20 ستمبر 2019
تازہ ترین

یوم اساتذہ اور ہماری ذمہ داریاں یوم اساتذہ اور ہماری ذمہ داریاں

1994ء سے دنیا بھر میں 5اکتوبر یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد اساتذہ کی ملک و قوم کی ترقی اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے نمایاں خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ عالمی یوم اساتذہ 2017ء کا عنوان ’’آذادانہ ماحول میں تدریس اور اساتذہ کو بااختیار بنانا ہے‘‘۔ اس سال عالمی یوم اساتذہ کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں اساتذہ کی حالت زار پہ سفارشات کو 20سال مکمل ہو رہے ہیں۔
 یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں اور روزمرہ کی بات چیت میں پرائمری سیکنڈری تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں بھی اساتذہ کے اہم کردار اور انکی گراں قدر خدمات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ہمیں ان وجوہات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ ہم آج تک معیاری تعلیم کیونکر فراہم نہیں کر پا رہے اور اس سلسلے میں جامعات کی خود مختاری اور یونیورسٹی اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور ترقی کیوں ضروری ہے۔ 2014-15 کے اعداد و شمار کیمطابق پاکستان میں مستقل یونیورسٹی اساتذہ کی تعداد 37,397 ہے جن میں سے 10,214 یعنی 27فیصد یونیورسٹی فکلٹی پی ایچ ڈی ڈگری کی حامل ہے۔ نجی شعبہ میں 11,034 میں اساتذہ کی تعداد جبکہ پبلک سیکٹر میں اساتذہ کی تعداد 25,098 ہے۔
 اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کیلئے 2002ء میں ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر شمس لاٹھا کی سربراہی میں میرٹ پر مبنی تعیناتیوں،  یونیورسٹی اساتذہ کو بااختیار بنانے، اساتذہ کی تمام اہم امور کی فیصلہ سازی میں شمولیت، کارکردگی کی بنا پر مراعات اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی جیسی اہم سفارشات پیش کی گئیں لیکن 15سال گزرنے کے باوجود یہ اہم سفارشات موثر عمل درآمد کی منتظر ہیں۔
 کمیٹی نے اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں اصلاحات کو کامیاب کرنے کیلئے سکالرز کی اکیڈمی کے قیام اور سٹیک ہولڈرز کے دو موجودہ اداروں وائس چانسلرز کانفرنس اور یونیورسٹی اساتذہ کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے کردار کو مضبوط بنانے کی کلیدی سفارش بھی پیش کی تھی۔ اساتذہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے افراد کی موجودگی سے اچھا معاشرہ جنم لیتا ہے اور اچھے معاشرے سے ہی ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک استاد کا ہی وصف ہے کہ وہ مقدس فرض کی تکمیل کے ذریعے نوع بشر کے بہتر مستقبل کیلئے سعی کرتا ہے۔ جدید تحقیقی علوم اور فنی سائنسی علوم کے ماہرین اور تاریخ کا دھارا بدلنے اور دنیائے افق پر تاریخ رقم کرنے والی شخصیات خواہ وہ کسی بھی طبقہ، رنگ، نسل سے تعلق رکھتے ہوں استاد کی فطری محبت اور روحانی تسکین اور رہنمائی کی محتاج نظر آتی ہیں۔
دیگر ممالک بھی یوم اساتذہ محبت، خلوص اور عقیدت سے مناتے ہیں اور اس عزم کی تائید کی جاتی ہے کہ آنیوالی نسل کی پرورش کیلئے بھی اساتذہ کے کلیدی کردار کی ضرورت ہے۔ نبی اکرمﷺ نے خود معلم ہونے پر فخر کیا۔ ابن انشاء نے بیرون ممالک میں استاد کی تکریم پر یہ واقعہ کسی مقام پر قلمبند کیا تھا کہ مجھے ایک بار ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں میری ملاقات اس یونیورسٹی کے ایک استاد سے ہوئی۔ ملاقات کے بعد وہ مجھے صحن تک الوداع کرنے آئے، میں نے دیکھا کہ ہر گزرنے والا طالبعلم ہمارے عقب میں اچھل کر گزر رہا ہے ابن انشاء نے کہا کہ میں نے ٹوکیو یونیورسٹی کے اس استاد سے وجہ دریافت کی تو جواب ملا ’’سورج کی روشنی کی وجہ سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑا رہا ہے اور کوئی طالبعلم نہیں چاہتا کہ استاد کا سایہ اسکے پائوں تلے آئے لہٰذا یہ طلبا اچھل اچھل کر گزر رہے ہیں۔‘‘ یقیناً ترقی، خوشحالی اور امن کے مراکز یہ ممالک اساتذہ کی عزت و تکریم کی ہی بدولت ہیں۔
 اعلیٰ تعلیم اداروں میں تشدد پسند رجحانات کا خاتمہ اور امن رواداری کے کلچر کا فروغ اساتذہ کے تعاون اور شمولیت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔  بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اساتذہ کی اہمیت و احترام نہ ہونے کے برابر ہے۔ معماران قوم کی تنخواہیں بمشکل انکی گھریلو ضروریات پورا کرتی نظر آتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی تمام عمر طلبا کی نشو ونما اور تربیت پر صرف کرنیوالا پروفیسر جب پنشن کیلئے سرکاری دفاتر کے چکر لگاتا ہے تو بے حس معاشرے کی اصلیت سامنے آ جاتی ہے۔ آئے روز اساتذہ اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر تو آتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ اساتذہ کے حقوق کا تحفظ اور انہیں بااختیار بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہم اسوقت تک پُرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکتے جب تک اساتذہ کی اہمیت و احترام کو شعار نہیں بنا لیتے۔ یونیورسٹی اساتذہ کو اسوقت تک بااختیار نہیں بنایا جا سکتا جب تک انکے اہم مسائل کا فوری حل ممکن نہیں ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کے مسائل کے حل کیلئے قومی اور صوبائی سطح پر خصوصی ٹاسک فورس بنائی جائے، تاکہ تعلیم دوست اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔