18 نومبر 2018
تازہ ترین

گھر کے برتن مت بیچو! قوم کو آواز تو دو گھر کے برتن مت بیچو! قوم کو آواز تو دو

اک سفر کا سلسلہ ہے دائرہ در دائرہ
میں اُترکر دیکھ آیا ہوں بھنور میں کچھ نہیں
                  (محسن نقوی)
یہ کون ہیں جو رضوان گوندل کو فرشتہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس کو کون گمراہ کرنے کے درپے ہے۔ چلبل پانڈے کو چودھری نثار علی خان نے کس واقعے پر معطل کیا تھا، سخت گیر وزیر داخلہ برطرفی چاہتے تھے، (ن) لیگ کے اکابرین نے اسے بچا لیا۔ پوری فائل ہے، ویڈیوز ہیں، ثبوت ہی ثبوت ہیں۔ سپریم کورٹ وزارت داخلہ سے فائل منگوائے، اس سے پہلے کہ تمام ثبوت ہی مٹا دیے جائیں۔ وزارت داخلہ کو بھی تو اس پر کردار ادا کرنا چاہیے۔
گزشتہ رات میرے دوست شہباز خان بتا رہے تھے کہ موسیٰ خیل سے آئے ایک شخص کو ناکے پر روکا گیا، وہ پارلیمنٹ لاجز محمود اچکزئی اور دوسرے لوگوں سے ملنے جا رہا تھا۔ اس کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تھا، اس نے سب کچھ پولیس والوں کے سامنے رکھ دیا۔ موصوف رضوان گوندل نے کہا کہ تمہاری کاپی پر 30 گولیاں درج ہیں جبکہ تمہارے پاس پچاس ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ صاحب میں ان پڑھ ہوں، گولیاں سستی مل رہی تھیں میں نے لے لیں۔ ’ رضوان گوندل نے میڈیا کو خبر جاری کرا دی، مسلح دہشت گرد پکڑا گیا ہے۔ وہ چینی صدر کو قتل کرنا چاہتا ہے، محمود اچکزئی کی پارٹی سے اس کا تعلق ہے۔ شہباز خان کو جب اس پورے واقعہ کا پتا چلا تو اس نے پہلے رضوان گوندل سے بات کی، اس نے بندہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ شہباز خان کی شخصی ضمانت پر بھی موصوف نہیں مانے۔ شہباز خان نے محمود اچکزئی کو رات ڈیڑھ بجے زبردستی جگایا، تمام واقعہ بتایا۔ اچکزئی نے ’’اوپر‘‘ بات کی مگر رضوان گوندل ایک عام شہری کو بڑا دہشت گرد بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اس نے سخت پرچہ دے دیا۔ دو روز کے بعد عدالت میں شہباز خان ’’ان پرسن‘‘ پیش ہوا، جج کے روبرو پوری روداد بتائی۔ پولیس ریمانڈ چاہتی تھی، جج نے معصوم شہری کی ضمانت لے لی۔ اس طرح ایک بے گناہ شخص دہشت گرد بننے سے بچ گیا۔
 گزشتہ روز کے کالم پر بہت سے دوستوں نے تعریف کے بعد اپنے دکھ بھی سنائے کہ کیسے ایف پی ایس سی میں انٹرویو کی آڑ میں لوگوں کو کمتر گروپس میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ ہر بڑے آدمی کا بیٹا ہی کیسے پی اے ایس، پولیس سروس، فارن سروس، کسٹم اور انکم ٹیکس میں آ جاتا ہے۔ انٹرویو لینے والے ’’انکلز‘‘ جو ہوتے ہیں۔ میں نے گزشتہ کئی دنوں سے اس ضمن میں دوسروں کو تو چھوڑیں، کسی پولیس سروس والے سے بھی موصوف کے حق میں ’’کلمہ خیر‘‘ نہیں سنا۔برادرم عمار علی خان مجھ سے ناراض ہو رہے تھے کہ گوندل ان کا بیج میٹ ہے، آپ کے تجزیے سے متفق نہیں ہوں۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ انفارمیشن معتبر ذریعے کی ہے، میں اس سے 99% متفق ہوں۔ اسلام آباد کا ٹریک ریکارڈ بھی کچھ ایسی ہی روشنی اگل رہا ہے۔
پھر برادرم مشکور صاحب کا فون آیا، بڑی تفصیل سے بات ہوئی۔ بعد ازاں وہ نرم پڑ گئے تو میں ہنس پڑا۔ ہمارے ایک عدد چیف ایڈیٹر ہوا کرتے تھے، ان کے پاس جو پہلے چلا جاتا وہ اسے ہی سچا گردانتے تھے۔ انہوں نے اپنی اسی عادت سے سیکڑوں کام کے لوگ گنوا دیے، سازشیے پال لیے۔ آج وہ ادارہ تباہ ہو گیا ہے جہاں کبھی دن رات کام ہوا کرتا تھا۔ سپریم کورٹ میں ڈاکٹر سعید کے حوالے سے جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے اس پر مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو تحفظات ہیں۔ اسی طرح سے سپریم کورٹ میں ایک بار پھر موجودہ کیس میں جو کچھ سامنے آ رہا ہے اس پر حقائق جاننا بہت ضروری ہیں۔ ’’فدوی نمائندگان‘‘ کے سچ پر اعتبار بلکہ یکطرفہ اعتبار سے عدلیہ پر سوال اٹھیں گے۔ آج چھ ماہ ہو گئے ہیں، ہم نے ایک ٹی وی سے تنخواہیں لینی ہیں، اس پر جناب چیف جسٹس کوئی ایکشن کب لیں گے، ہماری درخواست سپریم کورٹ میں ڈمپ ہے۔خیر، بات دوسری طرف نہ چلی جائے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک خاندان کو کون ٹارگٹ کر رہا ہے، کیا شادیاں شہباز شریف نے نہیں کی ہیں، خواجہ سعد رفیق سے خواجہ آصف تک شادیاں ہی شادیاں ہیں۔ کیا تہمینہ درانی نے نانی کی عمر میں شادی نہیں کی۔ شادی ایک شرعی حکم ہے، آپ ایک خاندان کو کیوں تباہ کرنے پر تل گئے ہیں۔
یہ آج ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ جہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر کا کرایہ پچاس روپے فی کلو میٹر ہے یا نہیں ہے۔ لیونارڈو ہیلی کاپٹر اے ڈبلیو 139 کا ایک ناٹیکل میل کا خرچہ 15 ڈالر ہے۔ وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ اور واپس وزیراعظم ہاؤس 19 ہزار روپے خرچ آتا ہے، یہ بہت سستا اور بہتر طریقہ کار ہے۔ عوام بھی تکلیف سے بچتے ہیں۔ نانگا مست کہہ رہے تھے کہ عمران خان کو اپنی حفاظت کے نقطہ نظر کے تحت بذریعہ ہیلی کاپٹر بنی گالہ جانے سے گریز کرنا چاہیے، وہ گاڑیاں بیچنے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ یوسف علیہ السلام امیرِ مصر بنے تو حضرت یعقوب علیہ السلام کی آمد پر وحی نازل ہوئی، اپنا امیر والا بہترین لباس زیب تن کرو۔ سادگی اچھی چیز ہے مگر گھر کے برتن بیچنے سے مسائل کبھی حل نہیں ہوتے، بڑھتے ہیں۔ ان کا استعمال باقاعدہ کر لیں۔ ملک سے ابھی دہشت گردی کم ہوئی ہے، ختم نہیں ہوئی۔ عمران خان کے کچھ ’’نادان مشیر‘‘ اور چالاک اپوزیشن اسے گھیر رہی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں رہنے سے کچھ فرق نہیں پڑنا تھا، آپ نے سکیورٹی اداروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ اداروں کی توانائیاں آپ کہاں پر صرف کر رہے ہیں، فروعی کاموں میں الجھیں گے تو اصل کام رہ جائیں گے۔ غیر ملکی مہمان آتے ہیں، ان کی حفاظت کے پیش نظر بلٹ پروف گاڑیاں ضروری ہیں۔ عمران کو بابر 
اعوان غلط تفسیریں پڑھا کر مروا دیں گے۔ ان کی دینی اور قانونی سب تفسیریں مبالغہ آمیز ہوتی ہیں۔ وہ نانگا مست اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ انتظار ولی کو دعا دیں، زرداری کو سزا کے اعلان کے وقت ہنگامہ انہوں نے کرایا، نمبر موصوف کے بن گئے۔
آج یہ عمران خان کو غلط ٹریک پر لے کر جا رہے ہیں، اس کی جان فی الحال بہت قیمتی ہے۔ وہ اب عمران خان نہیں وزیراعظم پاکستان ہیں، وہ اپنے کمزور فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ وہ یاد رکھیں مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ کیا ہوا، خان لیاقت علی خان، بینظیر بھٹو کے ساتھ کیا ہوا؟ معاملات اتنے بھی سادہ نہیں ہیں، ہمارے ایک میجر جنرل نیازی کو دہشت گردوں نے ہیلی کاپٹر پر ہی نشانہ بنایا تھا۔
حضور، اپوزیشن کا کام ہی بولنا ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوایا، مولوی کہتے تھے وہ بھٹو کے پاؤں دھو دھو کر پئیں گے۔ انہوں نے یہ کام تو نہ کیا البتہ وہ ہاتھ دھو کر بھٹو کی حکومت اور جان کے پیچھے پڑے گئے، دونوں ہی ختم کر کے دم لیا اور ضیاء الحق کے ’’حرم‘‘ کی زینت بن گئے۔ حضور، قوم کی خدمت ایسے نہیں ہو گی آپ پالیسیاں دیں، قوم نے ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ کے نعرے پر کھربوں روپے دیے۔ وہ تو چور تھے ثابت ہو چکا ہے، تمہاری نیت پر قوم کو شک نہیں ہے۔ قوم کو آواز تو دے کر دیکھو، گھر کے برتن مت بیچو۔
گھائل عندلیب زخمی گلاب دیکھے
محبتوں نے سبھی رتوں میں عذاب دیکھے