14 نومبر 2018
تازہ ترین

گمراہ کن خبریں اور مقدس صحافت کا دعویٰ گمراہ کن خبریں اور مقدس صحافت کا دعویٰ

دنیا بھر کی جمہوریتوں اور بالخصوص مغربی جمہوری ملکوں میں پرنٹ میڈیا، ٹی وی نیوز چینلز، حالات حاضرہ پر لکھی گئی کتابیں اور تھنک ٹینکس کے رسائل عوامی فکر و نظر اور ذہنی رجحان کی تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عام لوگ اپنی صبح و شام کی مصروفیت کے پیش نظر حق اور سچ کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کی گیرائی اور گہرائی سے جائزہ نہیں لے پاتے ہیں۔ چنانچہ سیاسی اور سماجی تنظیمیں عوامی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کیلئے میڈیا ذرائع کو نا صرف اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرتی ہیں بلکہ اِس عمل میں اعلیٰ صلاحیتیں رکھنے والے صحافیوں اور اینکرز کو اُن کی پیشہ ورانہ خدمات کے عوض غیر معمولی سہولتوں اور مالی مفادات سے نوازا جاتا ہے۔ بہرحال پاکستان میں بیشتر صحافی اور اینکرز اعلیٰ صحافتی اقدار کو قائم رکھتے ہوئے قومی فکر و نظر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے علامہ اقبال کے قول کیمطابق ’’خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر‘‘ کے تحت اپنی فکری صلاحیتوں سے ملک و قوم کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ البتہ کچھ صحافی جو دیکھتے ہی دیکھتے ملکی اشرافیہ کی صفوں میں شامل ہو گئے ہیں، بیرونی طاقتوں کے مخصوص مفادات کے تحت عوامی ذہنوں کو بدلنے کیلئے ڈس انفارمیشن پر مبنی گمراہ کن خبریں پھیلانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جب اُنہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ اپنی زرد صحافت کو مقدس صحافت کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ جمہوری ملکوں میں صحافت کی دنیا دو گروپوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے، ایک وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ صحافیوں کو غیر قانونی مالی مفادات اور سہولتیں لے کر اپنے ہاتھوں کو گندہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ زرد صحافت 
کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صحافت میں کوئی چیز مقدس نہیں ہے بلکہ یہ پیسہ بنانے کی تجارت ہے چنانچہ میڈیا گمراہ کن خبروں کے عوض پیسہ اور طاقت حاصل کرتا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ درج بالا تناظر میں اِس اَمر کو ضرور مدنظر رکنا چاہیے کہ زرد صحافت کے بانی جوزف پلٹیزر (Joshef Pultizer) کا کہنا ہے کہ میڈیا اور چینلز پر سنسنی خیز اور عوام کے جذبات کو بھڑکانے والی خبروں سے ہی عوامی دلچسپی پیدا ہوتی ہے جس سے میڈیا کیلئے آمدنی کے ذرائع پیدا ہوتے ہیں اور آمدنی کے بغیر صحافت بے معنی ہے۔
دریں اثنا، صحافت اور تجارت کے تعلق کو کلی طور پر تو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن پھر بھی نوے فی صد سے  زیادہ میڈیا اخلاقی اقدار کو ہی مہمیز دیتا ہے کیونکہ اگر محض ناجائز ذرائع سے ہی صحافت کو چلانا مقصود ہے تو پھر زرد صحافت میں یقین رکھنے والے صحافیوں کو مقدس صحافت کے تصور کے پیچھے چھپنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ پھر تو اُن کیلئے شریفانہ محاورے کے طور پر بیشتر مغربی ملکوں میں رائج مقدس گائے کی ٹرم ہی استعمال کی جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ بیرونی ایجنسیاں جو پہلے براہ راست صحافیوں کو خاموش معاوضے کے تحت مقامی میڈیا میں اپنی فکر کو آگے بڑھانے کیلئے کالم، مضامین اور ایڈیٹر کے نام خطوط کے ذریعے بیرونی ایجنسیوں کے تھنک ٹینک میں بنائی گئی گمراہ کن خبروں کو مقامی لوگوں کی رائے کے طور پر شائع کرانے میں پیش پیش ہوتی تھی۔ اب صحافی گروپوں کے بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے رابطے میں آئے بغیر ہی اِن ایجنسیوں کی پرائیویٹ کنٹریکٹ کمپنیاں اُنہیں مالی مدد فراہم کر کے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ اِس منظر نامے میں امریکی سی آئی اے، اسرائیلی موساد اور بھارتی را پیش پیش ہیں۔ ایک محتاط اندازے کیمطابق دنیا بھر میں چوٹی کے چار سو سینئر صحافی پرائیویٹ کنٹرکٹ گروپوں کے ذریعے امریکی سی آئی اے کے پے رول پر ہیں۔ مقتدر قومی ذرائع کی مطابق ماضی میں بیشتر صحافی اپنی قومی ذمہ داری گردانتے ہوئے خفیہ طور پر مقامی ایجنسیوں کیلئے کام کرتے تھے، لیکن گزشتہ دس برس میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف حکومتوں کے دور میں وزارت اطلاعات و نشریات میں ہی صوابدیدی سیکرٹ فنڈ کا اجرا کر دیا گیا جس سے چیدہ چیدہ صحافیوں کو بخوبی نوازا جاتا رہا۔ گو کہ ملک میں تبدیلی کی لہر آنے پر قومی ایجنسیوں کے سیکرٹ فنڈ کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے تمام وزارتوں کے صوابدیدی سیکریٹ فنڈز کو ختم کر دیے ہیں جو خوش آئند ہے۔
اِس اَمر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قومی سطح پر میڈیا میں گمراہ کن خبروں کی اشاعت پر ایک حالیہ قضّیہ میں ملک کے مقتدر صحافی سلیم صافی کا نام سامنے آیا ہے۔ حیران کن بات ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نیب کورٹ سے سزا یافتہ ہو کر اڈیالہ جیل میں قید کی سزا بھگت رہے ہیں، جس کے خلاف ہائی کورٹ میں اُن کی اپیل زیر سماعت ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئی وفاقی حکومت نے گزشتہ حکومتوں کی مالی بدحالی کو دور کرنے کیلئے نا صرف تمام وزارتوں کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دیے بلکہ مالی اصلاح احوال کی کارروائیاں بھی زور شور سے جاری ہیں تاکہ ملک کو بین الاقوامی پابندیوں سے باہر نکالا جائے۔ چنانچہ اِسی پروسس میں جب وزیراعظم ہاؤس کے کروڑوں روپے کے بجٹ اخراجات ختم کرنے کا تذکرہ کیا گیا تو جناب سلیم صافی نے فوری طور پر جوابِ آں غزل کے طور پر دعویٰ کیا کہ سابق نااہل وزیراعظم یہ اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے اور اِسی حوالے سے ایک چیک کی تصویر بھی سامنے آئی۔ البتہ جب سوشل میڈیا پر سلیم صافی کے خلاف کچھ حلقوں کی جانب سے اِس گمراہ کن خبر پر مہم جوئی شروع کی گئی تو پھر اُنہوں نے صحافی کی تقدیس اور خبر بریک کرنے کے حق کے حوالے سے مقدس صحافت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی۔ سوال یہ بھی ہے کہ جناب سلیم صافی کے میاں نواز شریف سے اتنے قریبی تعلقات تو نہیں ہیں جس کی بنیاد پر جیل میں قید سابق وزیراعظم کا موقف فوری طور پر سامنے آ جائے اور اِس کیساتھ ہی سابق وزیراعظم کی دیانت و امانت کے حوالے سے ایک مخصوص گروپ کے صحافیوں کی جانب سے ہاہاکار مچائی جائے۔ اِس تمام کارروائی کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اِس گمراہ کن خبر کے ماسٹر مائنڈ سلیم صافی صاحب نہیں ہیں۔ کچھ حلقوں میں کہا جا رہا ہے اور جس کی تصدیق وہ خود ہی کر سکتے ہیں کہ میاں نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کے جیل جانے کے بعد میڈیا میں اُن کے دفاع کی ذمہ داری وزیراعظم پاکستان کے سابق مشیر محترم عرفان صدیقی لے لی ہے جو میڈیا کے ایک دوستانہ گروپ کے ہمراہ نواز شریف کی حمایت میں متحرک ہیں۔
کہتے ہیں کہ محترم عرفان صدیقی جو میاں نواز شریف اور مریم نواز کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں مریم نواز کی جانب سے 7 جولائی 2018 کو لندن میں اعلان کیے جانے کے وقت کہ وہ اپنے والد کے ہمراہ 13 جولائی بروز جمعہ پاکستان آئیں گے۔ محترم عرفان صدیقی ایک ہفتہ قبل ہی سے میاں صاحب اور مریم نواز کے ہمراہ تھے بلکہ جہاز میں اُن کی سیٹ بھی مریم نواز کیساتھ ہی تھی۔ میاں صاحب کی خواہش تھی کہ جب وہ لاہور پہنچیں تو اُن کا عوامی استقبال محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح کیا جائے، لیکن اُنہیں اِس اَمر پر بے حد مایوسی ہوئی جب اُنہوں نے لاہور ایئرپورٹ کے گرد کسی عوامی جلوس کو موجود نہیں پایا۔ نواز شریف چاہتے تھے کہ اُن کی آمد کے موقع پر عوام خوف کی زنجیریں توڑ دیں اور عوامی قوت سے نگران حکومت کو اُن کی گرفتاری کے خلاف واضح پیغام دیں۔ یہ درست ہے کہ محترم عرفان صدیقی نے میاں نواز شریف کی آمد پر لندن سے لاہور تک اُن کے متعدد صحافیوں سے انٹرویو اور ابو دبئی میں آٹھ گھنٹے قیام کی تمام تفصیلات ایک قومی روزنامے کی 14 اور 15 کی اشاعت میں بخوبی بیان کی ہیں۔ البتہ یہ اَمر باعث تشویش ہے کہ اُنہوں نے اپنے اِس فکر انگیز مقالے میں فوج کے خلاف ڈان لیکس کی فکر کو ہی دوہرایا ہے اور اُس کے بعد تسلسل سے اپنے ہم خیال صحافیوں کے ہمراہ
اِسی فکر کو مہمیز دینے کیلئے نواز شریف حمایت میں بخوبی متحرک ہیں۔ اُنہیں البتہ اِس اَمر پر مایوسی ضرور ہوئی کہ میاں صاحب کی لاہور آمد پر نگران حکومت کے دور میں بھی کوئی عوامی ریلی لاہور ائیر پورٹ پر اُن کے استقبال کیلئے نہیں آئی۔ میاں صاحب اور مریم نواز کے خلاف کیونکہ گرفتاری کے احکامات نیب کی ٹیم کے پاس موجود تھے، لہٰذا اُنہیں آبرو مندانہ طور پر ایک خصوصی طیارے میں اسلام آباد لے جایا گیا۔ جب میاں صاحب کی روانگی کے بعد جناب عرفان صدیقی لاہور ایئر پورٹ سے باہر آئے تو اُن کے اپنے الفاظ میں اُنہیں کافی مایوسی ہوئی، وہ لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر عدنان میر میرے قریب آیا، سر میاں صاحب کہتے رہے، میں چیختا رہا مگر اُنہیں یہ دواؤں کا بیگ نہیں لے جانے دیا، وہ دل کے مریض ہیں پتا نہیں کس وقت کس دوا کی اُن کو ضرورت پڑ جائے۔ میں باہر آیا تو دور دور تک سناٹا تھا۔ نہ کار نہ رکشا نہ ٹیکسی، دیر تک میں اپنا بیگ تھامے کھڑا رہا۔ ایک صاحب میرے پاس آئے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور میری منزل پر چھوڑ آئے‘‘۔ اب تقدیس صحافت کا فیصلہ عوام پر ہی ہے کیونکہ میاں صاحب اور مریم نواز جیل میں ہیں اور اُن کی حمایت میں کوئی عوامی تحریک فی الحال نظر نہیں آتی۔ البتہ کچھ میڈیا حلقوں مقدس صحافت کے نام گمراہ کن خبریں ضرور شائع ہو رہی ہیں۔
بقیہ: آتش گل