13 نومبر 2018
تازہ ترین

یہودیوں کا آخری پیامبر یہودیوں کا آخری پیامبر

اسرائیلی دانشور اووری ایونری نے ایک موقع پر ایک دوست کو لکھا،’’ اگر تمہیں میرا ہفتہ وار کالم نہ ملے ، اس کا مطلب ہو گا کہ میری موت ہو گئی ہے‘‘۔ تب سے مجھے یہی خوف ستاتا رہا کہ اووری ایونری کا نیا کالم کہیں آخری نہ ہو۔ پھر وہ دن آ ہی گیا۔ 94سالہ معروف مصنف اور امن کے داعی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، تب سے یہودیوں کے آخری پیامبر کی آواز خاموش ہو گئی ۔ میری نظر میں ایونری مشرق وسطیٰ کی دانا ترین آواز اور اسرائیل کے آخری پیامبر تھے۔ اُن کی آواز ہمیشہ حکمت ، اخلاقیات اور معقولیت سے لبریز ہوتی تھی۔ ان کی منطق اور استدلال کی سطح پر محض چند اسرائیلی اور عرب ہی پہنچ پائے تھے۔ 
اووری ایونری جدید اسرائیل کا مثبت چہرہ تھے۔ وہ جرمنی کے شہر ہانوور کے ایک خوشحال یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے بعد اُن کا خاندان 1933ء میں فلسطین منتقل ہو گیا، تب اووری ایونری کی عمر محض 11سال تھی۔ 1948ء میں اپنی جوانی کے دور میں اووری زیر زمین یہودی گوریلا فورس ’’ارگن‘‘ میں شامل ہو گئے، برطانیہ اور فلسطینیوں کے خلاف جنگ لڑی ، بعدازاں عربوں کی ریگولر فوج کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔اووری نے کئی دہشت گرد کارروائیوں میں بھی حصہ لیا، جو فلسطینیوں کی اپنے آبائی گھروں سے بے دخلی کی بنیادی وجہ بنیں۔ ایک کارروائی کے دوران وہ بری طرح سے زخمی ہو گئے۔ دو سال بعد انہوںنے اپنے تین دوستوں کیساتھ ایک سیاسی رسالے ’’ون ورلڈ‘‘ کا اجرا کیا۔
ان دنوں اووری ایونری اسرائیلی توسیع پسندی کے حامی تھی۔ مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ اسرائیل کے مسائل صرف امن و تعاون سے حل ہو سکتے ہیں۔ 1956ء اور 1967ء میں اسرائیل کی عربوں کیخلاف جنگی کامیابیوں کے بعد انہوں نے امن کی حامی دائیں بازو کی پارٹی کی بنیاد رکھی، اور اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی نشست جیتی۔ انہوںنے اسرائیلی فلسطینی امن کونسل کی قیام میں اہم کردار ادا کیا، گوش شالوم امن تحریک شروع کی۔ ایونری ان اسرائیلیوں میں تھے جنہوں نے فلسطینیوں کیساتھ منصفانہ سلوک کیلئے آواز اٹھائی،جن میں سے دس لاکھ سے زائد 1948ء اور 1967ء کے بعدپناہ گزین بن گئے تھے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کیساتھ امن معاہدہ کرے ، مغربی کنارہ، قدیم یروشلم، گولان کی پہاڑیوں اور غزہ سمیت تمام مقبوضہ علاقے واپس کرد ے، اور یہودیوں کی آبادکاری کا سلسلہ بند کرے۔
اپنی ان مطالبات کی وجہ سے اووری انتہاپسند اسرائیلوں کی نفرت کا نشانہ بننے لگے۔ اُن پر چھرے سے حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کئی ایسی باتیں بھی کیں جوکہ عوام میں نہیں کہی جا سکتی تھیں۔ یہودیوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ فلسطینیوں سے جو غیر انسانی سلوک وہ کر رہے ہیں، یہودی اخلاقیات کے منافی ہے۔ اسرائیلی رہنما اس وقت فلسطینیوں کیلئے ’’کاکروچ‘‘ اور جنگلی جانور جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے۔
یہاں یہ امر دلچسپ ہے کہ دو اشخاص جنہوں نے مغرب میں مسلم دنیا کی بہترین تصوپر پیش کی، ان میں ایک اوری اینوری ، دوسرے آسٹریا سے تعلق رکھنے والے لیوپولڈ ویاس تھے، جوکہ محمد اسد کے نام سے جانے جاتے ہیں، انہوں نے ’’روڈ ٹو مکہ ‘‘ کے نام سے ایک عظیم کتاب لکھی؛ یہ دونوں جرمن یہودی تھے۔
پیامبر ایونری نے خبردار کیا کہ جب تک اسرائیل فلسطینیوں سے چھینی گئی زمین کا بڑا حصہ واپس اور ایک فعال فلسطینی ریاست کے قیام میں معاونت نہیں کرتا جسے مکمل جمہوری حقوق اور آزادیاں حاصل ہوں، خطے میں امن قائم نہیں ہو گا۔اس کے برعکس ایونری نے دیکھا کہ امریکی حمایت یافتہ دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت نے پہلے سے کہیں زیادہ فلسطینی گرفتار کئے، مزید عرب سرزمین ہتھیائی، اور جنوبی افریقہ کی طرز پر اسرائیل کو مکمل نسلی امتیاز پر مبنی ریاست بنانے کی تیاری شروع کی۔اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کے قانون پر انہوں نے کڑی تنقید کی ،اسے ’’نیم فاشسٹ یہودی‘‘ سوچ قرار دیا۔ اسرائیل کی موجودہ انتہاپسند حکومت کو ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس پر فیصلہ کن اثرورسوخ حاصل ہے۔
اووری ایونری اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے درمیان گہری دوستی تھی۔ دونوں رہنما ایک قابل عمل یہودی عرب ریاست یا وفاق کا قیام یقینی بنا سکتے تھے۔ مگر افسوس کہ عرفات شاید قتل کر دیے گئے جبکہ اووری ایونری کو سیاسی طور پر ابھرنے نہ دیا گیا۔ درحقیقت ، امن کا داعی اسرائیلی بایاں بازو انتہاپسند حکومتوں اور واشنگٹن نے مکمل طور پر تنہاکر دیا تھا۔اووری ایونری کے موت کے چندہی روز بعد دائیں بازو کے ارکان نے مزید عرب سرزمین ہتھیانے اور مغربی کنارے پر یہودی آبادکاروں کیلئے ایک ہزار نئے گھر بنانے کا اعلان کیا۔
ایونری سے اگرچہ نفرت کرنیوالے بہت تھے، مگر انہیں پسند کرنیوالوں کی بھی کمی نہ تھی۔ عرب دنیا میں ان کا ہم پلہ کوئی نہ تھا۔ منطق و استدلال سے بھرپور ان کا پیغام انتہاپسند قوم پرستوں کی سمجھ سے بالا تر تھا۔ جذباتی مشرق وسطیٰ کیلئے شاید وہ موزوں ہی نہ تھے۔ کچھ بھی کہا جائے، اور کوئی مانے یا نہ مانے، آخری اسرائیلی پیامبر دنیا سے چلا گیا ہے ۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ہف پوسٹ)