13 نومبر 2018

ہم کہیں کیا؟ ہم کہیں کیا؟

بچّے کو کبھی چوٹ لگ جائے اور وہ جی جان سے دھاڑنا شروع کردے تو اس کی توجہ ایسی اَن دیکھی چیونٹی کی طرف دلائی جاتی ہے جس کا آٹا گر جاتا ہے، کبھی یہ trick   کام کرجاتی ہے اور کبھی نہیں۔ آج کل کے سمارٹ بچّوں پر تو شاید ہی اس کا اثر ہو، تاہم بچپن کے یہ معصوم بہلاوے بڑے ہونے کے ساتھ ناصرف کاری حربے بن جاتے ہیں، بلکہ مختلف سمتوں سے ایسے حملہ آور ہوتے ہیں کہ بعضوں کی تو بولتی ہی بند ہوجاتی ہے، کچھ پہ الٹا اثر ہوتا ہے، ان کی زبان تالو سے لگنا بھول جاتی ہے اور کئی مسخرے پَن پر اُتر آتے ہیں۔
آج کل نئے پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے، اس نے ہمارے سمیت بہتوں کو ہکابکا کردیا کہ کہنے پر بھی کچھ نہیں کہہ پارہے۔ اب زرداری صاحب کو ہی دیکھیے، جن کے پاس بظاہر ہر بات کا جواب ہوتا ہے۔ جب ان سے ہسپتال کے کمرے سے برآمد شہد اور زیتون کے تیل کی بوتلوں پر رائے مانگی گئی تو فرماتے ہیں، ہم کیا کہیں؟  
دراصل ہم لوگ ہیں ہی ناشکرے، ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے شوقین، چاہتے ہیں سب کچھ فٹافٹ ہوجائے۔ ملک میں انصاف کا بول بالا ہو۔ مساوات اور برابری کا چلن ہو، غرض کہ شیر اور بکری ایک ساتھ پانی پئیں۔ تبھی تو ان بے مثال کوششوں پر جو انقلابی حکومت انقلاب کو دیرپا بنانے کے لیے کررہی ہے، ناصرف تنقید کررہے ہیں بلکہ ہنسی مذاق کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ ہسپتالوں پر چھاپے وغیرہ تو پرانے پاکستان میں بھی ہورہے تھے، تاہم نئے پاکستان میں تبدیلی یہ آئی کہ ان کا دائرہ نجی ہسپتالوں تک بھی بڑھایا گیا تو اس پر ہر سُو شور بلند ہوگیا۔ 
میڈیا معہ سوشل میڈیاکے انصاف کی راہ کھوٹی کرنے پر تل گیا۔ انقلاب کسی یقینی، جدید ترین اور تیز رفتار نقل و حرکت کے بغیر ممکن ہی نہیں، اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہمارے سادہ مزاج وزیراعظم اور ان سے بھی زیادہ سادہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرنا شروع کیا تو چند لوگوں کا مسخرہ پن عروج  پر پہنچ گیا، ایسی فقرے بازی کہ خدا کی پناہ۔ اگر کوئی ٹی وی چینل ان سب لطیفوں اور طنزیہ تحریروں کوا کٹھا کرکے نشر کرے تو مہینوں کے لیے ایسا کامیڈی پروگرام تیار ہوجائے جو PTV  کے گولڈن ٹائم کے مزاحیہ پروگرام کی یاد بھلادے گا۔ اور تو اور لفظوں کی رفوگری کرنے والے فواد صاحب کو نہیں بخشا۔ بجائے اس کے کہ ان کی تحسین کی جائے کہ کیا بات ہے جناب گوگل بابا پر ریسرچ کرکے معلومات فراہم کرتے ہیں۔ پرانے پاکستان کے ماہرین اطلاعات کی طرح سنی سنائی اہل میڈیا تک نہیں 
پہنچاتے۔ تعریف و توصیف تو دُور کی بات، بے چارے وفاقی وزیراطلاعات کے بیان پر Tweets  کی وہ بھرمار، ویڈیوکلپس کی وہ sharing شروع ہوئی کہ لگتا تھا کہ ملک ایک سٹیج ہے اور حکومتی اہلکار پُرفارمر۔
انقلاب کا ایک اہم ترین بلکہ اول ترین قدم ہے عورتوں کو راہ راست پر لانا، آخر خواتین نے ہی تو قوم کی عزت کو اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے، لہٰذا ان کندھوں کو چادروں اور گارمنٹس سے مزین کرنا بہت ضروری ہے، ادھر چادر پھسلی ادھر قوم کی عزت گئی کھڈے میں۔ اسی عظیم جذبے کے ساتھ جب پنجاب کے وزیر اطلاعات نرگس اور میگھا بی بی کا ذکر کرتے ہیں اور نرگس کو حاجن بنانے کی بات کرتے ہیں (جو وہ ہیں) تو نام نہاد حقوق نسواں والے جل بھن کر آگ اگلنے لگتے ہیں۔ یہ مغرب زدہ لوگ نہیں جانتے کہ جب جب انقلاب کا سورج طلوع ہوا ہے اپنے ہاں ہی نہیں، آس پڑوس میں بھی، سب سے پہلے خواتین ہی کی خبر گیری کی گئی ہے۔
ملک کو نیا بنانے کے لیے نئے راستے بنانے پڑتے ہیں، نئے ذرائع آمدورفت استعمال کرنے پڑتے ہیں، تبھی تو اس بات سے کسی کو سروکار نہیں کہ موٹروے ٹول ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ شناختی کارڈ کی فیس میں اضافہ ہواہے۔ بجلی کی قیمتیں آسمان کی طرف جارہی ہیں۔ مہنگائی آسمان تو کب سے چھو چکی، اب امریکا کی طرح مریخ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ نئی حکومت کو ان سب باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے کہ امریکی فوج نے پاکستان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر 30  کروڑ امریکی ڈالر کی امداد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،  یہ رقم پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈز کی مد میں ملنا تھی۔ کانگریس نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈز کے 50 کروڑ ڈالر رواں سال کے آغاز میں ہی روک لیے تھے، جس کے باعث روک لی جانے والی کُل رقم 80 کروڑ ڈالر ہوگئی ہے۔ پرانے پاکستان سے نئے پاکستان تک 80 کروڑ ڈالر کی امداد سے محرومی کیا رنگ دکھائے گی، اس کا جواب تو کوئی ماہر معاشیات ہی دیں گے، لیکن حکومت سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ وزیراعظم، گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤسز کو کرایے پر دے کر اس مسئلے کا حل نکال لے۔ امداد ملتی ہے یا نہیں، حکومت بے پروا ہوکر اپنے انقلابی اقدامات جاری و ساری رکھے۔ بیچ بیچ میں معافی تلافی کی episodes بھی چلتی رہیں تو کوئی حرج نہیں۔ عوام کے طنزو مزاح کو کسی خاطر میں لائے بغیر گوگل بابا کو اپنا سرچ انجن بنائے رکھیں۔ لوگ تو کبھی کسی سے خوش نہیں ہوتے اور نہ ہی ہوں گے۔ 
22 سال کے طویل ترین سفر کے بعد منزل نصیب ہوئی ہے، حاسد نہیں چاہتے کہ دل کے ارمان پورے ہوں۔ پروٹوکول ہو یا ہیلی کاپٹروں میں سفر، سب جان کی حفاظت کے لیے، جان ہے تو جہان ہے۔ سیکیورٹی سب سے مقدم۔ اس پر کوئی بول کے تو دکھائے۔ عام لوگوں کا کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں نا کہ بڑا ہونے کے باوجود ہمارے اندر کا بچہ زندہ رہتا ہے تو دے دیں انہیں کوئی بہلاوا۔ اکیسویں صدی کے مطابق کوئی جدید بہلاوا نہ بھی ملے تو کوئی پروا نہیں، اس چیونٹی کی تلاش میں تو لگایا ہی جاسکتا ہے جس کا آٹا گر گیا ہے۔