26 ستمبر 2018
تازہ ترین

گلگت بلتستان۔ مُردار پھینکنے کی جگہ گلگت بلتستان۔ مُردار پھینکنے کی جگہ

دنیا بھر کی خوبصورتی اگر آپ نے دیکھنی ہے تو گلگت بلتستان کی طرف چلیں۔ برف پوش پہاڑ، بڑے بڑے گلیشیئرز، جھیل، ندیاں، شیر دریا، مہمان نواز لوگ۔ ان علاقوں میں جرائم کی شرح صفر فیصد ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز اور خوش اخلاق ہیں۔ ضلع گانگچھے کے عوام گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کی نسبت انتہائی سادہ اور خوددار ہیں۔ یہاں ایک ایس پی ہوا کرتے تھے۔ ایک غیر ملکی صحافی ان سے ملنے آئے اور پوچھا کہ یہاں جرائم کی شرح کیا ہے؟ تو ایس پی صاحب نے کہا زیرو۔ جرنلسٹ نے کہا تو پھر آپ یہاں کیا کررہے ہیں۔ اس پر ایس پی نے جواب دیا کہ میں زیرو کو زیرو پر ہی برقرار  رکھنے کے لیے بیٹھا ہوا ہوں۔ 
اس خوبصورت علاقے کو دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے بیوروکریسی نے برباد کیا ہے۔ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ گلگت بلتستان مُردار پھینکنے کی جگہ ہے۔ بچپن میں یہ بات مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ آخر یہ لوگ کیا کہتے رہتے ہیں، لیکن  اب معلوم ہوگئی ہے کہ ہمارے بزرگ گلگت بلتستان کو مُردار پھینکنے کی جگہ کیوں کہا کرتے تھے، وہ اس لیے کہتے تھے کیونکہ پاکستان کے نالائق ترین اور ایسے  افسروں کو جن کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ ہو تو ان کو چھپانے کے لیے یہاں بھیجا جاتا تھا۔ اور آج بھی یہ کام ہورہا ہے۔ 
کچھ ماہ پہلے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے ترش رویے نے علاقے کی فضائوں میں ہلچل مچادی۔ خپلو کا 
دورہ سرکاری تھا یا محض انجوائے منٹ کے لیے آنا ہوا تھا۔ اگر آپ انجوائے کرنے آئے تھے تو آپ کو سرکاری ہسپتال کا دورہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ آپ کے ہسپتال  میں آنے سے لوگوں نے سمجھا کہ آپ ان کے مسائل کے حل کے لیے تشریف لائے ہیں۔ اسی لیے آپ سے گانگچھے ڈسٹرکٹ ہسپتال  میں لیڈی گائناکولوجسٹ کو تعینات کرنے کی درخواست کی گئی، جس پر آپ برہم و سیخ پا ہوگئے۔ آپ نے سائل سے پوچھا کہ کتنا ٹیکس ادا کرتے ہو؟  سائل نے کہا کہ یہ علاقہ متنازع ہے، اس لیے ہم ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ تو جواباً فرماتے ہیں کہ یہ علاقہ متنازع نہیں، آپ کو ٹیکس دینا چاہیے۔ 
چیف سیکریٹری صاحب، آپ کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ ہم بھی پٹرول، ڈیزل، دال، چاول و دیگر کھانے پینے کی اشیاء، مشروبات اور جہاز کے کرایوں پہ ٹیکس دے رہے ہیں۔ اس سے زیادہ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ بابر حیات تارڑ صاحب  آپ کا فرض تھا کہ  اسی وقت سیکریٹری ہیلتھ سے بات کرتے اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے، مگر آپ نے نہایت ہتک آمیز رویہ اپنایا۔ چیف سیکریٹری صاحب، آپ حکومت پاکستان کے ملازم ہیں۔ آپ کو تنخواہ اور مراعات اسی لیے دی جاتی ہیں تاکہ آپ کو لوگوں کے مسائل سے متعلق مکمل آگاہی ہو اور آپ اسے ممکنہ حد تک دور کرنے کے لیے تگ و دو کریں۔ چیف سیکریٹری بابر حیات تارڑ کو یہ تک معلوم نہیں کہ آیا یہ علاقہ متنازع ہے یا نہیں؟ گلگت بلتستان کی سرزمین پہ کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ یہ علاقہ متنازع نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کا حصہ ہے۔ یہ ہیں گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری کی معلومات۔ باقی افسران کی معلومات، خیالات اور سوچ کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ واقعی ہمارے بزرگوں کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ گلگت بلتستان مُردار پھینکنے کی جگہ ہے۔
اس کے علاوہ  بابر حیات تارڑ کو ایک شخص کی  P.P.H.I. غذر سے سکردو کے لیے پوسٹنگ کے لیے کہا گیا تو وہ فرماتے تھے کہ یہ ڈیپارٹمنٹ ہمارے انڈر نہیں آتا۔ ایک چیف سیکریٹری کی اپنے انڈر ڈیپارٹمنٹس کے بارے میں لاعلمی کی انتہا دیکھئے۔ حالانکہ یہ شعبہ ان کے سیکریٹری ہیلتھ کے ماتحت ہے اور 
چیف سیکریٹری صاحب اسی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ یہ شعبہ میرے ماتحت نہیں ہے۔ اگر آپ نہیں کرنا چاہتے تھے  تو کہتے کہ میں ٹرانسفر نہیں کروں گا، لیکن اس کے لیے اخلاقی جرأت درکار ہے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے اپنی مرضی سے اپنی پارٹی کے شخص کو صرف اپنے کام نکلوانے کے لیے تعینات کیا ہے۔ جب ایسے سفارشی اور نااہل افسران اس علاقے میں تعینات ہوں گے تو  بچیوں کے سکولز بھی جلائے جائیں گے، سیشن جج پہ حملہ بھی ہوگا۔ ان دونوں مذکورہ افسوس ناک واقعات کی ذمے داری وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری  اور آئی جی گلگت بلتستان پہ عائد ہوتی ہے۔ سونے پہ سہاگہ ہمارے عوامی نمائندے اپنے مفاد کے لیے اپنی عزت نفس کا بھی سودا کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے نمائندہ سربراہوں نے بھی اپنے پانچ سالہ دور میں اس علاقے کے بجائے اپنے معیار زندگی کو ترقی دینے کے لیے دن رات ایک کردیے اور اب رہی سہی کسر موجودہ حکومت کے کارندوں نے نکالنے کی ٹھان لی ہے۔ اب اگر عمران صاحب نے بھی اس علاقے کو مُردار پھینکنے کی جگہ بنادیا  تو یہ علاقہ مزید تباہ و برباد ہوجائے گا۔ علاقے میں دو نمبر اشیاء کی بھرمار سے  لوگوں میں ہیپاٹائٹس کی بیماری عام ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔