20 اگست 2019
تازہ ترین

یہ رہبر ہیں…؟ یہ رہبر ہیں…؟

ہمارے معاشرے میں ساری برائیاں رہبروں سے ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ کیسے؟ وہ ایسے کہ ہمارے سیاست دان ہمارے رہبر ہیں، ہمارے ٹی وی اینکرز ہمارے رہبر ہیں، ان سب میں اکثر دوسروںکی برائی میں اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں، کبھی کسی سیاست دان نے کہا ہے کہ سارے سیاست دان بہت اچھے ہیں، جب بھی کوئی سیاست دان تقریر کرتا ہے تو صرف اور صرف دوسروں کی برائی کرتا ہے، یہی قابلیت ہر لیڈر اور ہر رہبر کے پاس ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بربادی کی وجہ ہمارا رہبر ہے، جن رہبروں کا میں نے اوپر ذکر کیا، وہ ہمارے استاد ہیں۔ استاد کا کیا مقام ہے؟ اگر میں ایک ایک کا ذکر کرتا چلوں تو سب ہمیں زوال کی طرف لے کر جارہے ہیں۔ میں اپنے ٹی وی پروگرام ’’فیض عام‘‘ میں ان برائیوں کا ذکر کرتا ہوں جو ہم سب میں ہیں، وہ مجھ میں بھی ہیں اور آپ میں بھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ چور ہیں اور میں نیک ہوں۔ اگر آپ چور ہیں تو میں بھی چور ہوں۔ ہم سب کو مل جل کر اپنی برائیاں دور کرنی ہیں۔ ہمارے رہبروںکے پاس صرف دوسروں کو چور کہنے کی طاقت ہے۔ خود کو نیک اور پارسا سمجھتے ہیں، دراصل چور کو چور ہی نظر آتے ہیں، یہ بہت پرانی بات ہے۔ 
اب ذرا ہم اپنے لیڈروں پر نظر ڈالتے ہیں۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، لیڈروں کو دوسروں کی برائیاں کرتے ہی دیکھا ہے، کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ فلاں بہت اچھا ہے، دراصل خود کو اچھا کہنے کا یہی طریقہ دنیا میں موجود ہے کہ دوسروں کو برا کہتے رہو، یہی اپنی تعریف اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ جب میں نے ایوب خان کا زمانہ دیکھا تو اس وقت بھٹو نے کامیابی ایوب خان کو بُرا بھلا کہہ کر حاصل کی۔ ان کے بعد ضیاء صاحب آگئے، وہ سیاست دان تو نہیں تھے مگر وہ بھٹو کو بُرا آدمی اور قاتل ظاہر کرتے رہے اور اپنی دُکان داری چلاتے رہے، ان کے بعد نواز شریف آگئے اور بے نظیر آگئیں۔ دونوں ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے رہے۔ پرویز مشرف نے بھی اپنی ذات کا خیال رکھا، ساتھ چوہدری فیملی شامل ہوگئی، سب ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے رہے، کسی نے عوام کا خیال نہیں کیا اور پھر عمران خان آگئے، وہ جو دوسروں کی تعریف کرتے رہے، وہ آپ کے سامنے ہیں۔ اب عمران خان حکمراں ہیں، وہ جہاں جاتے ہیں کہتے ہیں کہ میں دیانت دار ہوں اور باقی پاکستان میں میرے ساتھیوں کے علاوہ کوئی دیانت دار نہیں۔ انسان ہو اور اسے پیسوں کی ضرورت نہ ہو، یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے، جب یہ گروپ جائے گا پھر جو ہوگا، اسے سارا جہان دیکھے گا۔
پاکستان میں فرشتہ صفت مخلوق کہیں نہیں رہتی، آج کا انسان دیانت دار کیسے ہوسکتا ہے۔ پرانے زمانے میں جو لوگ تھے وہ اب کہاں۔ جب رعایا دیانت نہیںکرتی تو رہبر کیسے کریں گے۔ پاکستان کا سب سے بڑا کاروبار دوسروں کو بُرا کہنا ہے۔ میں بھی تو سب کو برا کہہ رہا ہوں، میرے پاس بھی کوئی اچھائی نہیں۔ ہم سب کو اچھے سچے رہبر تلاش کرنے کی ضرورت ہے، اس کا سب سے اچھا طریقہ ہے اپنی اصلاح کریں اور دوسروں کے جھوٹے نعروں پرچلنا چھوڑ دیں۔ یہ سب رہبر اپنی دُکان داری کررہے ہیں۔ ان سب نے ہمارے معاشرے کو فنا کردیا ہے، کسی نے ہمارے ساتھ بھلائی نہیں کی، سب کو اپنے اقتدار اور مقام کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا کا کوئی انسان دوسروں کے لیے زندہ نہیں۔ 
عوام سے اپیل ہے کہ کسی رہبر سے متاثر نہ ہوں اور اپنی عقل سے کام لیں، جو دوسروں کو برا کہتے ہیں وہ خود اچھے نہیں ہوتے۔ یہ پرانی بات ہے۔ پہلے زمانے کے لوگ کہتے تھے آئینے میں اپنی ہی صورت نظر آتی ہے، سب سیاست میں دھوکہ دیتے ہیں، سب رہبر اپنی رہبری کا کاروبار کرتے ہیں۔
کیا اچھائی میں کوئی کاروبار نہیں ہوتا
اور رہبروں میں سچا پیار نہیں ہوتا
سب اپنے عروج کے بھوکے ہوتے ہیں 
اسی لیے تو اُن پر اعتبار نہیں ہوتا
اپنی ذات پر جو قومیں بھروسا نہیں کرتیں، ان کے رہبر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ذرا سوچیے۔