20 نومبر 2018

’’ہندوتوا‘‘ کا 94سالہ شکار ’’ہندوتوا‘‘ کا 94سالہ شکار

وزیراعظم عمران خان کے 35سال سے دوست سدھو بھا جی جتنے خطرات مول لے کر پاکستان تشریف لائے تھے۔ اب تک اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں جبکہ وہ چند ماہ پہلے تک بی جے پی کے فعال ممبر رہے ہیں اور اپنی لبرل اور شگفتہ شخصیت کے حوالے سے بھارت کے ہر طبقے میں ہر دلعزیز ہیں۔ ان کی پاکستان موجودگی کے دوران بھارتی میڈیا مسلسل ان کا ماتم کرتا رہا جبکہ باقی کرکٹرز اور فلم سٹار اس خوف سے پاکستان نہ آ سکے کہ انہیں بھی اس انجام سے دو چار ہونا تھا۔ جنونی آر۔ ایس۔ ایس سرکار نے بھارت کو جنگلی معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے، جس کی مثال تامل ناڈو کے 94سالہ آنجہانی ایم۔ کروناندھی ہیں۔ ان کو ’’براہمن واد‘‘ مخالفت کی سزا ان کی موت کے بعد بھی دی گئی۔
ایم کروناندھی 7 اگست 2018ء کو چنائی کے ایک ہسپتال میں 94برس کی عمر میں چل بسے۔ وہ لگ بھگ ستر برس تک اپنی علاقائی جماعت ڈراوڈا مترا کڈگھم یا ’’ڈی ایم کے‘‘ کے صدر رہے، 5مرتبہ تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ بنے اور زندگی میں انہوں نے ایک بار بھی الیکشن نہیں ہارا۔ 13بار ریاستی اسمبلی کے لیے چنے گئے۔ وہ ایک ہمہ پہلو شخصیت کے مالک تھے۔ ایک صحافی، ایک شاعر اور فلموں کے سکرپٹ رائٹر اور مکالمہ نگار بھی رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے قلم کا زور ہی تھا، جس نے تامل فلموں کے اداکار ایم جی رام چندرن کو ’’غریبوں کے مسیحا‘‘ کا امیج عطا کیا، جس کے بل بوتے پر وہ پہلے فلمی اداکار تھے جو تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ بنے۔ حالانکہ کروناندھی اور ایم جی رام چندرن سیاسی رقیب تھے اور دونوں الگ الگ حریف جماعتوں کے سربراہ بنے۔ کروناندھی کی موت کے ساتھ ہی نا صرف تامل ناڈو بلکہ بھارت کی سیاست کا ایک اہم باب ختم ہو گیا۔
تامل ناڈو کی سیاست بھارت کی کسی بھی دوسری ریاست سے بالکل مختلف ہے۔ وہاں ہمیشہ اس دراوڑ تحریک اور سیاسی فلسفے کا غلبہ رہا ہے جو آزاد ملک کے اور ہندوؤں کی اونچی ذاتوں اور خاص طور پر برہمنوں کے غلبے کے خلاف اور کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے برسر پیکار رہا۔ دراوڑ تحریک، جس کی قیادت پیر یار رام سامی (Periyar Ramasami) اور انادورائی (Annadurai) جیسے قائدین نے کی۔ اس نظریے کی پر زور اپیل ہے کہ دراوڑ لوگ ہی بھارت کے قدیم اور اصل باشندے تھے جبکہ باہر سے آنے والے آریائی لوگوں (Aryans) نے اپنی تہذیب اور ذات پات کے نظام کی آڑ میں انہیں ظلم اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا اور انہیں حاشیے پر دھکیل دیا۔ انگریزوں کے دور میں شروع ہونے والی اس انقلابی تحریک نے اس علاقے پر گہرا اثر چھوڑا اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والے طاقتور اور مقبول لیڈروں میں سے ایک کروناندھی بھی تھے۔ کروناندھی خود کو ملحد قرار دیتے تھے، چونکہ یہ تحریک آریائی لوگوں کے غلبے کے خلاف تھی تو اس نے کبھی ہندی زبان کی مخالفت کی شکل اختیار کی اور کبھی علیحدگی پسندی کا نعرہ بلند کیا لیکن جب کروناندھی نے اس تحریک اور ’’ڈی ایم کے‘‘ پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تو آہستہ آہستہ اس کا علیحدگی پسندانہ رنگ بڑھنے لگا۔
اگر کروناندھی آخری دم تک تامل ناڈو کے عوام میں بے حد مقبول تھے تو اس کی وجہ وہ بے شمار کام اور لاتعداد فلاحی سکیمیں اور پروگرام تھے جو انہوں نے شروع کیے، ان میں عورتوں کو والدین کی وراثت میں حصہ دلانا، سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن میں 69فیصد تک اضافہ تاکہ تمام کمزور طبقات کو جن میں مسلمان بھی شامل تھے۔ اس کا فائدہ مل سکے۔ خاندان میں سب سے پہلے گریجویشن تک تعلیم حاصل کرنے والے فرد کے لیے مفت تعلیم، ملک میں غریبوں کے لیے انشورنس کی پہلی سکیم، شادی کی ہندو مذہبی رسوم کی جگہ سرکاری رجسٹریشن، ہاتھ سے کھینچ کر چلانے والے رکشا کی جگہ سائیکل رکشا لانے کی سکیم، یہ فہرست بہت لمبی ہے۔ تامل ناڈو کے عوام پر پیریار اور کروناندھی کے جو احسانات ہیں، انہیں ایک تامل بزرگ نے ان الفاظ میں سمیٹا ’’پیر یار اور کروناندھی کے بنا ہم پسماندہ ذاتوں کے لوگ کبھی سکول بھی نہیں جا سکتے تھے۔ اگر آج تم لوگ لکھ پڑھ سکتے ہو تو یہ ان دونوں رہنماؤں کی وجہ سے ہے۔‘‘ قومی سطح پر کروناندھی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ وہ مرکز کے مقابلے میں ریاستوں کے حقوق کے لیے ہمیشہ لڑتے رہے اور مرکز کی جانب سے زیادہ سے زیادہ اختیارات ہڑپ کر لینے کی کوشش کی انہوں نے شدید مزاحمت کی۔
اگر یوم آزادی کے موقع پر ہر ریاست کا وزیراعلیٰ قومی پرچم لہرا سکتا ہے تو اس کا کریڈٹ بھی کروناندھی کو جاتا ہے، جنہوں نے اندرا گاندھی سے یہ بات منوائی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کروناندھی صرف تامل عزت نفس کے علمبردار نہیں تھے بلکہ انہوں نے تمام ریاستوں کے اختیارات کے لیے لڑائی لڑی۔ اس عظیم شخصیت کا جب انتقال ہوا تو ان کے خاندان اور سیاسی حامیوں کو اس بات کے لیے لڑنا پڑا کہ انہیں چنائی کے خوبصورت ساحلی کنارے میرینا بیچ پر اس جگہ دفن کرنے کی اجازت دی جائے، جہاں کروناندھی کے استاد انا دورائی، دوست اور سیاسی حریف ایم جی رام چندرن دفن ہیں، لیکن تامل ناڈو میں اس وقت برسر اقتدار ’’انا ڈی ایم کے‘‘ کی حکومت اپنے مخالف کروناندھی کو یہ اعزاز دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ وزیراعلیٰ پلائی سوامی کسی دوسری جگہ زمین دینے کے لیے تو تیار تھے لیکن ساحل پر نہیں۔ اس معاملے میں انہیں آر ایس ایس جیسی ہندو تنظیم کی تائید بھی حاصل تھی جو کروناندھی کو سخت ناپسند کرتی تھی کیونکہ کروناندھی نے برہمن ازم اور ہندوتوا کی ہمیشہ سخت مخالف کی۔
تامل ناڈو میں آر ایس ایس کے ایک سرگرم لیڈر گرومورنی نے بھی کہا کہ کروناندھی کو میرینا پر دفن نہ کیا جائے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو بھی یہی مشورہ دیا، لیکن بالآخر ان سب کو منہ کی کھانا پڑی اور مدراس ہائیکورٹ نے رات دیر گئے تک ایک درخواست کی سماعت کے بعد ریاستی حکومت کو ہدایت جاری کی کہ وہ کروناندھی کی میرینا بیچ پر تدفین کے لیے انتظامات کرے۔ کروناندھی کے ساتھ موت کے بعد یہ نازیبا سلوک ظاہر کرتا ہے کہ ہندوتا طاقتیں تامل ناڈو میں اس وقت کس قسم کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ پورا زور لگانے کے باوجود آج تک بی جے پی تامل ناڈو میں قدم نہیں جما سکی، لیکن سابق وزیراعلیٰ جے للیتا کی موت کے بعد وہاں جو سیاسی خلا پیدا ہوا ہے اور جو کمزور حکومت بنی ہے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی پچھلے دروازے سے اقتدار پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ بات تامل ناڈو کے عوام کو بُری طرح کھل رہی ہے اور  وہ ان طاقتوں کو سبق سکھانے کے لیے اگلے الیکشن کا انتظار کر رہے ہیں۔ کروناندھی کے بعد ’’ڈی ایم کے‘‘ کی قیادت اب ان کے بیٹے ایم کے اسٹالن کو منتقل ہو گئی ہے۔ کروناندھی پہلے ہی سے اپنے بیٹے کو اس کے لیے تیار کر رہے تھے اور کروناندھی کی زندگی میں ہی اسٹالن نے پارٹی کے کارگزار صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ کروناندھی کی موت کے بعد پارٹی میں کوئی بحران اور کشمکش پیدا نہیں ہوئی۔ اب ’’ڈی ایم کے‘‘ نا صرف ریاست میں بلکہ قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف ایک متحدہ اپوزیشن محاذ میں اہم رول ادا کرنے کی تیاری اور تامل ناڈو کو آزاد اور علیحدہ ملک بنانے کے راستے پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔