22 مارچ 2019
تازہ ترین

گیارہویں صلیبی جنگ   (3) گیارہویں صلیبی جنگ (3)

پالیسی مسودے میں کہا گیا ہے کہ پہلے الیکٹرانک میڈیا کے لیے ریٹس کا تعین نہیں کیا گیا تھا اس لیے وزارت اطلاعات و نشریات نئے ریٹس منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوائے گی لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ان ریٹس کو پہلے ہی نافذ کر دیا گیا ہے اور ان میں یوں کٹوتی کی گئی ہے جیسے کوئی اناڑی قصائی قربانی کے جانور کی بے دردی سے بوٹیاں بناتا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا اشتہارات کے فی منٹ نرخوں میں پچاس سے دو سو فی صد تک کمی کر دی گئی ہے لیکن اس کمی کے باوجود بھی ‘غیر جانبدار حکومت’ اپنے چہیتوں کو نوازنا نہیں بھولی۔ اشتہارات کے نرخ تو کم  ہو گئے لیکن زیادتی یہ ہے کہ اس سلسلے میں کسی اسٹیک ہولڈر سے مشاورت بھی ضروری نہیں سمجھی گئی۔ 
طے یہ پایا تھا کہ الیکٹرانک میڈیا کے اشتہارات کے نرخ نامے پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن یعنی پی بی اے کی مشاورت سے مقرر کیے جائیں گے لیکن الیکٹرانک میڈیا کی نمائندہ تنظیم کو اعتماد میں لیے بغیر حکومت نے ایسے فیصلے کر ڈالے جن کے صرف منفی اثرات ہی مرتب ہو سکتے ہیں۔
پی بی اے نے اس فیصلے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے وفاقی سیکرٹری اطلاعات کو یاد دہانی کرائی ہے کہ یہ فیصلہ قبل از وقت ہے لیکن اس امر کی توقع بے حد کم ہے کہ سرکاری افسر اپنے موجودہ باسز کے کسی ’حکم‘ کی سرتابی کے مرتکب ہو سکیں کیونکہ بیورو کریٹس کے نزدیک ان کے مفادات زیادہ اہم ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں عنان اقتدار ہو۔
یہ وہ ریٹ لسٹ ہے جسے حکومت نے اپنے طور پر طے کرکے نافذ بھی کر دیا ہے۔ ان میں سے بعض ٹی وی چینلز کے اشتہارات کا فی منٹ نرخ دوسرے یا تیسرے درجے کے اخبارات کے دس سینٹی میٹر اشہار کے نرخ سے بھی کم ہے جو کسی مذاق سے کم نہیں۔
اس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت ریاست کے چوتھے ستون یعنی میڈیا کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور اس کے مسائل حل کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔
مجوزہ پالیسی صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ اس میں اور بہت سے معاملات ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر میڈیا کی بے وقعتی کا احساس فزوں تر ہو جاتا ہے۔ بعض حکومتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن اور سوشل میڈیا ایڈورٹائزنگ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی نسبت زیادہ موثر ہے کیونکہ پاکستان میں ‘آن لائن اور سوشل میڈیا قوت’ میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 
چنانچہ آن لائن اور سوشل میڈیا کے اشتہارات کا ’ٹھیکہ‘ بھی لا محدود اختیارات کے ساتھ پی آئی ڈی کو دے دیا گیا ہے اور ان اشتہارات پر سے بعض ایسی پابندیوں کو ختم کر دیا گیا ہے جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اشتہارات پر عائد کی گئی ہیں۔
مجوزہ مسودے میں سیاسی نوعیت کے سرکاری اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اشتہار میں کسی سیاسی جماعت یا رکن پارلیمنٹ کا نام استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
پی آئی ڈی صرف ان اخبارات کو اشتہار جاری کرے گا جو سینٹرل میڈیا لسٹ میں شامل ہوں گے اور ہر طرح کے اشتہارات ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے بجائے براہ راست پی آئی ڈی سے جاری ہوں گے۔ اسی طرح تمام میڈیا ہاؤسز اپنے بلز اور انوائسز پی آئی ڈی میں ہی جمع کرائیں گے جو ضروری اسکروٹنی کے بعد ادائیگی کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان یعنی اے جی پی آر کو بھجوائی جائیں گی۔
پی آئی ڈی، الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والے اشتہارات کا ایک ریلیز آرڈر پیمرا کو بھی فراہم کرے گا تاکہ اس کی ضروری مانیٹرنگ کی جا سکے۔
اخبارات کو اے بی اور سی کٹیگری میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ تیس ہزار سے زائد سرکولیشن اور پچاس ملازمین والے اخبارات، اے، پندرہ ہزار کی سرکولیشن اور بیس ملازمین والے اخبارات، بی، اور تمام دیگر اخبارات، سی کٹیگری میں شامل کیے گئے ہیں جبکہ ٹی وی چینلز کی ریٹنگ پیمرا کی ذمہ داری ہو گی۔
میڈیا ہاؤسز کو ادائیگی کے لیے پی آئی ڈی کو پچاس کروڑ روپے کے فنڈز بھی مہیا کیے جائیں گے جبکہ ٹی وی کمرشلز اور ڈسپلے ایڈورٹائزنگ کے کری ایٹو ورک کے لیے پروڈکشن ہاؤسز کی فہرست بھی پی آئی ڈی خود مرتب کرے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ‘اندھا ریوڑیاں اب بھی بانٹے گا لیکن صرف اپنوں اپنوں کو’۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات میڈیا کی بہتری بلکہ اسے ریگولیٹ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں لیکن اس پالیسی کے ابتدائی خدوخال کو دیکھ کر کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اس سے میڈیا میں کوئی بہتری آنے والی ہے بلکہ خدشہ ہے کہ ریاست کا یہ چوتھا ستون آنے والے دنوں میں مزید مشکلات سے دوچار ہو گا۔
بہتر یہ ہو گا کہ حکومت یک طرفہ فیصلوں کے بجائے میڈیا کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ  بیٹھے اور باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے ان مسائل کا حل نکالے تاکہ ایک جانب میڈیا کا یہ شکوہ دور ہو سکے کہ اسے بے جا پابندیوں میں جکڑا جا رہا ہے تو دوسری جانب حکومت کا یہ پروپیگنڈہ ختم ہو سکے کہ میڈیا جان بوجھ کر اس کی کارکردگی کو بگاڑ کر ناظرین و قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہے جو پہلے ہی صفر ہے۔