12 نومبر 2018

یمن کا انسانی المیہ یمن کا انسانی المیہ

یمن کو رومن کبھی عرب خطہ کی سب سے بابرکت سرزمین کہا کرتے تھے اور آج وہ تین سال سے زائد عرصہ سے جاری بدترین خانہ جنگی کی وجہ سے بحیثیت ریاست تباہی کے کنارے پر کھڑی ہے ۔ان تین برس کے دوران تقریبا ساڑھے چھ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور تیس لاکھ کے قریب افراد ملک کے اندر دربدر ہیں ۔صحت اور تعلیم کی ابتر صورت حال ہے، یونیسیف کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں جاری بحران کے نتیجہ میں ہر دس منٹ میں ایک یمنی بچہ صحت وصفائی کی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ،ہزاروں ہلاک وزخمی ہوچکے ہیں ،تقریبا ملک کی80فیصد عوا م کو انسانی بنیادوں پر ہنگامی امداد کی ضرورت ہے ۔اس صورت حال میں مزید ابتری کی نشان دہی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی ایک ہفتہ قبل جاری ہونے والی ایک رپورٹ سے ہوتا ہے جس کے مطابق اس بات کے شواہد کم ملے ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت نے اپنی فضائی طاقت استعمال کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال نہیں رکھا جس سے عام شہریوں کی حفاظت ہوسکے ،اسی طرح اس رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کسی ایسی فہرست کو فراہم کرنے میں ناکام ہیں جس میں عوامی خدمات کی جگہوں جیسے اسپتال اور پناہ گزین کیمپوں کو فضائی حملوں سے استثناء دیا گیا ہو۔اس رپورٹ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں امریکہ اور برطانیہ پر زور دیا گیا ہے وہ مذکورہ ممالک کو ہتھیار فروخت نہ کریں ۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے ارکان کو ابتداء ہی سے تمام معلومات فراہم کردی گئی تھیں اور عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی بات درست نہیں ہے ،اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں ایرانی کردار کے حوالے سے کوئی بات ہی نہیں کی گئی جو اس پورے معاملے میں بری طرح ملوث ہے اور حوثی باغیوں کو ہتھیا راور مالی امداددے رہا ہے۔سعودی زیر قیادت اتحاد کا اس حوالے سے مزید یہ بھی کہنا ہے اس رپورٹ کا قانونی جواب دیا جائے گا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری ہوئی ہے جب 6ستمبر سے جنیوا میںاقوام متحدہ کی زیرنگرانی یمن کی عبدالرب منصور ہادی کی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان مذاکرات شروع ہونے جارہے ہیں ،جس کے بعد فریقین پر دبائو بڑھ گیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کے کسی سنجیدہ حل تک پہنچنے کی کوشش کریں ۔یمن میں جاری جنگ کوتقریباتین سال سال بیت چکے ہیں لیکن یہ بحران ختم ہونے کو نہیں آرہا۔26مارچ 2015ء میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف ایک بھرپور عسکری آپریشن شروع کیا ۔اگران دو برس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب کو کلی کامیابی تو حاصل نہ ہوسکی لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس دوران سعودی عرب نے یمن کے70 فیصدسے زائد علاقے پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا ہے اس کے علاوہ کئی اہم اسٹریٹیجک مقامات بھی حوثی باغیوں کے قبضہ سے چھڑالئے ہیں جن میں بحیرہ احمر میں باب المندب،عدن کی بندرگاہ اور ملک کا تیسرا بڑا شہر تعز قابل ذکر ہیں اس کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں واقع کئی چھوٹے چھوٹے جزائر بھی باغیوں سے آزاد کروائے جاچکے ہیں ،لیکن اس تمام تر کامیابی کے باوجود ایک بہت بڑا چیلنج ابھی تک دارلحکومت صنعاء کو باغیوں کے قبضہ سے چھڑانے کی صورت میں باقی ہے ۔موجودہ صورت حال یہ ہے کہ صنعاء ایئرپورٹ اور بحیرہ احمر کے اردگرد کے علاقے کی سعودی اتحاد نے سخت ناکہ بندی کررکھی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بنیادی ضروری اشیاء کی سخت قلت پیدا ہوگئی ہے اور اگر کچھ عرصہ مزید یہ حالات رہے تو ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتاہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے جب یمن پر حملہ کیا تھا تو اس کے دو بنیادی مقاصد تھے پہلا یہ کہ یمن کے صدر عبد الرب ہادی منصور کی حکومت کو بحال کیا جائے جن کا تختہ الٹا گیا تھا اور دوسرا یہ دارلحکومت سے حوثی باغیوں کو نکال باہر کیا جائے لیکن ابھی تک ان دونوں مقاصد میں سے کوئی بھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکا۔ بدقسمتی سے یمن بہت سارے عرب ممالک کی طرح عرب اسپرنگ کے نتیجے میں عدم استحکام کا شکار ہے لیکن اس تمام صورت حال کا بدتر پہلو یہ ہے کہ اس خطے میںغیر ملکی دلچسپی اورمداخلت نے مسائل کو گھمبیر بنا دیا ہے۔معیشت تو ویسے ہی کمزور تھی لیکن سیاسی صورت حال اور بد امنی نے ملک میں مزید انتشار پیدا کر دیاہے۔ملک میں جاری جنگ مسائل کے خاتمے کے لئے ایک فوری سیاسی حل چاہتی ہے اور اس ضمن میں یہ بات اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ تمام فریقین اپنی انتہائوں سے واپس آجائیں اور اس مسئلہ کو اپنے اپنے ملکی مفادات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے یمنی عوام کی حالت زار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں ۔
سعودی عرب کی یمن کے ساتھ تقریبا آٹھ سو میل لمبی سرحد کی حفاظت کی خاطر اسے بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے اور یمن کی بری وبحری ناکہ بندی کی وجہ سے یمنی عوام کی مشکلات میں جو اضافہ ہوا ہے اس کا مداوا بھی سعودی اور اس کے اتحادیوں کے ذمہ ہے اور یمن کی بحالی اور تعمیر نو کا ایک بہت بڑا خرچہ منہ کھولے کھڑا ہے ۔اس تناظر میں سعودی عرب کو ایک ایسی جامع خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے کہ آئندہ اس قسم کے مسائل میں فوجی جارحیت کے بجائے ا س کا کوئی سیاسی حل نکالا جاسکے اوراس کے لئے ضروری ہے خطہ کی بدلتی ہوئی صورت حال پر اس کی گہری نظر ہو اور اسی حکمت عملی کے تحت پالیسیاں ترتیب دی جانی چاہئیں ۔
(تلخیص وترجمہ:محمد احمد۔۔۔بشکریہـ:المانیٹر)