ہارے ہوؤں کی دھماچوکڑی ہارے ہوؤں کی دھماچوکڑی

احمقوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے، انہیں دلیل کی بنیاد پر قائل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ یہ زبان سمجھنے سے قاصر ہیں، دوران گفتگو بات بات پر گالم گلوچ ان کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اگر کوئی یہ سوچے کہ احمقوں کو استدلال کے ذریعے قائل کیا جا سکتا ہے تو وہ مہا احمق ہے۔ ہمارے ہاں کچھ احمق بیچارے 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں شکست خوردہ سیاستدانوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں، شہر ہو یا گاؤں، چوک ہو یا چوراہا، تھڑا میٹنگ ہو یا سوشل میڈیا ہر جگہ احمقوں کے اس ٹولے نے شور مچایا ہوا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کا ووٹ چوری ہو گیا ہے، کیوں نہ لگے؟ بیچاروں کو بتایا ہی یہ گیا ہے کہ آپ کا ووٹ چوری ہو گیا ہے۔ ایک سکھ کو کسی نے آ کر کہا، سردار جی! آپ کی بیگم پڑوسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے، سردار جی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، سرپٹ اپنی بیگم کو روکنے کے لیے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن چند منٹ بعد بڑے غصے میں واپس آئے اور خبر دینے والے پر برس پڑے کہ تم نے مجھے بیوقوف بنانے کی کوشش کی ہے، میری ابھی شادی نہیں ہوئی تو بیوی کیسے بھاگ گئی۔ جو بیچارے اپنے چوری شدہ ووٹ کی برآمدگی کے لیے سراپا احتجاج ہیں، ان میں سے بھی بہت سوں کو بعد میں یاد آئے گا کہ انہوں نے تو ووٹ ہی نہیں ڈالا تو چوری کیسے ہو گیا۔ جب تک ایسے لوگ ہیں تب تک جمہوریت کے نام پر ملک و قوم کے ساتھ مذاق کرنے والے نام نہاد سیاستدانوں کی دکان بھی چلتی رہے گی۔
ان بیچاروں کو ہم ان کے حال پر چھوڑتے ہیں، آئیے اہل علم و دانش سے بات کرتے ہیں، جو اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس ملک میں پہلی بار ووٹ کو صحیح عزت ملی ہے، دو پارٹی نظام کو شکست ہوئی ہے، تیسری پارٹی نے آ کر مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی ’’پارٹنر شپ‘‘ کو توڑا ہے۔ اسے کوئی ووٹ چوری کا نام نہیں دے سکتا، یہ عوامی شعور کا برملا اظہار ہے، ایسا اظہار جس سے روایتی سیاستدان خوفزدہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ووٹ کی اس تعظیم سے بننے والی حکومت جب عنان اقتدار سنبھالے گی تو ان کا کچا چٹھا کھول کر قوم کے سامنے رکھ دے گی۔ جب ایسا ہو گا تب ایسے نام نہاد لیڈروں کی دکان بند ہو جائے گی کیونکہ جن لوگوں کو یہ اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں انہیں کو اپنے خلاف پائیں گے اور ان سے چھپتے پھریں گے۔ اسی لیے آج عام انتخابات کے نتیجے میں جو تبدیلی آئی ہے، اس سے انکار کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی نے ان موقع پرستوں کو ایک میز پر لا کر کھڑا کیا ہے۔ یہ 
غضب سیاست کے عجب رنگ ہیں، جو سیاستدان ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کے بھی روادار نہ تھے وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانٹنے والوں کو سینے سے لگا رہی ہے، آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرنے والے کو وزارت عظمیٰ کا ووٹ دینے جا رہی ہے، اے این پی جیسی سیکولر جماعت اور مذہبی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کے مفادات کے محافظ بن گئے ہیں۔ یہ سب لوگ اس فرسودہ نظام کے بینیفشری ہیں جس نے ان سیاستدانوں کو تو زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھایا لیکن اس ملک کے غریب عوام کو جیتے جی زمین میں گاڑ کر رکھ دیا ہے۔ پچھلے 70سال سے یہ بہروپیے اسی نظام کے بل بوتے پر عوام کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں، ان کے پاؤں عوام کی گردن پر ہیں اور ہاتھ جیبوں پر۔ پارلیمنٹ میں موجود کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کے قائدین اور اراکین کا طرز زندگی دیکھ لیں، ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور رہن سہن دیکھ لیں، جو کچھ انہیں میسر ہے کیا وہ سب کچھ اس غریب آدمی کے بچوں کو بھی میسر ہے جن کے ووٹ لے کر یہ لوگ یہاں تک پہنچے؟ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگانے والے نواز شریف اس ملک کے تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے، انہیں اور ان کے 
تمام ہمنواؤں کو کبھی اس بات کی توفیق ہوئی کہ کوئی آل پارٹیز کانفرنس اس ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے بھی بلائی جائے، کوئی آل پارٹیز کانفرنس قوم کے بچوں کے لیے یکساں نصاب اور یکساں نظام تعلیم کے لیے بھی بلائی جائے، کوئی آل پارٹیز کانفرنس اس ملک کے نظام صحت کا قبلہ درست کرنے کے لیے بھی بلائی جائے۔ انہیں اس کی توفیق پہلے تھی نہ آئندہ کبھی ہو گی کیونکہ یہ ان لوگوں کے مسائل نہیں ہیں۔
آج جب عوام نے حقیقی معنوں میں ووٹ کو عزت دے کر ان چلے ہوئے کارتوسوں کو مسترد کر دیا ہے تو انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔ ووٹ کی عزت نے اس بوسیدہ نظام کو اتنا زور سے جھٹکا دیا ہے کہ اس نظام سے جائز و ناجائز فائدے اٹھانے والے سبھی مفاد پرستوں کی چیخیں نکل گئی ہیں، اسی لیے سب کے سب باہر نکل آئے ہیں اور 
اسے بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ قوم ان چہروں کو اچھی طرح پہچان لے جو میرٹ کی دھجیاں اڑا کر انصاف کا قتل کرتے رہے، جو قانون کو اپنے گھر کی باندی سمجھ کر ہمیشہ اس کا غلط استعمال کرتے رہے، جو غریبوں اور لاچاروں کی امیدوں کے مزار پر دھما چوکڑی مچا کر تسکین محسوس کرتے رہے، جو ملک و قوم میں غربت، مہنگائی، بدامنی، پسماندگی اور جہالت کے اندھیرے بانٹتے رہے۔ آج سب کے سب اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ ان کی مرضی کے حلقے کھولے جائیں، بار بار گنتی ہو اور شاید اس طرح انہیں ان کی مرضی کا نتیجہ مل جائے، اسی لیے تو بیچارے جگہ جگہ کی خاک چھان رہے ہیں کہ کسی طرح دوبارہ گنتی کا حکم نامہ مل جائے، جس معزز جج صاحب سے ری کاؤنٹنگ کا پروانہ مل جائے وہ اچھا اور جو ان کی درخواست مسترد کر دے، اس پر نجانے کیسے کیسے الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں، تین تین بار گنتی سے بھی ان کی تسلی نہیں ہوئی۔ 2013ء کے الیکشن میں جب تحریک انصاف نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے اور قومی اسمبلی کے صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اس وقت تو ان میں سے کسی نے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ نہیں کیا، الٹا ہٹ دھرمی پر اتر آئے تھے، ان کی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہی معاملہ پارلیمنٹ سے نکل کر عدالت میں گیا اور پورے 
ملک کے انتخابات کا آڈٹ کرنا پڑا، جہاں یہ بات ثابت ہو گئی کہ انتخابات میں وسیع پیمانے میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ آج خود پر آن پڑی ہے تو انہیں ہر وہ حق یاد آ رہا ہے جو گزشتہ دور حکومت میں ’’جرم‘‘ قرار دیا جا رہا تھا۔
آج انہیں میں سے بعض لیڈر عدلیہ اور فوج کے خلاف نشتر زنی پر اتر آئے ہیں، ان کے احتجاجی مظاہروں میں وہی نعرے سنائی دے رہے ہیں جو منظور پشتین کے جلسوں اور جلوسوں میں سنائی دیتے رہے۔ یہ عمل ناقابل قبول ہے، جو زیادہ دیر تک چل سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کیا جا سکتا ہے۔ بعض سیاستدان اس گروہ کے عزائم کو بھانپ چکے ہیں، اسی لیے وہ ان سے کنارہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے شہباز کی پرواز سے جلتا ہے زمانہ۔ اس بار وہ بیچارے جس جہاز پر سوار ہوئے اس نے پرواز بھرنے سے ہی جواب دے دیا۔ اگر ایسا مصلحتاً کیا گیا ہے تو سیاسی طور پر بہت اچھا فیصلہ تھا اور اگر اللہ کی طرف سے ہوا ہے تو اسے قدرت کی رضا سمجھ کر تسلیم کیا جانا چاہیے، جس نے غلط راستے پر چلنے سے روک لیا۔ 25 جولائی کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی کمال سمجھداری سے کام لے رہے ہیں، انہوں نے بھی اپنے آپ کو اس ڈرٹی پالیٹکس سے پیچھے رکھنے کا فیصلہ کیا۔ امید ہے آنے والے چند روز میں اس راستے کو چھوڑنے والوں میں مزید اضافہ ہو گا اور آخر میں وہی رہ جائیں جو کسی ایجنڈے پر ہیں، تب قوم کے سامنے ایک اور انکشاف ہو گا، وہ یہ کہ جو بچی کچھی سیاسی جماعتیں دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، یہ وہی ہیں جن کے امیدواروں نے ایک دوسرے کو شکست دے رکھی ہے۔ تب ہارے ہوؤں کا واویلا خود بخود دم توڑ جائے گا اور ان کے پاس اپنی اصلاح کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا۔