20 اکتوبر 2018
تازہ ترین

یہ جنوں نہیں تو کیا ہے یہ جنوں نہیں تو کیا ہے

ڈالر کی قیمت کیا پہلی مرتبہ بڑھی ہے؟ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کیا۔ تیس سال سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ شاید آپ کو علم ہو کہ اپنے والد کے برعکس محترمہ بے نظیر بٹھو کے معاشی نظریات فری مارکیٹ اکانومی کے حامل تھے، وہ ذوالفقار علی بھٹو کے برعکس قومیانے کی پالیسی کی حامی نہیں تھیں۔ گو کہ بھٹو مرحوم نے کنٹرولڈ اکانومی اپنائی ہوئی تھی، جسے وہ اسلامی سوشل ازم کا نام دیتے تھے۔ میاں نواز شریف بھی محترمہ کی طرح فری اکانومی کے پرچارک رہے۔ جنرل ضیا الحق بھی بھٹو مرحوم کی طرح کنٹرولڈ اکانو می کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ آپ ان کی پالیسیوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے امریکا سے گہرے تعلقات ہونے کے باوجود کبھی پاکستانی کرنسی کو ڈالر سے منسوب نہیں کیا۔ نہ ہی پاکستان تب تک آئی ایم ایف کے پاس گیا تھا، جنرل ضیا الحق کی موت کے بعد جب محترمہ نے عنان اقتدار سنبھالا تو اپنے شہید والد کے برعکس سوچ کے ساتھ حکمرانی کا آغاز کیا۔ اس کی وجہ ان کا مغرب میں مستقل قیام تھا یا پہلے سے طے شدہ کچھ اور معاملات۔ اس پر الگ سے بحث کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ کا رجحان سوشلزم کے بجائے سرمایہ دارانہ پالیسیوں کی طرف تھا اور انہیں اس سلسلے میں مغرب کی مکمل حمایت بھی حاصل رہی۔
اس کے بعد میاں نواز شریف کا دور بھی محترمہ کی معاشی پالیسیوں کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ دونوں کی معاشی پالیسیوں سے بحث نہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس دور میں کچھ ایسے انقلابی معاشی فیصلے کیے گئے، جنہوں نے ہماری معیشت کو کینسر لگا دیا۔ ان میں تین اہم اقدامات یہ ہیں، پاکستانی روپے کو ڈالر سے منسلک کرنا۔ پاکستانی کرنسی کی ڈی ویلیو ایشن اور آئی ایم ایف کے پاس جانا۔ ان تینوں اقدامات کی وجوہات تو یقیناً رہی ہوں گی، لیکن یہ ہماری معیشت کے مستقل روگ ہیں۔ جن سے عمران خان بھی پُرعزم ہونے کے باوجود جان نہیں چھڑا سکتے۔ اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ ایک مرتبہ یہودیت کی اس دلدل میں اتریں۔ گردن گردن تک اس میں دھنس جائیں اور زور لگا کر نکلنے کی کامیاب کوشش کریں۔ اس طرح آپ اس میں مزید گہرے تو دھنستے جائیں گے لیکن باہر نہیں آ سکتے۔
جب ہم پہلی مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئے تو اس نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ روپے کو اپنی قدر طے کرنے کے لیے فلوٹ کر دیا جائے، یعنی آزاد چھوڑ دیا جائے۔ انیس سو نوے میں ہم نے اس پر سر تسلیم خم کر دیا اور اگلے بارہ گھنٹے میں روپیہ پندرہ فیصد ڈی ویلیو ہو گیا۔ جس کے بعد سے آج تک یہ سلسلہ جاری اس مرتبہ تو حد ہی ہو گئی کہ ڈالر توقعات سے بڑھ کر مہنگا ہو گیا ہے۔ میرے ناقص مطالعے کے مطابق یہ ابھی مزید مہنگا ہو گا۔ اس لیے مہنگائی کے بڑے طوفان کی تیاریاں کر لیجئے۔ اب ایک تلخ حقیقت بھی جان لیجئے کہ موجودہ حکومت کوئی مریخ سے نازل نہیں ہوئی یہ گزشتہ حکومتوں کا تسلسل ہے۔ عمران خان البتہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کرپشن پر قابو پا کر اس طوفان کی شدت کو کم کر لیں گے۔ ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں، لیکن یہ بظاہر آسان دکھائی نہیں دیتا۔ کرپٹ مافیا معاشرے میں بہت گہرے پنجے گاڑ چکا ہے۔ اسے آپ حکیموں کی زبان میں جڑوں والا کینسر کہہ سکتے ہیں۔ ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جو اس سے محفوظ ہو۔ خصوصاً سیاستدان تو اس میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ جمہوریت کے نام پر جو جمہوری غلاظت اس ملک پر عرصہ سے مسلط رہی ہے، اس نے نیچے سے اوپر تک سب کو اس رنگ میں رنگ لیا ہے۔ سارا معاشرہ اپنی مرضی یا جبر آپ کوئی بھی نام دے لیں، ان کا سٹیک ہولڈر بن چکا ہے۔ ان حالات میں لوہے کے اعصاب رکھنے والا کوئی انقلابی ہی مسلسل عزم بالجزم سے ہی سرخرو ہو سکتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے اللہ اس قوم کو کوئی ایسا لیڈر ضرور دے گا، عین ممکن ہے یہ سعادت موجودہ قیادت ہی کا اعزاز بن جائے۔