14 نومبر 2018
تازہ ترین

یادیں اور باتیں یادیں اور باتیں


یادش بخیر، یہ کوئی نو دس سال پرانی بات ہے۔ تب مرحوم صحافی، دانشور اور ممتاز ادیب حمید اختر ابھی حیات تھے۔ میں پی ٹی وی سے ابھی ریٹائر نہیں ہوا تھا کہ عیدالفطر کی صبح 10 بجے سے 12 بجے دوپہر تک مجھے بحیثیت ایگزیکٹو پروڈیوسر پاکستان ٹیلی ویژن نیوز چینل کیلئے دو گھنٹے کا لائیو شو لاہور سے آن ایئر کرنا تھا۔ میرے مدعو مہمانوں میں ممتاز صحافی ، دانشور کالم نگار حمید اختر، منو بھائی، اصغر ندیم سید، شاعر جان کاشمیری، شوبز جرنلسٹ طفیل اختر، ماضی کی معروف اداکارہ صابرہ سلطانہ، گلوکار جواد احمد اور کچھ دیگر مہمان دیئے ہوئے وقت کے مطابق یکے بعد دیگرے تشریف لا رہے تھے۔ میں شو کے پینل پروڈیوسر عارف یونس کے ساتھ پی ٹی وی کی لابی میں کھڑا مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے انہیں میک اپ(پفنگ) کے مرحلے سے گزار کر سٹوڈیوز میں ان کی مختص نشستوں پر بٹھا رہا تھا۔ سب مہمان تشریف لا چکے تھے، بس منو بھائی اورحمید اختر کا انتظار تھا اور پھر یہ حسن اتفاق تھا کہ ایک ہی وقت میں دونوںکی گاڑیاں پی ٹی وی کی حدود میں داخل ہوئیں۔ عارف نے ٹی وی کی لابی سے باہر نکل کر دونوں کو خوش آمدید کہا۔ حمید اختر صاحب کے ہاتھ میں چار پانچ کتابیں تھیں۔ میں نے حمید اختر صاحب سے کتابوں کی بابت کوئی بات نہ کی تاہم میرا خیال اور تاثر یہ تھا کہ وہ شاید یہ کتابیں ریفرنس اورکسی حوالے سے پروگرام میں دکھانے کیلئے لائے ہیں۔ بہرطور جب انہیں ان کی مخصوص نشست پر بٹھایا گیا تو ان کے سامنے موجود میز پر وہ کتابیں بھی رکھ دی گئیں۔ شو اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوکر ختم ہو گیا مگر میز پر موجود کتابوں کا کوئی تذکرہ نہ ہوا۔ شو کے اختتام پر میں اور میرے ساتھی پروڈیوسر کنٹرول روم سے نیچے سٹوڈیوز میں آ گئے تو مہمانوں سے شو اور دیگر موضوعات پر دلچسپ انفارمل گپ شپ شروع ہو گئی جس کا تذکرہ میں آئندہ کسی وقت کیلئے اٹھا رکھتا ہوں۔ بہرحال دوران گپ شپ چائے پیتے ہوئے حمید اختر ایک دم اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے، کتابیں اٹھائیں اور مجھے انتہائی پیار و محبت اور شفقت سے تھماتے ہوئے کہا ’’یہ تمہاری عیدی ہے‘‘ ظاہر ہے کہ کتابوں کی صورت عیدی وصول کر کے میں بے حد مسرور ہوا۔ اس پر میرے ساتھی پروڈیوسر عارف یونس نے حمید اختر صاحب سے ایک عجیب و غریب بات چھیڑ دی۔ عارف نے کہا، سر! کتاب دوست اورکتابوں سے محبت کرنے والے تواپنے شیلف میں آئی ہوئی کتاب کسی کو پڑھنے کیلئے بھی نہیں دیتے مگر آپ افتخار مجاز کو اکثر کتابیں دان کرتے رہتے ہیں، بڑاحوصلہ ہے آپ کا‘‘ حمید اختر کہنے لگے، میاں اس کی کئی وجوہات اور اسباب ہیں۔ ایک تو یہ کہ مجھے مصنفین اور ناشروں کی طرف سے لاتعداد کتابیں موصول ہوتی ہیں جبکہ میرے پاس تو رہنے کو بھی اپنا گھر نہیں، اس لئے کتابیں رکھنے کیلئے میرے پاس زیادہ جگہ ہی نہیں اور اگر میں یہ موصول ہونے والی تمام کتابیں شیلفوں میں رکھنا شروع کردوں تو پھر مجھے غالب، فیض، اقبال،میر، مومن اور دیگر بڑوں کی کتابیں شیلفوں سے نکالنا پڑیں گی جو کہ ظاہر ہے کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ چنانچہ ایسی کتابوں کا بہترین مصرف یہ ہوتا ہے کہ یہ کتابیں پڑھنے کے شوقین، مطالعہ کے رسیا اور کتاب دوستوں کو دان اور پیش کر دی جائیں، اسی لئے میں گاہے گاہے افتخار مجاز کے ذوق مطالعہ کو ملحوظ رکھ کر اس کیلئے سلیکٹڈ کتابیں لے آتا ہوں۔ اس گفتگو کے دوران ہمارے ایک سینئرپروڈیوسر (جن کا نام میں بوجہ یہاں نہیں لکھ رہا) تشریف لا کر بات چیت میں شامل ہو چکے تھے، جونہی حمید اختر صاحب کی گفتگو ختم ہوئی ، اپنی موجودگی اور حسن طلب کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے، جی میرے والد صاحب کو بھی مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور ہمارے گھر میں 8/10 توڑے کتابوں کے پڑے ہوئے ہیں۔ اس پر منو بھائی (جو ہنوز چپ تھے) کی رگ ظرافت پھڑکی اور برجستہ کہنے لگے عید گزر جانے دو میں بھی تمہیں آٹے کا توڑا لے دوں گا۔ اس پر ایک بھرپور قہقہہ بلند ہوا۔ میرے ساتھی سینئر پروڈیوسر بھی کھسیانی ہنسی ہنسنے لگے۔ ایسے میں حید اختر صاحب کی جہاندیدہ نظروں نے میرے اس رفیق کار کی کیفیت بھانپ لی اور میرے ہاتھ میں موجود کتابوں  میں سے ایک کتاب لیکر اس کی طرف بڑھا دی۔ اس پر منو بھائی نے دوبارہ فقرہ چست کیا کہ اب آٹے کا توڑ لینے میرے گھرنہ آ جانا۔
بہرطور یہ تو تذکرہ تھا حمید اختر صاحب، ان کی شفقت و محبت اور کتاب دوستی کا۔ مگر میں یہاں کچھ باتیں ان کی کالم نگاری کے حوالے سے کرنا چاہتا ہوں۔ حمید صاحب کے حالات زندگی پہ ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلتاہے کہ ان کے ادبی، صحافتی اور سیاسی سفر کا آغاز تو اوائل عمری میں ہی ہو گیا تھا۔ ان کے دوست احباب اور یاران محفل سب ممتاز اور جانے پہچانے ادیب، شاعر، دانشور اور سیاسی کارکن تھے چنانچہ انہیں جو ماحول میسر آیا اسی باعث وہ جلد ہی صاحب طرز ادیب، صحافی اور سیاسی کارکن کے طور پر پہچانے جانے لگے، مگر ہم دیکھتے ہیں انہوں نے باقاعدہ کالم نگاری کا آغاز بہت بعد میں بلکہ خاصی تاخیر سے کیا تاہم پھر کالم نگاری کی  Late نکالتے ہوئے وہ نقوش مرتب کئے کہ ان کی پہچانے کا بڑا حوالہ ان کی یہی منفرد کالم نگاری بن گئی۔
حمید اختر صاحب کے حوالے سے میں گاہے گاہے اپنی گزشتہ کئی تحریروں اور کالموں میں ان کے مزاج کی شگفتگی، کھلے ڈلے پن، برجستگی اور بے ساختگی کے کئی دلچسپ واقعات کا تذکرہ کر چکا ہوں اس لئے ان سطور میں، میں ان کی کالم نگاری کو موضوع بنانے ا خواہش مند ہوں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے فن، خواہ وہ افسانے ہوں، خاکے ہوں، ان کی جیل کی یادیں ہوں یا کالم نگاری، ان کے درمیان حد فاصل نہیں کھینچی جا سکتی۔ ان کی تحریریں واقعتا ان کی زندگی اور شب و روز کی مکمل طور پر عکاس ہیں۔ جیل جانے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے رہائی کے بعد اپنی جیل یاترا کی کہانی لکھتے ہیں تو خود کو تیس مار خاں، پھنے خاں اور ٹیپو سلطان بنا کر پیش کرتے ہوئے بہادری کے جھوٹے قصے لکھ کر شاید اپنی انا کو تسکین دیتے ہیں مگر حمید اختر نے جب اپنی جیل کی یادیں ’’کال کوٹھڑی‘‘ کے نام سے لکھیں تو یادوں کو فکشن نہیں بنایا بلکہ بیتے لمحوں کی عکسی تصویر قارئین کے سامنے رکھ دی۔ اب آپ ان کی تحریر کا یہی ٹکڑا دیکھئے ’’ایک روز میں تنہائی سے تنگ آ کر بوکھلا گیا، شام کو ڈپٹی صاحب آئے تو میں نے ان سے کہا جناب عالی! میں اس تنہائی سے پاگل ہو جائوں گا۔ میں نے کوئی سنگین جرم نہیں کیا، میرے وارنٹ پر قید تنہائی کی سزا نہیں لکھی۔ مجھے سیفٹی ایکٹ میں نظربند کرنے کا وارنٹ ہے قید تنہائی میں مار ڈالنے کیلئے نہیں لکھا ہوا۔ اگر مجھے مارنا ہی ہے تو ایک ہی دن مار کر قصہ ختم کر دیجئے۔ ڈپٹی صاحب نے بہت سوچ بچار کے بعد بظاہر ہمدردانہ لہجے میں کہا تمہارے وارنٹ پر تنہائی کی قید نہیں لکھی ہوئی مگر تمہاری تنہائی آٹومیٹک قسم کی ہے کیونکہ نظر بندوں کے قانون میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انہیں دوسرے قیدیوں سے نہ ملنے دیا جائے، اب کوئی اور سیاسی قیدی آ جائے تو اسے تمہارے ساتھ رکھ دیا جائے گا، اس کے علاوہ تو اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا  خدا کیلئے کسی اور کو گرفتار کرایئے۔ یہ اہلیان ملتان اس قدر مردہ دل کیوں ہو گئے ہیں، کوئی صاحب دل اس شہر میں ایسا نہیں کہ جو ایک تقریر کر کے گرفتار ہو جائے، مولوی مودودی کے ہی کسی چیلے کو پکڑ لایئے۔ کوئی انسان تو ہو جس سے بات کر سکوں، گر افسوس کہ نہ ڈپٹی صاحب میری بات مانے اور نہ ملتان شہر نے کوئی ایسا صاحب دل پیدا کیا اورپھر میں نے علامہ اقبال کے اس مصرعے کا ورد کرنا شروع کر دیا:
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
متذکرہ بالا اقتباس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا کہ فیض احمد فیض کے اس دوست حمید اختر نے فیض ہی کی طرح جو بیتی ویسی ہی رقم کردی، مولا جٹ بننے کی سعی نہیں کی۔ اب ان کے کالم کا ایک اور ٹکڑا ملاحظہ کیجئے۔ ’’پچیس تیس برس قبل مرحوم دوست عبداللہ ملک کی حج سے واپسی کا زمانہ یاد آ رہا ہے۔ وہ اپنی بیگم عائشہ کے ساتھ حج سے لوٹے تھے۔ ہم اور آئی اے رحمن انہیں مبارکباد دینے گئے۔ چند ابتدائی کلمات کے بعد رحمن صاحب نے عائشہ سے پوچھا بھابی آپ نے شیطان کو کنکریاں بھی ماریں؟ اس پر بیگم عبداللہ ملک نے بڑے فخر سے کہا، ہاں شیطان کو کنکریاں بھی ماریں۔ رحمن صاحب نے فوراً کہا اس کیلئے آپ کو اتنی دور جانے کی کیا ضرورت تھی، یہ کام تو آپ گھر پہ بھی کر سکتی تھیں‘‘۔
دوستوں کے درمیان فقرے بازی کے بیان پر آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا جس کا اظہار مندرجہ بالا اقتباس سے بھی ہو رہا ہے۔ اسی طرح کردار نگاری اور مقامی ثقافت، رہن سہن کے حوالے سے لکھے ہوئے ان کے کالم بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اب یہ دیکھئے ’’کیسے کیسے لوگ‘‘ کے زیر عنوان لاہور کے ایک مشہور کردار کا بیان اور واقعہ نگاری کتنی عمدگی سے کی گئی ہے۔ خود غرض دنیا میں اور نفسا نفسی کے اس زمانے میں ایسے لوگوں کا وجود غنیمت ہے۔ دکھوں اور مصائب و مشکلات میںگھرے ہوئے اس زمانے میں دست گیری کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ ایسے ہی اور بہت سے لوگ ہیں  جو اپنی شخصی خوبیوں کی وجہ سے اپنے آس پاس رہنے والوں کو جینے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غربت، بیروزگاری اور دنیاوی مشکلات کے باوجود، جن کی حس مزاح قائم رہتی ہے۔ ایسا ہی ایک کردار ہمیں یاد آ رہا ہے جوامرتسری تھا مگر قیام پاکستان کے بعد لاہور میں رہائش پذیر ہو گیا تھا۔ اس کا نام کسی کو معلوم نہیں تھا کیونکہ وہ اپنا تعارف اس طرح کرایا کرتا تھا ’’خاکسار کو حاجی حرام دا‘‘ کہتے ہیں۔ وہ گوال منڈی میں شام کو سری پائے کی ریڑھی لگاتا اور دن کو پاک ٹی ہائوس اور لاہور کے دوسرے ادبی اڈوں پر شعر، فلسفے اور تاریخ پر بحث کرتا۔ ایک مرتبہ اس کے کسی دوست نے اپنے جاننے والے کو اس کے نام خط دیکر بھیجا۔ یہ شخص بڑی تلاش کے بعد اس کے پاس پہنچا اور پوچھا ’’حاجی حرام زادہ‘‘ آپ ہی ہیں؟ تو وہ بہت بگڑا اور اس سے کہا کہ تمہیں میرے دوست نے نہ بھیجا ہوتا تو میں تمہیں اپنا نام بدلنے کی کوشش کا مزہ چکھا دیتا‘‘۔
 اپنے اسی کالم میں انہوں نے حاجی حرام دا کے اور بھی دلچسپ واقعات لکھ کر ہمارا اس سے مکمل تعارف کرا دیا ہے جو حمید اختر صاحب کے طرز اظہار کا منفرد نمونہ ہے۔ میرا قلم ان کی محبتوں اور ان کی خدمات کو خراج پیش کرنے سے عاجز ہے کہ وہ ایک لیجنڈ تھے۔ سرفراز سید کے لفظوں میں، میں صرف یہ کہوں گا:
کیسے کیسے فاصلے چشم زدن میں کٹ گئے
کیسے کیسے لوگ اپنے درمیاں سے ہٹ گئے
مختصر اتنی سی ہے بس رابطوں کی داستاں
گھر سے تو مل کے چلے تھے راستے میں بٹ گئے
حرف آخر کے طور پر صرف یہ کہوں گاکہ ابدی دنیا کو سدھار جانے والے اس انداز کے یہ لوگ بھلا مرتے کب ہیں۔ وہ تو اپنی تحریروں، تقریروں، باتوں اور یادوں میں ہمیشہ زندہ اور ہمارے ارد گرد، آس پاس ہی رہتے ہیں۔بلھے شاہ نے بھی شاید ایسے ہی لوگوںکے بارے میں کہا تھا:
بلھے شاہ اساں مرناں ناہیں
گور پیا کوئی ہور!!