20 ستمبر 2019
تازہ ترین

یورپ میں اسلامو فوبیا کی امڈتی لہریں یورپ میں اسلامو فوبیا کی امڈتی لہریں

یورپ میں اسلامو فوبیا نے شدید اسلام دشمنی کی شکل اختیار کر لی ہے جس کی تند و تیز لہریں اب امن کے گہوارے سویڈن میں بھی جا پہنچی ہیں جہاں گزشتہ ہفتے ایک مسجد نذرِ آتش کر دی گئی ہے۔ اسلامو فوبیا کی علمبردار یورپی پارٹیوں میں پہلے فرنچ نیشنل فرنٹ سرِ فہرست تھا، اب جرمنی کے عام انتخابات میں نسل پرست ’’متبادل برائے جرمنی‘‘ (AfD) پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ 1945ء کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی جرمن پارلیمنٹ ’’بنڈ سٹیگ‘‘ میں براجمان ہو گی۔ اے ایف ڈی اپنی تشکیل کے آغاز میں یورو کی مخالفت کر رہی تھی لیکن جلد ہی اس نے اسلام مخالف روپ دھار لیا اور اس کے اشتعال انگیز پوسٹروں میں اسلام کے خلاف پروپیگنڈا ہونے لگا اور اب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جرمنی اپنے نازی ماضی کا کب تک کفارہ ادا کرتا رہے گا، ایک صدی قبل کا وہ تلخ ماضی جس میں نازی پارٹی کے لیڈر ہٹلر نے اقتدار حاصل کر کے پورے یورپ پر تسلط حاصل کرنے کی دھن میں دنیا کو دوسری جنگِ عظیم کے جہنم زار میں دھکیل دیا تھا اور پھر اتحادیوں کے ہاتھوں تباہ کن شکست جرمنی کا مقدر بن گئی تھی۔Af P کے لیڈر الیگزینڈر گالینڈ نے انتخابی کامیابی کے بعد کہا ’’میں جرمنی کو غیر ملکیوں کے قبضے میں جاتے نہیں دیکھنا چاہتا۔‘‘ اس وقت پارٹی آفس کے باہر مخالفین نعرے لگا رہے تھے ’’نازیوں کو نکال پھینکو۔‘‘ اس نے حال ہی میں جرمنوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے جنگی بزرگوں پر فخر کریں حتیٰ کہ ایک ترک نژاد سرکاری افسر کے بارے میں کہہ دیا کہ اسے اناطولیہ میں پھینک دیا جائے۔
24 ستمبر کو شاندار انتخابی کامیابی کے اگلے دن اے ایف ڈی کی شریک سربراہ فراؤکے پیٹری نے یہ حیران کن اعلان کیا کہ وہ اختلافات کی بنا پر پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کے ساتھ نہیں بیٹھے گی۔ پھر ایک دن بعد اس نے اے ایف ڈی کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اب وہ آزاد رکن پارلیمنٹ کے طور پر خدمات انجام دے گی۔ اس کے بقول علیحدگی کا سبب پارٹی کے سخت مؤقف والے ساتھیوں سے اختلافات ہیں۔ یہ انتہا پسند جماعت AfD کے لیے بڑا دھچکا ہے جو 12.6 فیصد ووٹ لے کر پارلیمنٹ کی 94 نشستوں پر قابض ہو گئی ہے۔ پیٹری کا خاوند مارکس پریزل جو ریاست رائن ویسٹ فالیا میں مقامی اے ایف ڈی ارکان پارلیمنٹ کا لیڈر ہے، اس نے بھی عندیہ ظاہر کیا کہ وہ گروپ کی قیادت اور پارٹی چھو ڑ دے گا۔ ریاست میکلنبرگ  میں بھی مقامی پارلیمنٹ کے دو ارکان اے ایف ڈی گروپ کو چھوڑ چکے ہیں۔ اے ایف ڈی کے انتخابی پوسٹروں میں اعلان کیا گیا تھا: ’’ہم برقعوں پر بکنیوں کو ترجیح دیتے ہیں‘‘۔ نیز اپنی اسلام مخالف پالیسی اور تارکین وطن کے خلاف مہم کو بڑھاوا دینے کے لیے ایک گوری عورت کے حاملہ پیٹ کو دکھا کر ساتھ یہ نعرہ درج کیا تھا: ’’نئے جرمن (تارکین وطن) کیوں؟ آؤ ہم انہیں خود پیدا کریں۔‘‘ ایک انتخابی پوسڑ میں 42 سالہ پیٹری بھی اپنے نومولود بچے کے ساتھ جلوہ نما  ہوئی تھی جس کے ساتھ یہ نعرہ رقم تھا: ’’جرمنی کی خاطر لڑنے کے لیے آپ کی دلیل کیا ہے؟‘‘
اسلام دشمنی کا تاریخی گڑھ فرانس ہے جہاں سے گیارہویں صدی عیسوی کی آخری دہائی میں پہلی صلیبی جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ گزشتہ مئی میں فرانسیسی انتہا پسند نیشنل فرنٹ (FN) کی سربراہ میرین لی پین ملکی صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں تو پہنچ گئی مگر ایمانوئیل میکرون سے ہار گئی جو اب صدرِ مملکت ہیں۔ اس سے پہلے میرین کا اسلام مخالف باپ ژاں ماری پارٹی کا سربراہ رہا تھا، تب پارلیمنٹ میں ’’ایف این‘‘ زیادہ سے زیادہ 8 نشستیں لے سکی تھی۔ باپ کی شدت پسندی کے مقابلے میں میرین لی پین پارٹی کا نرم امیج دکھانے لگی تھی جبکہ ستمبر کے شروع میں  اس کا رائٹ ہینڈ فلورین فلپّو یہ کہہ کر پارٹی چھوڑ گیا کہ اب یہ جماعت ’’خوفناک پسپائی‘‘ پر اتر آئی ہے اور اقتصادی قوم پرستی اور سماجی مسائل کے بجائے دوبارہ امیگریشن اور قومی تشخص پر زور دینے لگی ہے۔
وسطی یورپ کے ملک آسڑیا میں بھی اسلام مخالف جذبات فراواں ہیں جو صدیوں کی تاریخ سے ابھرے ہیں۔ وہاں دارالحکومت ویانا کے باہر ایک یادگار پر الفاظ نمایاں ہیں: ’’یہاں ہم نے ترکوں کو  1683ء میں شکست دی تھی۔‘‘ آسڑیا کی فریڈم پارٹی (FPOe) ان جذبات کو جگائے رکھتی ہے۔ 15 اکتوبر کو وہاں انتخابات ہو رہے ہیں اور مبصرین  فریڈم پارٹی کی دوسری یا تیسری پوزیشن آنے کی توقع کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جماعت سبا سشین کُرز کی پیپلز پارٹی (OeVP) کی حکومت میں جونیئر پارٹنر بن سکتی ہے۔ اس سے پہلے فریڈم پارٹی 2000ء میں جارج ہیدر کی سربراہی میں حکومت میں شامل ہوئی تھی جس پر اس کی نازیوں سے ہمدردی کے باعث اسرائیل میں بہت شور و غوغا ہوا تھا، تاہم 5 سال بعد ہیدر نے اس سے الگ اپنی ایک پارٹی بنا لی تھی اور پھر 2008ء میں وہ فوت ہو گیا۔ گزشتہ سال فریڈم پارٹی کا صدارتی امیدوار ناربرٹ ہوفر تھوڑے مارجن سے ہارا تھا اور اب کے پارٹی کا سربراہ ہائنز کرسچین سٹراش ڈپٹی چانسلر (نائب وزیر اعظم) بننے کی دہلیز پر ہے۔
فریڈم پارٹی کی طرح اٹلی میں نادرن لیگ تارکین وطن کی آمد کی مخالف ہے اور پہلے حکومت کا مزہ چکھ چکی ہے۔ جنوری 2017ء میں مغربی جرمنی میں تارکین وطن کے خلاف یورپی لیڈر جمع ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں فراؤ کے پیٹری (AfD)، میرین لی پین (FN)، میٹیو سلوینی (ناردرن لیگ) اور گیرٹ ویلڈرز (ڈچ فریڈم پارٹی) نے شرکت کی تھی۔ یہ گیرٹ ویلڈرز وہی ذات شریف ہے جس نے پچھلی دہائی میں اسلام کے خلاف ’’فتنہ‘‘ نامی فلم بنا کر اپنے ابلیسی تعصب کا مظاہرہ کیا تھا۔ فلم کا لب لباب یہ ہے کہ اسلام ایک فتنہ (نعوذباللہ) ہے جس  کے غلبے سے یورپ کو بچانا اشد ضروری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیسویں صدی میں یورپی سامراجیوں کے محکوم ممالک میں فریڈم پارٹیاں آزادی کے لیے سرگرم ہوا کرتی تھیں لیکن اس کے برعکس اب یورپ میں فریڈم پارٹیاں اس تصور کے ساتھ میدان میں ہیں کہ تارکین وطن خصوصاً مسلمان یورپ میں چھاتے چلے جا رہے ہیں اور یورپی معاشروں کو ان کے ممکنہ تسلط سے بچانا ضروری ہے۔
یورپ میں نفرت و تعصب کی آندھیوں میں ایک خاتون امید کی کرن ہیں اور وہ ہیں انگیلا مرکیل جو چوتھی مرتبہ یورپ کے اہم ترین ملک جرمنی میں چانسلر بنی ہیں۔ کرسچین ڈیمو کریٹک یونین (CDU) اور کرسچین سوشلسٹ یونین (CSU) پر مشتمل ان کے متحدہ گروپ نے 33 فیصد ووٹ اور ان کی سابق حلیف جماعت سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی (SDP) نے 20.5 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ انگیلا گروپ کو  پہلے پارلیمنٹ میں 309 نشستیں حاصل تھیں جبکہ نئے ایوان میں ان کی نشستیں کم ہو کر 246 رہ گئی ہیں۔ انگیلا مرکیل فی زمانہ پورے یورپ بلکہ مغربی دنیا میں نسل پرستی کے چڑھتے ہوئے طوفان کے آگے ڈٹ گئی ہیں۔ انہوں نے مسلسل چار عام انتخابات جیتے ہیں مگر مغربی میڈیا اے ایف ڈی کے تیسری پوزیشن (12.6فیصد ووٹ) لینے کو ’’شاندار کامیابی‘‘ قرار دے رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے اس نے کبھی 5 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں لیے تھے جو پارلیمنٹ میں بیٹھنے  کے لیے کم سے کم میرٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوری 2015ء میں فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے دفتر پر توہین آمیز کارٹون شائع کرنے پر جو دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا اس کے بعد مغرب کی تمام تر سیاست تارکین وطن کے مسئلے پر گھوم رہی ہے۔ اس کے بعد جرمنی کی پرو نازی تنظیم پگیڈا (Pegida) کو اپنے امیگرنٹ مخالف پروگرام کو نمایاں عوامی حمایت ملنے لگی تھی۔ اس کے پیرو کاروں نے شامی مہاجر کیمپوں پر حملے بھی کیے۔ ادھر مرکیل کی سابق حلیف جماعت SDP نے الائنس کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب حکومت سازی کا انحصار دو چھوٹی جماعتوں پر ہے۔ ایک لبرل فری ڈیمو کریٹک پارٹی (FDP) جس نے 10.7  فیصد ووٹ لے کر چار سال بعد پھر پارلیمنٹ میں بار پایا ہے۔ دوسری بائیں بازو کی ماحولیات دوست گرینز پارٹی ہے جس نے 8.9 فیصد ووٹ لیے ہیں۔ انگیلا مرکیل کیCDU  کو اب غالباً ان دونوں پارٹیوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانا ہو گی جبکہ ان تینوں کو ’’جمیکا اتحاد‘‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ ان کے جھنڈوں کے رنگ ویسٹ انڈیز کے ملک جمیکا سے ملتے ہیں۔
انگیلا مرکیل کا کہنا ہے کہ ان کی مہاجر نواز پالیسی جرمنی کے مفاد میں ہے کیونکہ وہاں پنشن یافتہ بوڑھوں کے مقابلے میں نوجوانوں کی تعداد سال بہ سال کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ جرمن صنعتوں کو لاکھوں کارکنوں کی ضرورت ہے۔ مرکیل نے ملک میں شرح پیدائش بڑھانے کی ازحد کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ اس وقت صرف جرمنی نہیں بلکہ پورا یورپ آبادی کے بحران کا شکار ہے اور مرکیل اس بحران کا فوری حل پناہ گزینوں کو قرار دیتی ہیں، چنانچہ تمام تر مخالفت کے باوجود انہوں نے دس لاکھ سے زیادہ ایشیائی تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دی ہے۔