15 نومبر 2018

ہمارے بچے محفوظ کیوں نہیں؟ ہمارے بچے محفوظ کیوں نہیں؟

پاکستان نیا ہو پرانا یا نوزائیدہ، عام عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی اور استحصال میں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی، خصوصاً بچوں اور عورتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ المیہ یہ کہ ان واقعات کے انسداد کی کوئی عملی شکل نظر نہیں آ رہی۔  ’’مردوں کے اجارہ دار‘‘ معاشرے میں بچے اور عورت ایک ارزاں جنس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان کے ساتھ ہونے والے ہولناک سلوک پر ملک کے اعلیٰ ایوانوں سے لیکر عام افراد  میں بھی کہیں آپ کو کوئی جنبش نظر نہیں آتی۔ ہاں البتہ کوئی واقعہ سوشل میڈیا سے ہوتا ہوا مین سٹریم میڈیا کی زینت بن جائے تو پھر ایکشن پر ایکشن اور بھاگ دوڑ میں گرد اور دھول اڑتی ضرور نظر آئے گی، مگر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش پھر بھی نظر نہیں آتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ بحیثیت معاشرہ ہم گل سڑ چکے ہیں، تو کیا یہ غلط ہے؟ ہم ایک بد بودار اور سڑاند اٹھتا معاشرہ بن چکے ہیں۔ ہمیں تو وہ اعداد و شمار بھی متاثر نہیں کرتے، جن میں گن گن کر بتایا جاتا ہے کہ اس ملک میں اس برس کتنے معصوم بچوں کو ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، کتنی خواتین اور بچوں کو زندہ درگور کیا گیا، یہاں تک زیادتی کے بعد قتل تک کر دیا گیا۔ مشہور چیک ناول نگار این کلیما کو دس سال کی عمر میں ایک نازی کیمپ میں لے جایا گیا تھا جہاں وہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک موجود رہے۔ ان کے کئی ساتھی اس کیمپ سے زندہ نہیں لوٹے۔ کلیما نے اپنے اس تکلیف دہ تجربے کی یاد میں ایک کتاب چائلڈ ہوڈ ان تیریزین لکھی۔ اس میں کلیما لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ جس معاشرے کی بنیاد بے ایمانی پر ہو، جو جرم کو برداشت کرے، خواہ یہ صرف کچھ منتخب لوگوں کیلئے ہو اور دوسری طرف کسی اور گروپ کو خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا ہو، اسے اس کے زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا جائے تو وہ معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو کر آخرکار تباہ ہو جائے گا۔ کیا ہم اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں؟ ۔
خواتین اور بچوں  کے ساتھ ہونے والے ذہنی وجسمانی تشدد کے حوالے سے میرے سامنے جب بھی کوئی رپورٹ یا اعداد و شمار آتے ہیں، تو دہل جاتا ہوں۔ اس لیے بھی کہ ہم ایک بے انصاف معاشرہ بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں عوام الناس کو ریلیف  پہنچانے یا اس کے دکھوں کا ازالہ کرنے والے  ادارے اپنی ریاستی اور آئینی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک سسکتی انسانیت اور اذیت کا شکار بچے اور خواتین شاید کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں۔ابھی حال ہی میں جب نئے پاکستان کا جشن منایا جا رہا ہے اور عوام کو دودھ اور شہد بہنے کی نوید دن رات سنائی جا رہی ہے۔ وہاں سامنے آنے والی یہ رپورٹ کہیں نئے پاکستان کے خلاف سازش تو نہیں جس میں پاکستانی معاشرے کے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھانے کے ساتھ اداروں کی کار کردگی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں قریب 32 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ تنظیم گزشتہ سترہ برسوں سے بچوں کے ساتھ زیادتی سے متعلق رپورٹیں شائع کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق ملک میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا رپورٹ ہونا، اس اضافے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ ماضی کے مقابلے میں اب ایسے واقعات زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اس تازہ رپورٹ کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں ملک بھر میں 2322 بچے زیادتی کا نشانہ بنے۔ گزشتہ برس اسی عرصے میں پیش آنے والے ایسے واقعے کے مقابلے میں یہ تعداد 32 فیصد زیادہ ہے۔
 اس رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں قریب 12 بچے یومیہ کے اعتبار سے زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں 542 بچے اغوا ہوئے، زیادتی کے واقعات 360، اجتماعی زیادتی کے 92، اجتماعی زیادتی کی کوشش کے 167، زیادتی کی کوشش کے 224، بچوں کے ساتھ شادیوں کے 55، بچوں کے گم شدگی کے  236 اور زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کرنے کے 57 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پنجاب کے علاقے قصور میں سات سالہ بچی زینب کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کے واقعے کے بعد سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے عوامی آگہی میں کلیدی کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے والدین ایسے واقعات کی صورت میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ رپورٹ درج کرانے پہنچ رہے ہیں۔ لیکن حقیقی صورت حال اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے۔  جنسی زیادتی کے واقعات کے اعتبار سے صوبہ پنجاب دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں آگے  ہے۔ تاہم اس بابت یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دیگر صوبوں میں مختلف سماجی وجوہات کی بنا پر ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو سکتے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین الاقوامی ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے بچوں کی مدد کے لیے رکھی تھی۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ خوراک اور صحت تھی۔ آج یہ ادارہ دنیا بھر میں غذائی قلت کا شکار تین ملین بچوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس طرح کے واقعات کی روک تھام  کے حوالے سے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ  پاکستان میں ایسے واقعات کے حوالے سے متعدد اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں تھانوں میں وہ خصوصی کاؤنٹرز شامل ہیں، جو چائلڈ فرینڈلی ہوں۔ ’’ایسے واقعات بہت حساس ہوتے ہیں۔ اس میں ڈی این اے، میڈیکل رپورٹ، قتل کی صورت میں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد سے متعلق عمومی طریقہ کار کے بجائے خصوصی طریقہ کار اختیار کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔ ایسے کسی واقعے کی صورت میں جب متاثرہ بچہ اور اس کے والدین تھانے پہنچتے ہیں، تو انہیں ایک اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔‘‘ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان میں سالانہ اوسطاً ایک ہزار سے زائد بچے بچیاں اغوا کر لیے جاتے ہیں۔ زیادتی اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والے معصوم لڑکے لڑکیوں کی اوسط تعداد بھی ہزار سے زائد ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایسے جرائم کے ہیں، جو پولیس کو رپورٹ کیے جاتے ہیں، جب کہ ایسے بہت سے جرائم سماجی بے عزتی کے خوف یا مجرموں کی طرف سے دھمکیوں جیسی وجوہات کے باعث پولیس کو رپورٹ کیے ہی نہیں جاتے۔ پاکستان میں اس نوعیت کے جرائم کا قومی سطح پر ریکارڈ رکھنے کا کوئی خصوصی نظام موجود نہیں، لیکن چند ملک گیر غیر سرکاری تنظیمیں اس شعبے میں بڑی محنت سے کام کر رہی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ  ایسے جرائم کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار اگر ان جرائم کے عملی اسباب کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بہت سے ماہرین یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سماجی طور پر ایسے جرائم کے پس منظر محرکات کیا ہوتے ہیں۔ 
کئی سماجی، نفسیاتی اور عمرانیاتی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ان جرائم کے ارتکاب کے بڑے اسباب غربت، بے روزگاری، سماجی طور پر عزت اور غیرت کا تصور اور انصاف کی فراہمی کے نظام میں پائی جانے والی خامیاں ہیں۔ متعدد دیگر ماہرین کے مطابق انفرادی اخلاقی سطح پر خود احتسابی کی کمی اور معاشرے میں موجود گھٹن اور محرومی کے احساس کو بھی ایسے جرائم کے اسباب کی فہرست سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ یا جنسی جرائم کا کسی معاشرے کے مجموعی ماحول اور وہاں باہمی برداشت کی بہتر یا خراب صورت حال سے بھی کوئی تعلق ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مجموعی سیاسی ماحول بدعنوانی اور سماجی ماحول دباؤ کا شکار ہے۔ معاشرے میں برداشت کم اور عدم برداشت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، تفریح اور تخلیق کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے تو ان کی توانائیاں مجرمانہ اور غیر تعمیری کاموں میں ضائع نہیں ہوں گی۔ چوری، قتل اور ڈکیتی کی طرح کسی معاشرے میں جنسی جرائم کا تعلق بھی وہاں کے مجموعی ماحول، باہمی برداشت، شہریوں کی قانون پسندی، ذہنی اطمینان اور دوسروں کے لیے احترام جیسے عوامل سے ہوتا ہے۔ جہاں ایسے عوامل کی شرح غیر تسلی بخش ہو گی، وہاں جرائم بھی زیادہ ہوں گے۔ عوام کو اجتماعی طور پر آزادی کے ساتھ ساتھ ذمے داری اور ہر حال میں قانون پسندی کا احساس دلانا بھی لازمی ہوتا ہے۔ لوگوں کی صرف صحت ہی