22 فروری 2019
تازہ ترین

یوم یکجہتی اور حق خودارادیت برائے کشمیر یوم یکجہتی اور حق خودارادیت برائے کشمیر

یوم یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو کشمیر و پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن مقبوضہ کشمیر کے مجبور و محکوم اور خون میں لت پت مسلمانوں کے موقف کی حمایت کے طور پر منایا جاتا ہے کہ  انہیں حق خودارادیت دیا جائے۔ پاکستان میں یہ دن گزشتہ 29 سال سے منایا جارہا ہے۔ ہمارے شہر شہر، قریہ قریہ اور بیرون کشمیرکے ان ممالک میں بھی کشمیریوں کی حمایت میں لوگوں نے بھارتی مظالم کی مذمت کی اور ان کو حق خودارادیت دینے کی آواز کو عالمی طاقتوں تک پہنچایا، جہاں پہلے کبھی کشمیریوں کے حق میں آواز بلند نہیں ہوئی تھی۔  افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خواتین نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حق میں نعرے درج تھے۔ سپین کے شہر بارسلونا میں کشمیریوں پر جاری مظالم کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ اسی طرح برسلز میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی میں شمعیں روشن کی گئیں اور ہاتھوں کی زنجیر بناکر اُن سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ یہ بھارت کے خلاف مظلوموں کے حق میں احتجاج تھا۔ 
پوری دنیا میں کشمیریوں پر جاری  بھارتی درندگی، سفاکیت کو لوگوں نے اپنی سوچ کا محور بنالیا ہے۔ اس مرتبہ 5 فروری کے احتجاج میں حق خودارادیت مقبول عام نعرہ بن گیا، جس کی بازگشت دہلی کے لال قلعہ تک پہنچ چکی  ہے۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں  نے جوش خروش اور ولولے کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں مظالم بند کرے اور انہیں ان کا بنیادی حق دے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ کشمیریوں کو ان کے حقوق دینے کے بجائے نسل کشی جاری ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی اور بے حسی افسوس ناک ہے۔ کشمیریوں کی آہوں اور سسکیوں کو برطانیہ میں بھی سنا گیا، جہاں لندن سے برمنگھم تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، اس میں سکھوں، کشمیری رہنمائوں، ارکان پارلیمنٹ اور ناروے کے سابق وزیراعظم نے شمولیت کی۔ 
پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر صدر مملکت، وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور فوجی ترجمان نے کہا کہ بھارتی مظالم نے تمام کشمیریوں کو آزادی کی جدوجہد میں یکجا کردیا ہے۔  دنیا بھر کے تمام  حریت  پسند کشمیریوں کا ساتھ  دیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے کشمیریوں کو پیغام دیا کہ ان کی جدوجہد ضرور کامیاب ہوگی۔ دانشوروں، تجزیہ کاروں اور سرکاری عہدیداروں نے بھارت پر واضح کیا کہ مذاکرات کی پیشکش کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کی طرف سے بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر سے فوری طور پر کالے قوانین ختم کیے جائیں، وادی آتشیں اسلحے اور پیلٹ گنوں سے پاک کی جائے، حریت قیادت کو بیرون ملک سفر کی اجازت دی جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور عالمی مبصرین کے لیے مقبوضہ کشمیر کے  دروازے کھول دیے جائیں، تاکہ دنیا جان سکے کہ کشمیری حق خودارادیت کیوں مانگتے ہیں؟
انسانیت سے عاری مکار اور بے رحم بھارتی حکمرانوں کی بزدل فوج نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاکھوں کشمیریوں کو نشانہ بنایا، جس کا درد ہر اس  فرد نے محسوس کیا جو پانچ فروری کو گھرسے نکل کر احتجاج کررہا تھا۔ 2018 میں ایک نام نہاد آپریشن میں 375 کشمیریوں کو شہید کردیا گیا تھا۔ 
بھارت کی یہ منافقانہ پالیسی اب طشت ازبام ہوچکی ہے کہ جب وہاں انتخابات کا موقع آتا ہے، مسئلہ کشمیر کو ایک ایشو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت کے اندر سے بھی مودی کے 3 فروری کے دورۂ کشمیر پر ناپسندیدگی کی آوازیں بلند ہوئیں اور اسے بے موقع قرار دیا گیا۔ کشمیر میں مودی کا سواگت بھی قابل دید تھا، جس میں وہ پہاڑوں سے ہاتھ ہلاتا ہوا چلاگیا۔ مودی کی آمد پر مقبوضہ کشمیر فوجی چھائونی کا منظر پیش کررہا تھا۔ جگہ جگہ ہنگامے اور مظاہرے کیے گئے۔ حریت قیادت کو نظربند رکھا گیا اور غیر اعلانیہ کرفیو نافذ تھا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے گھروں سے نکلنے والوں کی پکڑ دھکڑ جاری رکھی اور کانفرنس ہال تک جانے والے تمام راستے بند رکھے۔ تمام سروسز معطل کردی گئیں، بنی ہال سے بارہ مولا تک ٹرین سروس بند تھی۔ تمام راستوں پر فوج اور پولیس کے دستے تعینات کردیے گئے۔  سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم کے دورے کے موقع پر وادی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کررہی تھی۔ حریت قیادت کا اعلان تھا کہ ’بھارت کشمیریوں کا خون اور پانی چوس رہا ہے۔ آزادی کا حق چھین کر رہیں گے۔‘ پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں مودی کے دورے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی امداد جاری رکھی جائے گی اور بھارتی مظالم کو رکوانے کے لیے عالمی سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ فروری کے پہلے ہفتے میں وزیر خارجہ کا یورپ کا دورہ اسی سلسلے کا حصہ تھا۔ 
تاریخ کا دستور ہے کہ دنیا میں جنم لینے والے مسائل حل کیے جاتے ہیں یا وہ ختم ہوجاتے ہیں۔ لیکن مسئلہ کشمیر ابھی تک حل ہوا ہے اور نہ ختم، البتہ یہ حل ہونے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب مسئلہ کشمیر نوجوانوں میں سرایت کررہا ہے۔ اگر اس کا فوری منصفانہ حل تلاش نہ کیا گیا تو خطہ کسی بھیانک اور خوف ناک صورت حال سے دوچار ہوسکتا ہے۔
5 فروری کو لاہور میں ہوئے احتجاج میں بھی کشمیریوں کے لیے حق خودارادیت کے نعرے لگائے گئے۔ نوجوانوں کے ایک لابنگ گروپYFK نے  بڑے پُرجوش اور سنجیدہ انداز میں اس ارادے کا اظہار کیا کہ اگر اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر میں کوتاہی و غفلت برتی ہے، وہ امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور یورپ کے تمام بڑے تعلیمی اداروں، جہاں دنیا بھر کے طلبہ زیر تعلیم ہیں، کا دورہ کریں گے اور دنیا کو بتائیں گے اقوام متحدہ دنیا کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اور اپنی منظور کردہ قراردادوں پر عمل نہیں کرواسکا، لہٰذا اس کی فعالیت ختم ہوچکی ہے اور اس ادارے کو بھی ختم کردیا جائے۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ کہ اگر اس ادارے کو باقی رکھنا ہے تو اسے دنیا کے تنازعات کو حل کرنے میں غیر جانب داری سے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اس وقت دنیا میں 57 کے قریب مسلم ریاستیں ہیں جو مشکل وقت میں پاکستان کی طرف دیکھتی ہیں۔ ان مسلم ریاستوں میں ایک بھی اس عالمی ادارے کی مستقل رکن نہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ پاکستان جو مسلم ریاستوں میں پہلی ایٹمی طاقت ہے اور اس کے امن فوجی دستے ایک طویل عرصے سے دنیا کے شورش زدہ علاقوں میں  قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں،  لہٰذا وطن عزیز کو اقوام متحدہ کا مستقل رکن بنایا جائے، تاکہ قوموں کی نمائندگی میں توازن قائم ہوسکے۔