20 نومبر 2018

ہالینڈ کا ’’ابو لہب‘‘ بھی ابتر ٹھہرے گا ہالینڈ کا ’’ابو لہب‘‘ بھی ابتر ٹھہرے گا

صلو علیہ وسلم!آقا کریمؐ، ہمیں عزیز از جان،ہمارے ماں باپ،اولاد آپؐ پر قربان۔ بارگارہ رسالتؐ میں درودو سلام!
 مرا قلم بھی ہے انؐ کا صدقہ
مرے ہنر پر ہے انؐ کا سایہ
حضور خواجہ ؐمرے قلم کا
مرے ہنر کا سلام پہنچے
(سید نفیس الحسینی)
 محمدﷺ نام ہی ایسا مبارک ، متبرک اور معلیٰ ہے کہ جس کے لیے صرف تعریفیں ہی تعریفیں،محبتیں ہی محبتیں ہیں۔ تاجدار مدینہؐ کے قدموں کی خوشبو ئیں بکھیرتی خاک کے صدقے کائنات میں برکتیں ہی برکتیں ،شفائیں ہی شفائیں ہیں۔عرش تافرش، مشرق سے مغرب، شمال تا جنوب صبح وشام اللہ کے بعد ایک ہی نام کی گونج ہے اور وہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔اللہ کریم اور فرشتے بھی جس ذکر پر ناز کریں وہ کتنا عالی شان ہو گا۔ ورفعنا لک ذکرک!
 بعداز خدابزرگ توئی قصہ مختصر
میرے حضور ؐخوب صورت بھی ہیں خوب سیرت بھی ۔شاعر نبوت سیدنا حسان بن ثابت ؓ نے سچ فرمایا :یا رسول اللہ! آپؐ جیسا خوبصورت ترین پیکر میری آنکھ نے نہیں دیکھا،اور آپؐ سے بڑھ کر حسین و جمیل کسی ماں نے جنم نہیں دیا، آپؐ ہر عیب سے پاک پیدا فرمائے گئے،گویا کہ جیسا آپؐ نے چاہا ،ویسا آپ ؐ کو بنایا گیا ۔شفیق و مہربان چچا جناب ابو طالب نے گواہی دی :وہ گورے مکھڑے والا،جس کے روئے زیبا کے واسطے سے ابر رحمت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔وہ یتیموں کا سہارا،وہ بیوائوں، مسکینوں کا سرپرست ہے ۔
ام معبدؓ نے سفر ہجرت کے دوران اپنی آنکھوں سے آپ ؐ کا معجزہ دیکھا اور پھر شوہر کے سامنے حسنِ پیمبر ؐ کا یوں نقشہ کھینچا: وہ صاحب جمال، پاکیزہ رو، پسندیدہ رو، میانہ قد، کشادہ چہرہ، گردن بلند، آنکھیں سیاہ و فراخ، بال لمبے، گھنے، گھنگھریالے، باریک و پیوستہ ابرو، پیٹ باہر نہ نکلا ہوا، آواز میں بھاری پن، خاموش، دور سے دیکھنے میں دلفریب، قریب سے نہایت حسین، شیریں، واضح کلام، تمام گفتگو موتیوں کی لڑی میں پروئی ہوئی۔
رسول کریم ؐ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر انصار کی ننھی پریاں دف پر جھوم جھوم کر یوں نغمہ سرا تھیں: چودھویں کا چاند طلوع ہوا، جنوب کے پہاڑوں سے، شکر واجب ہے ہمیں اللہ کا، اے ہم میں مبعوث کیے جانے والے، آپؐ کے حکم کی اطاعت فرض ہے۔ عرب کی ایک معزز خاتون نے گارنٹی دی: مطمئن رہو! میں نے اس شخص کا چہرہ دیکھا ہے جو چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھا۔ وہ کبھی تمہارے ساتھ بد معاملگی کرنے والا نہیں۔ اگر وہ رقم ادا کرنے نہ آیا تو میں اپنے پاس سے ادا کروں گی۔
کل کی طرح آج بھی، اپنے تو اپنے بیگانے بھی آپؐ کے مداح ہیں۔ برطانوی مصنفہ کیرن آرمسٹرانگ نے Muahammad:The prophet of our time میں اعتراف کیا: محمدﷺ ایک ایسے مذہب کے بانی ہیں، جس کی بنیاد جبر وتشدد پر نہیں۔ مغربی پراپیگنڈے کے باوجود اسلام کا نام امن اور صلح کے مفہوم کو محیط ہے۔
کمالِ خلقِ پیمبرؐ، میں کس طرح لکھوں
جمالِ سیرت اطہرؐ، میں کس طرح لکھوں
مری بساط ہے کمتر، میں کس طرح لکھوں
وہ بے کنار سمندر، میں کس طرح لکھوں
(انور مسعود)
ازل سے ابد تک کھرب ہا انسانوں میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل منتخب کردہ نفوس قدسیہ ہیں اور میرے آقا کریمؐ سب کے امام۔ اللہ کے آخری رسولؐ، بلا شبہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ قیامت تک سب زمانوں اور انسانوں کے عالم گیر پیمبرؐ۔
جب تک یہ نظام دنیا ہے 
ہر زمانہ تیرا زمانہ ہے
(عروبہ نورین)
چاند پر تھوکا منہ پر گرے گا۔ ہالینڈ کے ’’دریدہ دہن‘‘ کی ’’یادہ گوئی‘‘خبث باطن کے سوا کچھ نہیں۔ چشم فلک نے نا جانے گیرٹ ویلڈرز ایسے کتنے ’’حشرات الارض‘‘ دیکھے ہوں گے جو اوندھے منہ گرے اور خاک کا رزق ہو گئے۔ ابولہب کا یہ ’’فکری فرزند‘‘ بھی ابتر ہی ٹھہرے گا۔
سوال یہ ہے کیا ’’زبان درازی‘‘ کسی مہذب انسان، خاندان، معاشرے، ملک کا خاصا ہو سکتا ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں۔ بھونکنا صرف کتوں کا کام ہے۔ مادرپدر آزاد تہذیب کے اس ’’آوارہ فکر‘‘ سے کوئی پوچھے کہ برگزیدہ ہستیاں تو ہیں ہی مکرم، کسی عام سے آدمی کی توہین وتضحیک بھی کون سی آزادی اظہار رائے ہے؟ تم کیسے ’’مخبوط الحواس‘‘ لوگ ہو، ایک طرف جانوروں کے 
حقوق کے ٹھیکیدار بنے ہو، دوسری طرف تکریم انسانیت کے سب سے بڑے ’’علم بردار‘‘ پر کیچڑ اچھانے کی ناپاک جسارت کرتے ہو۔ یہ آزادی نہیں تمہارے اندر کا کینہ، تعصب اور بغض ہے۔ سیاہ دل، سیاہ رُو لوگ! تمہارے ایسے بد طینت فتنہ پردازوں کی اوقات ہی کیا ہے؟ کہاں حضور اعلیٰؐ ۔۔۔۔۔ کہاں ایک ’’تھرڈ کلاس‘‘ ذہنی مریض رکن پارلیمنٹ!۔۔۔ان شانئک ہوالابتر!
بیشک آپؐ کے دشمن بے نام و نشان ہونگے۔ سورہ کوثر کا نزول دیکھیے کہ اللہ نے کیسے اپنے محبوبؐ کا دفاع کیا: رسول کریم ؐ کا سگا چچا ابولہب، گھر کی دیواریں سانجھی۔ عرب میں خونی رشتے بڑی اہمیت کے حامل تھے مگر یہ سیاہ بخت آپؐ کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتا۔اس موقع پر تین آیات پر مشتمل مختصر سی سورۃ نازل ہوئی اورآپؐ کے دشمن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ابتر ٹھہرے۔ ’’اے نبی ؐہم نے آپؐ کو کوثر عطا کی ۔پس آپؐ اپنے رب کی نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک آپؐ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہوگا‘‘(مفہوم سورہ کوثر)
تفسیر عثمانی کے مطابق ابولہب تھا ہی شقی القلب ۔ نبی کریم ؐ نے ایک دفعہ کوہ صفا پر چڑھ کر سب کو پکارا۔لوگ جمع ہوگئے۔آپ ؐ نے نہایت مؤثر پیرائے میں اسلام کی دعوت دی۔ ابولہب ہاتھ بڑھا بڑھا کر ہذیان بکتا رہا۔ غزوہ بدر کے سات روز بعد اس ملعون کو زہریلا دانہ نکلا۔گھروالوں نے بوریا بستر علیحدہ کر دیا۔ سسک سسک کر مرگیا۔ لاش تین روز تک پڑی رہی۔ حبشی غلاموں نے تعفن پھیلنے پر ایک گڑھے میں دبا دیا۔ اللہ کی کتاب قرآن مجید کا ایک ایک لفظ عالمگیر سچائی ہے۔ مکہ کا ابولہب ہو یا ہالینڈ کا، اس بدبودار ’’سکول آف تھاٹ ’’کیلئے حکم آچکا۔گستاخوں کا نام ونشان مٹ جائے گا ۔بیشک اللہ کا وعدہ سچا وعدہ ہے!