19 جنوری 2019
تازہ ترین

یومِ جزیرۃ العرب یومِ جزیرۃ العرب

(15 نومبر 1923ء کی تحریر)
وہ عالم اسلام کا مرکز ہو، تمام  منتشر و متفرق اجزائے اسلامیہ کی شیرازہ بند ہو، ناموس شریعت کی محافظ و نگہبان ہو، دنیا کیلئے اخوت اسلامی کا اعلیٰ اور اکمل نمونہ ہو اور وہ سب کچھ ہو جو خلافت راشدہ تھی اور جس کی تصویر شریعت حقہ اسلامیہ نے کھینچی ہے۔ بمبے کرنیکلؔ نے یہ بالکل صحیح لکھا تھا کہ اگر خلافت کے حقیقی نصب و قیام سے ہم غافل رہے، اس کے اختیارات و اقتدارات کی ہم نے توضیح و تشریح نہ کی، اس کیلئے ضروری قوت و طاقت کا سامان فراہم نہ کیا تو پھر جزیرۃ العرب کی آزادی ہمیں کیا فایدہ پہنچائے گی۔
ضرورت ہے کہ 16 نومبر کو جزیرۃ العرب کی آزادی کے تہیہ کا اظہار کرنے کے ساتھ ہی مسلمان ان تدابیر پر بھی غور کریں جو خلافت کے صحیح نصب و قیام کیلئے ضروری ہیں۔ وہ عالم اسلام کی ایک خاص مجلس شوریٰ کے قیام کی تحریک کریں جس میں اس مسئلہ کو آخری اور قطعی طور پر طے کیا جائے۔ کچھ عرصہ سے مجالس خلافت کی سرگرمیاں مائل بہ افسردگی نظر آتی ہیں حالانکہ ان سرگرمیوں کی پہلے اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی کہ آج ہے۔ کیا اس مسافر کی بدبختی حد سے زیادہ قابل افسوس نہیں ہے جس نے باد و باراں کے قیامت خیز طوفانوں میں منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے انتہائی جدوجہد کی ہو لیکن جب طوفان رک جائیں، ابتدائی منازل طے ہو جائیں، منزل مقصود سامنے آ جائے تو وہ سب کچھ چھوڑ کر اپنے سفر کو ترک کر بیٹھے۔ کیا اس دہقان کی تیرہ اختری میں کسی کو شبہ ہو سکتا ہے جس نے زمین سنواری ، محنت و مشقت برداشت کی، بیج ڈالا، آبپاشی کی تکالیف اٹھائیں لیکن جب فصل کاٹنے کا وقت آیا تو وہ چھوڑ کر بیٹھ گیا۔ مجلس خلافت نے انتہائی مصائب کے دور میں عظیم الشان قربانیاں کیں اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھا، جب تاریکی کا دور ختم ہونے کے قریب آ گیا اور افق پر روشنی کی کرنیں چمکنے لگیں تو وہ اپنی جدوجہد کو چھوڑ بیٹھیں۔ اگر جزیرۃ العرب کی آزادی اور منصب خلافت کے صحیح نصب و قیام کا کام انجام دیئے بغیر جدوجہد کوترک کر دیا گیا یا اس میں پہلی سی سرگرمی باقی نہ رہی تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب تک خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ بالکل اکارت جائے گا۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اس جہاد حق میں پہلے سے زیادہ سرگرمی پیدا کریں۔ یہ گزشتہ تین سال کی محنتوں اور مشقتوں کے ثمرے کا وقت ہے۔ اگر آج غفلت کی گئی تو دائمی نامرادی اور حسرتوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا اس لئے 16 نومبر کے دن کو اپنی حقیقی جدوجہد کی تجدید کا دن بنا لو اور قوائے باطلہ سے آخری لڑائی لڑنے کیلئے طیار ہو جائو۔ امید واثق ہے کہ ہمارے ہندو اور دوسرے ہندوستانی بھائی بھی 16 نومبر کو اسی طرح مسلمانوں کی شرکت و ہم نوائی کا اعادہ کریں گے جس طرح کہ گزشتہ تین سال سے تحریک خلافت میں کرتے رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسیرانِ بنگال
ہم اپنی 9نومبر کی اشاعت میں فارورڈؔ (Forward) کے حوالے سے اسیران بنگال کے ساتھ بدسلوکی کی کیفیت واضح کر چکے تھے کہ اس کے ساتھ ہی سرکاری اعلان شایع ہوا جس میں بتایا گیا کہ دفعہ 3 کے ان بدنصیب شکاروں کو عام قیدیوں سے علیحدہ احاطے میں رکھا جاتا ہے، انہیں ورزش کرنے کی اجازت ہے۔ حال ہی میں ان کی خوراک کے متعلق احکام صادر کئے گئے ہیں جن سے شکایت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ مطالعہ کیلئے انہیں ایک روزانہ اخبار غالباً انگلشمینؔ یا سٹیٹسمینؔ (حضرت امام الہند کو بھی اثنائے قید میں یہی اخبار ملتے تھے) اور ایک رسالہ دیا جاتاہ ے۔ کتابی جیل ہی کے کتب خانے سے ملتی ہیں، انہیں اپنے کپڑے پہننے کی اجازت ہے۔ دفعہ3 کے قیدیوں کے متعلقین کو الائونس کی بھی اجازت ہے۔ اس کے متعلق حکومت ہند سے استصواب کیا گیا ہے وہاں سے جو الائونس منظور ہوگا وہ گرفتاری کی تاریخ سے انہیں ادا کر دیا جائے گا۔
یہ امر موجب اطمینا ن ہے کہ حکومت نے جلد اس معاملے پر توجہ مبذول کی۔ حقیقت کا علم تو عالم الغیب و الشہادۃ ہی کو ہوگا لیکن اس اعلان میں حکومت نے ان تمام شکایات کی تلافی کا اظہار کیاہے جو فارورڈؔ نے پیش کی تھیں۔ صرف ایک بات رہ گئی۔ فارورڈؔ نے لکھا تھاکہ ان اسیروں کو رضائیاں وغیرہ منگوانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اس امر کے متعلق حکومت کے اعلان میں کوئی ذکر نہیں ہے۔
یہ نہایت  اچھی بات ہے کہ جیل میں ان اسیروں کے ساتھ ایسا برتائو کیا جاتا ہے کہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو لیکن سب سے بڑی بات باقی رہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ان بیچاروں سے جو قصور سرزد ہوا ہے اس کی باقاعدہ تحقیقات کیوں نہیں کی جاتی۔ اگر پولیس کی مرتبہ رودادوں کی بنا پر حکومت کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں کہ ان لوگوں نے کوئی خاص خفیہ سازش کی تو ان پر مقدمہ چلایا جائے اور اگر وہ عاید کردہ الزامات کی جواب دہی سے قاصر رہیں تو انہیں سزا دی جائے۔ محض وہمی خطرے اور پولیس کی رپورٹوں کی بنا پر شریف و امن پسند لوگوں کو گرفتار کر کے بلاتحقیق و تفتیش غیر معین مدت کیلئے جیل خانوں میںڈال دینا کہاں کا انصاف ہے۔