22 ستمبر 2018
تازہ ترین

یمن میں بچوں کی اموات یمن میں بچوں کی اموات

اقوام متحدہ ، این جی اوز کے جاری شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ یمن میں بس پر سعودی فضائی حملے میں9 درجن بچے ہلاک ہو ئے؛ ان حملوں میں جو ہتھیار استعمال ہوئے، امریکا کی فراہم کردہ ، کچھ برطانوی ساختہ تھے۔ ایسے واقعات کی وجہ سے سعودی عرب اور اس کے پارٹنر متحدہ عرب امارات پر تنقید مسلسل بڑھ رہی ہے۔امریکا اس جنگ میں پارٹنر نہیں، اگرچہ اسے شروع صدر اوباما نے کیا، اور صدر ٹرمپ بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کیلئے امریکا صرف ہتھیار ہی فراہم نہیں کرتا، بلکہ انٹیلی جنس کے علاوہ جنگی طیاروں کی ری فیولنگ اور درست اہداف پر میزائل حملوں اور بمباری کیلئے رہنما ٹیکنالوجی بھی فراہم کر رہا ہے۔
یمن کی لڑائی صدام حسین کی ایران کے خلاف جنگ کی یاد دلاتی ہے، جس میں صدام حسین کو امریکی حمایت حاصل تھی۔ کچھ سال بعد صدام مغرب کے خلاف ہو گیا۔ ایران کے خلاف صدام حسین نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے،لیکن ایران کی اسلامی عسکریت پسندی کے خبط کے شکار امریکا نے شواہد کے باوجود نا صرف آنکھیں بند رکھیں بلکہ عراق کو انٹیلی جنس معلومات بھی فراہم کرتا رہا۔اس وقت امریکا کے صدر رونالڈ ریگن تھے۔ آج سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ حوثی باغیوں کی ایران مدد اور یمن کی خانہ جنگی میں وہ پوری طرح سے ملوث ہے۔ بے شک حوثی دودھ کے دُھلے نہیں، لیکن فضائی کارروائی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ان میں بالکل نہیں ہے۔ ایسی آوازیں سننے میں آئی ہیں کہ سعودی عرب، امریکا اور برطانیہ کے خلاف عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کیا جائے، ان کے رہنمائوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلائے جائیں۔ افغانستان میں جنگی جرائم کی وجہ سے امریکا کیخلاف الزامات پر پہلے سے غور ہو رہا ہے۔
بچوں کی ہلاکتوں کے جرم کے علاوہ دونوں ملک یواین آرمز ٹریٹی کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ اس ٹریٹی پر دستخط کرنیوالے ملک پابند ہیں کہ ہتھیاروں کی ایسی کوئی بھی سپلائی فوری روک دیں جس میں عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہو۔ یورپی یونین کا ہر ملک اس ٹریٹی کی توثیق کر چکا ہے۔ جب ٹریٹی کا ڈرافٹ تیار کیا جا رہا تھا، برطانیہ نے اس کی کھل کر حمایت کی تھی۔ صدر اوباما نے اس ٹریٹی پر دستخط کیے مگر کانگریس نے توثیق کرنے سے انکار کر دیا۔روس اور چین اس سے دور رہے، کینیڈا نے حال ہی میں توثیق کر دی ہے۔
سعودی عرب سے متعلق برطانوی آرمز پالیسی کے حامیوںکا کہنا ہے کہ فوجی ہوابازی پر برطانیہ کی برتری کا انحصار سعودی عرب کو فروخت پر ہے۔ 2008ء میں برطانوی ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ وزیراعظم ٹونی بلیئر نے سعودی عرب سے اسلحے کی بڑی ڈیل میں کرپشن کی تحقیقات روک کر قانون شکنی کی تھی؛ جو برطانیہ کا سب بڑا ایکسپورٹ کنٹریکٹ تھا۔ 
26مارچ 2015ء میں اوباما انتظامیہ نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کو لاجسٹک اور انٹیلی جنس سپورٹ کی فراہمی شروع کرنے کا اعلان کیا ۔ اگلے روز سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی نے دوران سماعت امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لوئیڈ آسٹن سے نئے اعلان کا مقصد اور اس کی کامیابی کے امکان سے متعلق سوال کیے۔جواب میں جنرل آسٹن نے کہا ’’ یمن کیخلاف سعودی مہم کے مقاصد اور مخصوص اہداف سے متعلق فی الوقت وہ کچھ نہیں جانتے‘‘۔ کچھ دن بعد پنٹاگون کے ایک افسر نے بتایا ’’یہ پوچھا جائے کہ یمن جنگ کی حمایت کیوں کی جا رہی ہے ، جواب یہ ہے کہ ہم اسے روک بھی نہیں سکتے تھے‘‘۔ اوباما کے سینئر معاون نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں کہا کہ ایران کی نیوکلیئر ڈیل کیلئے خلیجی ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کا واحد راستہ فوجی سپورٹ تھی۔ یمن میں سکول کی بچوں کی ہلاکت پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کوئی بات نہیں کی۔امریکا نے یہ خانہ جنگی اقوام متحدہ پرچھوڑ دی ہے، جو خصوصی ایلچیوں اور انسانی امداد کے ذریعے اس خانہ جنگی میں ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ 
امریکا اور برطانیہ نے صدام حسین کا تختہ الٹنے کی غلطی سے کچھ بھی سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، جس کا نتیجہ عراق میں سنگین شورش کی شکل میں برآمد ہوا۔ امریکا نے جب بھی مشرق وسطیٰ یا دیگر علاقوں میں مداخلت کی، اس کے نتیجے میں مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید کئی سنگین پیچیدگیاں اور مسائل پیدا ہو ئے۔ ایرانی پراکسیوں کیخلاف امریکی پراکسیوں کے ذریعے لڑنا ایک غلط تصور کی نئی مثال ہے۔اوباما کو ایرانی نیوکلیئر ڈیل مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کیلئے قابل قبول بنانے کی کوشش ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھی ، کیونکہ وہ بالواسطہ ایران کیخلاف حالت جنگ میں تھے ۔ 
اس وقت کو ایران کیساتھ مختلف تنازعات پر بات چیت کیلئے استعمال ہونا چاہیے تھا۔ نیوکلیئر ڈیل کی وجہ سے پیدا ہونیوالا خوشگوار ماحول بھی ایران کو پارٹنر بنانے کی بات چیت کیلئے استعمال ہو سکتا تھا۔ ایسے مذاکرات کے اگرچہ فوری نتائج برآمد نہیں ہوتے،لیکن محاذ آرائی کی نسبت کہیں بہتر ماحول مل جاتا ہے۔لگتا ہے کہ امریکا کو موقع پر موقع ضائع کرنے کی جیسے عادت ہی پڑ گئی ہے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون)