22 نومبر 2018
تازہ ترین

یورپی یونین سے رجوع کی کوششیں یورپی یونین سے رجوع کی کوششیں

ترکی نے اشارے دیے ہیں کہ وہ دوبارہ یورپی یونین کے ایجنڈے کی جانب بڑھ رہا ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ ایسا صدر ٹرمپ کے ٹھکرائے جانے کا ردعمل ہے کہ نہیں۔ شاید واشنگٹن کو انقرہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اس کے پاس دیگر آپشن بھی ہیں۔جوبھی وجہ ہو، گزشتہ ہفتے خارجہ، داخلہ، انصاف اور خزانے کے وزراء نے ریفارم ایکشن گروپ کا اجلاس منعقد کیا، جس میں انہوں نے عدالتی اصلاحات کے عرصہ دراز سے لٹکے معاملے پر کام تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جس میں مقدمات جلد نمٹانے، مصالحتی عمل ، اور عدالتوں کی تعداد بڑھانے سے امور شامل ہیں۔انہی اصلاحات پر جلد پیش رفت کیلئے یورپی یونین کئی بار ترکی پر زور دے چکا ہے۔
ترکش وزیر خارجہ نے کونسل آف یورپ کیساتھ کام کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جہاں وہ پارلیمنٹری اسمبلی کے صدر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ یورپی یونین کیساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی ترجیحات میں شامل ہیں، یورپی یونین کی رکنیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ وزیر خارجہ کا بیان ترکش عوام کی اکثریت کے سوچ کے عین مطابق ہے، جوکہ یہ سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین کی رکنیت کے عمل کو حکومت ایک موقع اور غنیمت سمجھتے ہوئے شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے استعمال کرے ، ترکی کو ایک حقیقی جمہوری ملک بنانے کی کوشش کرے جس میں شہریوں کو تمام بنیادی حقوق اور شہری آزادیاں حاصل ہوں، معمولات زندگی میں شفافیت لائے۔ اگر ترکی یہ سب حاصل کر لیتا ہے ، تو یورپی یونین میں شمولیت ایک بے محل سے بات ہو کر رہ جائیگی۔
صدر طیب اردوان کئی مرتبہ اسی پالیسی پر عمل کا اعادہ کر چکے ہیں۔ 2003ء میں ایک خطاب کے دوران انہوں نے کہا ’’ ہماری پوری کوشش ہو گی کہ یورپی یونین کے طے کردہ کوپن ہیگن سیاسی اور ماسٹریٹچ کے معاشی اصولوں پر پورے اتریں۔ اس کے بعد اگر یورپی یونین میں ہمیں شامل کیا جاتا ہے تو ٹھیک ہے۔ اگر نہیں تب بھی اُن اصولوں پر جاری رکھیں گے‘‘۔ 15سالہ خاموشی کے بعد ترکش وزیر خارجہ دوسرے سینئر رہنما ہیں جنہوں نے اس پالیسی پر عمل کی بات کی۔ چاروں وزیروں نے اپنے بیوروکریٹس کیلئے جو ہدایات جاری کیں، ان میں یورپی یونین کے اداروں سے تعاون کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کرنا ، یورپی یونین کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ورکنگ گروپس کا قیام ،ترکی سے متعلق یورپی یونین کے رکن ملکوں کے رویئے کی سوجھ بوجھ اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں یورپی یونین کیساتھ تعاون شامل ہیں۔ سادہ الفاظ میں ترکی دکھانا چاہتا ہے کہ وہ ہاتھ جھٹکنے والا فریق نہیں بنے گا۔
ریفام ایکشن گروپ کے اجلاس میں وزیر خزانہ بیرات البیرک نے فرانسیسی ہم منصب کیساتھ گفتگو کے دوران یکجہتی کے ماحول کی کھلے الفاظ میں تعریف کی۔ بدقسمتی سے ریفارم ایکشن گروپ کے اجلاس سے ایک روز قبل فرانس کے صدر میکرون نے اپنے بیان میں کہا کہ ترکی کیلئے یورپی یونین کی رکنیت کے بجائے اس کیساتھ نئی سٹریٹجک پارٹنرشپ پر بات کی جائے۔ انہوں نے کہا ’’ ترکی کیساتھ رکنیت کیلئے معاملات پر بات چیت ہم جاری نہیں رکھ سکتے ، کیونکہ دوسری جانب صدر طیب اردوان اتحاد اسلامی ایجنڈے کی بات کرتے ہیں، جوکہ یورپی اقدار کے خلاف ہے۔طیب اردوان کا ترکی بابائے قوم مصطفی کمال کا ترکی نہیں ‘‘۔اگر ترکی بلاک کی اقدار کی پاسداری ثابت کرنے میں ناکام رہا تو اس کی یورپی یونین کی رکنیت کے مخالفت میں مزید ممالک فرانس اور آسٹریا کے ہم آواز بن سکتے ہیں۔ 
ریفارم ایکشن گروپ سے ایک اور پیغام یہ سامنے آیا کہ انقرہ ترکی کے اہم مسائل کے حل کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ہر وزیر نے اس کا کوئی نہ کوئی حوالہ دیا مگر واضح تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اگلے روز وزیر خارجہ جیمنک اجلاس میں شرکت کیلئے ویانا روانہ ہو گئے، جوکہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا غیر رسمی اجلاس ہے۔ کئی ماہ قبل ترکی نے اعلان کیا تھا کہ وہ یورپی یونین کی صدارت میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔ ایسا انہوں نے آسٹریا کے چانسلر کے سخت ریمارکس کے ردعمل میں کہا تھاجوکہ انہوں نے ترکش رکنیت کے حوالے ادا کئے۔اس کے باوجود ترکش وزیر خارجہ نے جیمنک اجلاس میں شرکت کی دعوت مسترد نہیں کی، جس کا کوئی ایجنڈہ نہیں ، اور تمام وزرائے خارجہ اپنے مشیروں کے بغیر شرکت کرتے ہیں۔ ایسے مواقع اس وقت ترکی کی ضرورت ہے کیونکہ یورپی یونین میں اس بات پر کوئی اتفاق رائے نہیں کہ انقرہ کیساتھ کیا بات کرنی ہے۔
شام کے بحران کے دوران یورپی یونین نے کئی مرتبہ یہ نوٹس کیا کہ اس بحران کے بعض مسائل حل کرنے میں ترکی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ نشاندہی ایسے وقت میں کی جب دوطرفہ تعلقات انتہائی پستی کو چھو رہے تھے۔ نیا آغاز مناسب ہو سکتا ہے ، مگر کئی رکاوٹیں راستہ روکے کھڑی ہیں، جن میں سرفہرست فرانس اور آسٹریا کی مخالفت ہے۔جو بھی ہو، یورپی یونین کی ایجنڈہ کی جانب پیش رفت سے ترکی میں کئی مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ڈیلی عرب نیوز)