21 ستمبر 2018
تازہ ترین

گھبرائیں نہیں!!! گھبرائیں نہیں!!!

مملکت خدا داد پاکستان میں تیسرا جمہوری دور شروع ہو چکا ہے چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ ،گورنرز کے بعد 4ستمبر کو صدر مملکت کے انتخاب کا مرحلہ بھی مکمل ہو جائے گا، کیا اس تیسرے جمہوری دور میں تبدیلی آئے گی یا نہیں،اس کا فیصلہ تو صاحب اقتدار اور وقت کرے گا لیکن مہنگائی ،بے اصولی اور بے روز گاری کے امتحان میں پھنسی ہوئی بے چین قوم جلد از جلد ’’تبدیلی‘‘کی تمنائی ہے اس لئے کہ تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کا نعرہ ہی تبدیلی اور نیا پاکستان تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تبدیلی پہلے سو دنوں میں ہی نظر آنا شروع ہو جائے گی ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن گزر چکے ہیںاور عام لوگوں نے ہر شعبے اور ہر ادارے میں ’’تبدیلی‘‘تلاش کرنی شروع کر دی ہے۔ اس انداز سے نو منتخب وزیراعظم عمران خان اچھی طرح واقف تھے اسی لئے انہوں نے اپنے قوم سے پہلے خطاب میں ایک سے زیادہ مرتبہ دوہرایا ’’آپ گھبرائیں نہیں‘‘!!!
پھر بھی قوم گھبرائی ہوئی ہے کہ پاکستان کو سابق حکمرانوں نے لوٹ مار کر کے ایسا ’’مسائلستان‘‘بنا دیا ہے کہ عمران خان کسی جادو کی چھڑی کے بغیر معاملات حل نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی سادہ اکثریت بھی اتحادیوں کی مدد سے بنی ہے اگر انہیں ماضی کی طرح ’’نواز شریف‘‘وا لا بھاری ’’مینڈیٹ‘‘مل جاتا تو شاید حالات بدل سکتے تھے۔ اس لئے کہ عمران خان اور نواز شریف کے ویژن میں زمین آسمان کا فرق موجود ہے ،یقیناً عوام کی جانب سے ملنے والے اقتدار کو بچانے کیلئے وہ اپنے اتحادیوں کو آگے لے کر چلیں گے انہیں سمجھ اور بردباری سے اتحادیوں کی ہر بات سننی اور سمجھنی پڑے گی ورنہ یہ سادہ اکثریت بھی قائم نہیں رہ سکے گی۔ ’’ہم اور آپ‘‘اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جب ’’مانگے تانگے‘‘کی اکثریت ہو تو خدشات اور معاملات بالکل مختلف ہوتے ہیں ’’کرسی اور اقتدار‘‘کی حفاظت کیلئے بہت کچھ ایسا کرنا پڑتا ہے جو عام زندگی میں نہیں کیا جا سکتا لیکن عام آدمی یہ سب کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی جاننا چاہتا ہے اس لئے کہ وہ ’’تبدیلی‘‘کی نوید میں اپنے مسائل سے نجات چاہتا ہے اس کا مسئلہ زندگی اور اس کا کنبہ ہے جس کی فکر میں وہ نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔اس لئے کہ کوئی بھاری مینڈیٹ سے بھی بے روز گاری اور مہنگائی راتوں رات نہیں ختم کر سکتا اور جب تک ایسا نہ ہو گا عام آدمی مطمئن ہونے کے بجائے گھبرایا ہوا ہی دکھائی دے گا کیونکہ معاملات صرف ’’گھبرائیں نہیں‘‘کہہ کر کسی کو بھی تسلی نہیں دی جا سکتی ۔ ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھنا ہو گا کہ عمران خان کا اقتدار ’’بیساکھیوں‘‘کا مرہون منت ہے انہوں نے اپنی حکمت عملی میں تخت ِ پنجاب پر قبضہ کر کے اپنی حکومت بنا لی لیکن سہولتوں سے محروم جنوبی پنجاب کا وزیراعلیٰ بھی بہت سے اہم لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا حالانکہ غربت زدہ علاقے کے سردار عثمان بزدار کھوسوں اور لغاریوں سے بڑے زمیندار ہیں۔
صدارتی الیکشن کے بعد جمہوری حسن احتجاج میں تیزی آئے گی اس لئے کہ اپوزیشن سیاسی بصیرت رکھنے کے باوجود عددی مضبوط طاقت بھی رکھتی ہے ،ان کا سب سے بڑا مسئلہ ’’آر۔ٹی۔ایس‘‘سسٹم کی ناکامی ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی ایم۔کیو۔ایم کو شدید اعتراض ہے جس کی قومی اسمبلی کی چھ نشستیں ’’اقتدار‘‘کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ عمران خان کے یوٹرن کی طرح ایم۔کیو۔ایم کی بات بات پر ناراضگی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں،وہ کسی معمولی اشارے پر بھی اِدھر سے اُدھرہو سکتے ہیں ۔ اس لئے تحریک انصاف کو ایک دکھتے ہوئے پھوڑے کی طرح ایم۔کیو۔ایم کی حفاظت کرنی پڑے گی ۔شائد انہیں ہی مطمئن کرنے کیلئے سینیٹر اعظم سواتی سے ’’آر۔ٹی۔ایس‘‘معاملات کی ابتدائی تحقیقات کرائی گئی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اعظم سواتی نے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے چند اعلیٰ شخصیات کی کرپشن کے ثبوت بھی پیش کئے ہیں۔ اس ’’لگائی بجھائی‘‘میں اگر ردعمل سخت نکلا تو یقیناً عمران خان کیلئے نئے مسائل بھی جنم لیں گے اور اگر اسے وزیراعظم نے برداشت کر کے کوئی کارروائی نہ کی تو بھی معاملات بگڑیں گے۔ اس لئے قوم گھبرائے نہیں تو اور کیا کرے؟ حقیقت یہی ہے کہ اپوزیشن اور اقتدار کی ’’عینکیں‘‘ مختلف ہوتی ہیں اسی لئے ہر دورمیں اپوزیشن احتجاج اور شور شرابے کے انداز اپناتی ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو حکومت ایوان کے طاقت ور ان کی بات نہیں سنتے بلکہ ’’اقتدار‘‘میں تو ایوان مچھلی منڈی بھی بن جائے تب بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ تبدیلی کے نام پر آنے والی تحریک انصاف کی حکومت اس دھرنوں ،احتجاج اور شور شرابے کا جواب کارکردگی سے دے کر اپوزیشن کو ناکام بنائے ورنہ جو انداز گزشتہ پانچ برسوں میں ’’تحریک انصاف‘‘نے سکھایا ہے اگر اپوزیشن نے وہ اپنا لیا تو عمران خان اور ان کی ٹیم برداشت نہیں کر سکے گی ۔بس یہی وہ خدشات ہیں جن سے قوم گھبرا رہی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ فوری طور پر جلد بازی کی ضرورت نہیں ’’اقتدار‘‘دیا ہے تو ان کی کارکردگی کیلئے وقت بھی دینا ہو گا جو کسی بھی صورت گھبرا کر نہیں دیا جا سکتا ہے۔
قوم کتنی گھبرائی ہے یا آنے والے وقتوں میں کس قدر گھبرائے گی اس کا کسی حد تک نو منتخب وزیراعظم عمران خان کو اندازہ ہے جب ہی انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں نہ گھبرانے کا پیغام دیا ۔ایسی صورت حال میں وزیراعظم کو اپنی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی سے ایسے ردعمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ کم از کم وہ قوم کو گھبرائے ہوئے محسوس نہ ہوں بلکہ بردباری ،محنت اور دیانتداری سے قومی مسائل کا حل تلاش کرتے دکھائی دیں۔سادگی اور فضول خرچی میں کمی یقیناً اچھی بات ہے لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ قومی خوشحالی اور ترقی کیلئے بین لاقوامی تقاضے آمدنی میں اضافے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں یعنی معاشی جنگ چھوٹے ممالک میں ہی نہیں ترقی یافتہ بڑے ممالک کیلئے بھی اہم ترین ہے ہمارا تجارتی خسارہ کبھی دو ارب ڈالر سالانہ تھا جو موجودہ حالات میں ماہانہ ہو چکا ہے اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ ہماری معیشت اربوں ڈالر قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے تو بے جا نہ ہو گا اور اس سے نجات کے راستے بھی حکومت وقت نے ڈھونڈنے ہیں جو گھبرانے کے بجائے مثبت حکمت عملی اور مر بوط منصوبہ بندی سے ممکن ہونگے اس لئے حکومت اور قوم دونوں کی گھبراہٹ کسی بھی طرح سود مند ثابت نہیں ہو سکتی ۔
 قوم ہمت اور حوصلہ سے نو منتخب حکومت کو سنبھلنے اور کام کرنے کا موقع دے اور حکومت وقت ضائع کئے بغیر اپنے دعوئوں کی حقیقی تصویر اور ثمرات عوامی سطح تک پہنچانے کے لئے شب و روز ایک کر دے تا کہ گزشتہ 71سال کی بد اعتمادی کی فضا میں اعتماد کی روایت آگے بڑھائی جا سکے ۔چینلجز اَن گنت ہیں لیکن اس سے نبرد آزما صبر و استقامت اور اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ہوا جا سکتا ہے جو مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن ہر گز نہیں ،اس لئے گھبرائیں نہیں اور صاحب اقتدار کو کچھ کر گزرنے کا موقع ضرور دیں تا کہ وہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح کچھ نہ کرنے دینے کا راگ نہ الاپ سکیں ۔موجودہ حالات میں ناکوں چنے چبوانے کے لئے مضبوط اپوزیشن موجود ہے اس لئے قوم تیسرے جمہوری دور میں تیسری سیاسی طاقت کو بھرپور چانس دے کر تماشہ دیکھے۔