گیارہویں صلیبی جنگ   (2) گیارہویں صلیبی جنگ (2)

جارج بش کی تقریر میں crusade کے الفاظ پر یورپ اور مسلم ممالک میں کڑی تنقید کی گئی، بعد ازاں اس لفظ کے استعمال کی کئی وضاحتیں پیش کی گئیں تاہم تاریخی حوالوں میں اسے اب بھی ‘دسویں صلیبی جنگ’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو اب بھی جاری ہے۔
میڈیا کے خلاف حکومتی اقدامات سے ‘گیارہویں صلیبی جنگ’ کا گمان ہوتا ہے جسے عمران خان حکومت، میڈیا پر ان دیکھی بے جا پابندیوں، اشتہارات کی بندشوں، اشتہارات کے کوٹے اور ان کے نرخوں میں کمی اور یک طرفہ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کے نفاذ کے ذریعے لڑ رہی ہے۔اب تک غلط حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں متعدد میڈیا ہاؤسز اور اخبارات بند ہو چکے ہیں جبکہ کئی ہزار صحافتی کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں لیکن ایک کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کی دعوے دار حکومت نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ بعض ایسے اقدامات بھی کرنے جا رہی ہے جن کے نتیجے میں مزید ہزاروں صحافتی کارکنوں کے بے روزگاری یقینی نظر آتی ہے۔یہاں ریکارڈ کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سب سے پہلا مظاہرہ حکومتی کنٹرول میں چلنے والے سرکاری ادارے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن یعنی ریڈیو پاکستان کے ملازمین نے کیا تھا لہٰذا جو حکومت اپنے زیرنگیں ادارے کے ملازمین کے مفادات کا تحفظ کرنے سے معذور ہو وہ نجی میڈیا ہاؤسز اور ان کے کارکنوں کے حقوق کی ضمانت کیسے دے سکتی ہے۔ہمیں علم ہے کہ یہ بات ہمارے بہت سے سرکاری دوستوں کی طبع نازک پر گراں گزرے گی لیکن حقیقت یہی ہے کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی ‘مزدور دشمن’ پالیسی کی توقع کی جا سکتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ سرکاری اشتہارات کسی بھی ٹیلی ویڑن چینل یا اخبار کے لیے بنیادی ذریعہ آمدنی ہوتے ہیں لیکن سرکاری اشتہارات ہر حکومت کی بھی ضرورت ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے اشتہارات کے اجرا کا بنیادی مقصد عوام کے ساتھ موثر رابطہ رکھنا ہی نہیں بلکہ انہیں ان کے فرائض، ذمہ داریوں اور حقوق سے آگاہی دینا بھی ہے۔ حکومت میڈیا پر اشتہارات کے ذریعے عوام سے براہ راست مخاطب ہوتی ہے اور انہیں اپنی ان خدمات کے بارے میں بتاتی ہے جو ملک و قوم کی بہتری کے لیے سرکاری سطح پر کی جاتی ہیں۔
موجودہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح یقینی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو گی لیکن پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کے مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ سرکاری اشتہارات میں عوامی ضروریات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، عوامی وسائل کا صحیح استعمال ہونا چاہیے اور عوام کے لیے موثر پیغام کے ساتھ ساتھ میڈیا کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔مجوزہ مسودے کی حد تک ہمیں حکومتی نیک نیتی پر کوئی شبہ نہیں جس میں دو عوامل یعنی عوام کے لیے موثر پیغام کے ساتھ ساتھ میڈیا کی حوصلہ افزائی شامل ہیں لیکن عملی طور پر ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ پی ٹی آئی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد پہلے دن سے جن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے وہ کسی بھی طور میڈیا کے لیے مناسب ہیں نہ ان سے میڈیا کی حوصلہ افزائی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔بلکہ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اور اس کی پشت پر کھڑے بعض ادارے میڈیا کے خلاف جو ‘صلیبی جنگ’ لڑ رہے ہیں، اس کا مقصد میڈیا پر قبضے یا اسے اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے اور چلانے کے سوا کچھ نہیں۔
سرکاری اشتہارات کی نگرانی اور ان کے اجرا کی ذمہ داری پرنسپل انفارمیشن آفیسر یعنی پی آئی او کی سربراہی میں تشکیل شدہ پانچ رکنی اوور سائٹ اینڈ امپلی مینٹیشن کمیٹی (او آئی سی) کی ہو گی جس کا آسان مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ حکومتی پالیسیوں سے ذرہ برابر اختلاف رکھنے والے کسی ٹی وی چینل یا اخبار کو کوئی سرکاری اشتہار نہیں ملے گا کیونکہ فیصلہ کرنے والے تمام افراد حکومت کے تنخواہ دار ہیں جن کی اولین ذمہ داری شاہ کی وفاداری ہو گی۔روز اول سے وفاقی سرکاری اشتہارات میں ریجنل اخبارات کے لیے 25 فی صد کوٹہ مختص ہے تاکہ چھوٹے اخبارات اپنے محدود وسائل کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھ سکیں لیکن نئی پالیسی میں تجویز دی گئی ہے کہ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ یعنی پی آئی ڈی کی جانب سے جاری ہونے والے اشتہارات میں یہ کوٹہ ختم کر دیا جائے۔ اس کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد چونکہ علاقائی اخبارات صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہیں اس لیے پی ڈی آئی کے اشہارات سے یہ کوٹہ ختم کر دیا جائے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب وفاقی حکومت (جو پورے ملک کی ماں یا باپ کا درجہ رکھتی ہے) ریجنل اخبارات کے سر پر سے ہاتھ اٹھا لے گی تو ان کی زندگی اور وجود کی ضمانت کون دے گا اور ان سے وابستہ کارکنوں کا مستقبل کیا ہو گا۔
بعض ڈسپلے اشتہارات کے ضمن میں ریجنل اخبارات کو شامل کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی او آئی سی کی صوابدید پر ہو گا۔
اسی طرح سرکاری ٹینڈر نوٹسز اور ضرورت ہے جیسے اشتہارات کے حوالے سے ایسے قواعد و ضوابط بنائے جا رہے ہیں جنہیں صرف مضحکہ خیز ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان میں اخبارات کی تعداد کی حد بندی اشتہار کی مالیت اور نوعیت سے مشروط کر دی گئی ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے بعض قومی انگریزی اخبارات بھی سرکاری اشتہارات کی کثیر تعداد سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ اب وہی سرکاری اشتہارات، انگریزی اخبارات کی زینت بنیں گے جن کی اشاعت انگریزی اخبارات میں بے حد ضروری ہو گی۔
تمام سرکاری ڈسپلے اشتہارات اب صرف پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ یعنی پی آئی ڈی ہی ریلیز کرے گا اور کارپوریشن، باڈی یا اتھارٹی سمیت کوئی سرکاری ادارہ  پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا یا ریڈیو پر اپنی تشہیری مہم کے لیے کسی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی خدمات حاصل نہیں کر سکے گا جبکہ پی آئی او اور پی آئی ڈی کو اشتہاری مہم کی مالیت کے تعین کا اختیار بھی ہوگا۔
یعنی کروڑوں روپے مالیت سے قائم ہونے والی ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں اور ان کے کری ایٹو ڈپارٹمنٹ ختم ہو جائیں گے۔ ایک طرف سرکاری محکموں کے سیکشن آفیسرز اور کلرکس بیٹھ کر اشتہارات ڈیزائن کیا کریں گے اور دوسری جانب سالہا سال تجربے کے حامل کری ایٹو ڈائریکٹرز اور آرٹ ڈائریکٹرز شاید وزارت اطلاعات، پی آئی ڈی یا پرائم منسٹرز سیکرٹریٹ کے سامنے پکوڑے بیچا کریں گے۔     (جاری ہے)