی منبع کی صفائی کا مقصد حاصل کر لیا جائے تو ریاست کے قانون ساز اور انتظامی اداروں کی صفائی خود بخود ہو جائے گی۔ اسی حقیقت کو فیصلے میں دوبارہ یوں واضح کیا گیا: ہمارے آئین میں مقرر کردہ حدود کا اندازہ آئین کی ابتدائی سطروں سے ہی ہو جاتا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات کے پاس ہے اور پاکستان کا نظام حکومت منتخب کردہ افراد کے ذریعے چلایا جائے گا یہ ہمارے آئین کی روح ہے۔ آرٹیکل 62, 63 کے نفاذ اور تشریح کا معاملہ ہمارے ہاں ہمیشہ ایک متنازعہ معاملہ رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 62, 63کس دور میں شامل کی گئی، یہ حقیقت ہے کہ جب تک ہماری قومی زندگی کو آرٹیکل 62, 63 سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا ہم ایک فلاحی معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ صادق اور امین ہونا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرت مبارکہ کے وہ اوصاف ہیں جن کا اعتراف آپ کے مخالفین نے اعلان نبوت سے بھی پہلے کیا۔ یعنی اسو ہ حسنہ کے یہ وہ اوصاف ہیں جو ایک مسلمان کی زندگی کے غالب اوصاف ہونے چاہئیں۔ بقیہ تمام اخلاقی اقدار کی بنیاد یہی دو اقدار ہیں۔ عدالت عالیہ نے اس نزاع کے حل کے لیے بہت واضح طور پر حدود کا تعین کیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہمیں ا س بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ آرٹیکل 62, 63 کی اخلاقی حدود ان لوگوں پر نافذ ہوتی ہیں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہیں بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے۔ عوامی حمایت کا آئین میں دیے گئے اخلاقی تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مذکورہ اخلاقیاتی حدود کسی بھی شخص کو عوامی عہدیدار بننے کے لیے یا عوامی عہدہ رکھنے کے حوالے سے بات کرتی ہے اور ملک کی عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اخلاقیاتی حدود کا نفاذ کریں۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے منصب پر فائز ججز آئین کے تحت پابند ہیں کہ وہ آئین اور قانون کی عملداری قائم کریں۔ عدالتیں تب بھی آئین اور قانون کی عملداری کرائیں گی جب معاشرے کا کوئی مخصوص حصہ اسے ناپسند کرے۔ یہ لمحہ فکریہ اور لمحہ خود احتساب ہے کہ ہم اعلی عدلیہ کے اس فیصلے کو ذاتی انتقام اور وقتی محاذ آرائی کا ذریعہ بنانے کی بجائے قومی تعمیر کی طرف پیش رفت کا ذریعہ بنائیں۔ پاکستان کے تاریخی منصب اور بانیان پاکستان کے عزم اور وعدوں کا پاس کریں ۔ اگر ہم اس زاویہ نگاہ کے ساتھ اپنا قومی سفر شروع کریں گے تو کیا ہم کشمیر میں ہونے والے مظالم اور بھارت میں مسلمانوں کو مسلمان ہونے کی ملنے والی سزا پر خاموش تماشائی رہ سکیں گے؟ کیا پھر ہم اس ملک کی ہر گلی کوچے کو اپنے گھر کے صحن کی طرح اور اس ملک کے ہر شہری کو اپنے خاندان اور ہمسائے کی طرح نہ سمجھیں گے؟ سازشی نظریوں کی بحث میں الجھنے سے سوائے وقت اور توانائی کے ضیاع کے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ ہمیں بطور قوم اس فیصلے سے قوت حاصل کر کے افراط و تفریط کی بجائے اعتدال کی روش اختیار کر نی ہو گی اور ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے کی جدوجہد کرنی ہو گی۔ اور عدالت عالیہ ہی کے الفاظ میں: بحیثیت قوم ہمیں عظیم شاعر اور فلاسفر علامہ محمد اقبال کے الفاظ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی حقیقی صلاحیت تک پہنچنے کے خواہاں اور اقوام عالم میں اپنا سربلند رکھنا چاہتے ہیں: صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب