13 نومبر 2018
تازہ ترین

گولا مارو سیاست کو گولا مارو سیاست کو

امریکا کے سیکرٹری آف سٹیٹ جو ہمارے ہاں وزیر خارجہ کہلاتا ہے، مائیک پومپیو اسلام آباد وارد ہو چکے ہیں۔ جی ہاں تشریف نہیں لائے بلکہ باقاعدہ وارد ہوئے ہیں کیونکہ کچھ ہی عرصہ پیشتر جب یہ ذات شریف سی آئی کی سربراہ تھی تب سے انہوں نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا ذکر نہیں بلکہ واویلا کرنا شروع کیا تھا۔ یہاں تک کہا تھا کہ اگر پاکستان اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کرتا یا انہیں اپنے ہاں سے نہیں کھدیڑتا تو ہم جو کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔
سابق سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن کے صدر ٹرمپ کے ساتھ اختلافات بڑھ جانے کے بعد انہیں اس عہدے سے فارغ کر کے ان صاحب کو اس عہدے پر متمکن کر دیا گیا۔ خیر سے انہوں نے پاکستان میں عمران کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہاں فون کیا تو اپنے خیال میں خود کو بہت طرار سمجھنے والی پاکستان کی وفاقی سیکرٹری برائے خارجہ امور تہمینہ جنجوعہ نے فون وزیر خارجہ کے بجائے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کو سننے پر مائل کر لیا۔ موصوفہ کچھ روز پیشتر صحافیوں کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات کے دوران سب کے سامنے فرانس کے صدر میکغواں کے فون آنے کی جھوٹی اطلاع عمران خان کو دے چکی تھیں۔ عمران خان نے بے اعتنائی برتتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے مبارک ہی دینی ہے نا، میکغواں سے کہو، صبر کرے، میں مصروف ہوں، کوئی آدھے گھنٹے بعد فون کر لے۔ اس مضحکہ خیز صورت حال کی تلافی دو روز بعد تہمینہ جنجوعہ کے محکمہ کے ہی وزیر شاہ محمود قریشی نے یہ بیان دے کر کی کہ نہیں وہ تو فون کے لیے وقت طے کرنے کی خاطر فون آیا تھا۔ مگر فون میکغواں کا نہ آنا تھا نہ آیا۔
تو جناب عمران خاں نے مائیک پومپیو کا فون سن لیا تھا۔ مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ پومپیو نے دہشت گردوں کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق اپنی بات دوہرائی تھی۔ وزارت خارجہ پاکستان نے جو بیان جاری کیا اس میں اس ’’چیتاونی‘‘ کا ذکر تک نہیں تھا۔ امریکا کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنی بریفنگ میں مکمل بات بتائی۔ وزارت خارجہ پاکستان نے اس کو رد کیا۔ امریکا کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان بھی اپنے کہے بلکہ اپنے ملک کی پالیسی بارے بیان پر ڈٹ گئیں۔ ردو کد کی یہ بحث جب طول کھینچ گئی تو بالآخر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کو یہ ’’حکم‘‘ سنا کر بات روکنا پڑی کہ اب اس بارے میں مزید بات نہیں ہو گی۔
وہ وارد ہوئے ہیں اور ان کا ہدف ملاقات اپنا ہم منصب نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اس ملاقات کے بعد مختصر مشترکہ پریس کانفرنس بھی کرنا چاہیں اگر انہوں نے محفوظ پناہ گاہوں کی بات اس میں کر دی تو، مگر ہم نے اشک شوئی کا بندوبست بھی کر لیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی نجانے کب اس جہان سے سدھارے تھے، مگر گزشتہ روز چار ستمبر کو مائیک پومپیو کے ورود پاکستان سے عین ایک روز پہلے تحریک طالبان افغانستان نے ان کی رحلت کی توثیق یہ کہتے ہوئے کر دی کہ جلال الدین حقانی طویل عرصے سے علیل تھے اور وہ افغانستان میں انتقال کر گئے ہیں۔ یعنی کہا جا سکتا ہے کہ کامریڈ پومپیو جب نیٹ ورک کا سربراہ ہی اپنے ملک جا کے مرا، تو اس کے ساتھی یہاں کیا گھاس چر رہے ہیں؟
فرانس کا صدر میکغواں جو اپنے ملک کی روایات کے مطابق امریکی صدر کو گھاس نہیں ڈالتا، اس کے تو ’’فیک فون‘‘ کی خبر کو اپنا سہرا بنائے جانے کی سعی کی گئی مگر ٹرمپ کے نمائندہ کے سامنے قریشی صاحب اپنی مسجع ملتانی لہجے والی اردو نہیں بول سکتے بلکہ اس انگریزی میں من من کی جو کیلیفورنیا کے اس اطالوی نسل شخص کو یقیناًمتاثر نہیں کر پائی، مگر دیکھنا مشترکہ پریس کانفرنس نہ ہوئی اور پومپیو نے بھانڈا نہ پھوڑا تو ان کے جانے کے بعد یہ اپنی پم پم کریں گے کہ بس ہم نے اس کی گردن پکڑ کر اس کا ماتھا میز کے ساتھ لگا دیا اور وہ ہماری سب مان کر چلا گیا۔
ایسے میں سیاست کو گولا مارا جائے بھائی۔ دے لو ان کو بھی ایک موقع۔ پی لو دو روپے سستا پٹرول اور چلا لو دو روپے فی یونٹ مہنگی بجلی۔۔ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔