13 نومبر 2018
تازہ ترین

گستاخانہ خاکے، مستقل حل ناگزیر گستاخانہ خاکے، مستقل حل ناگزیر

ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کے شدید احتجاج کے نتیجے میں ہالینڈ کی حکومت کی سرپرستی میں جو توہین آمیز خاکوں کے مقابلے کا اعلان کیا گیا تھا، وہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مسلمان ممالک میں ترکی اور پاکستان کا کردار زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ یہ معاملہ انتہائی حساس تھا۔۔۔۔ لیکن معاملے کو ختم نہیں سمجھنا چاہیے۔ او آئی سی کو اس حوالے سے متحرک ہونا چاہیے اور مل بیٹھ کر ایسی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے تا کہ آئندہ کسی کو اس قسم کی گستاخانہ حرکت کی جرأت نہ ہو۔ مسئلے کا اصل حل تو مسلمانوں کا انفرادی اور اجتماعی سطح پر حقیقی مسلمان بننا اور اپنے اپنے ممالک میں اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان شاء اللہ کسی کو توہین رسالت کی جرأت نہیں ہو گی۔ اس وقت مسلمان دنیا میں غالب نہیں بلکہ مغلوب قوت ہیں۔ ویسے تو دنیا میں مسلمان تقریباً پونے دو ارب کی تعداد میں موجود ہیں، لیکن ہماری حالت اس حدیث کے مصداق ہو چکی ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ اقوام عالم ایک دوسرے کو تم پر ایسے دعوت دیں گی کہ جیسے دسترخوان پر کھانا چننے کے بعد مہمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ آئیے تناول فرمائیے، یعنی تم اتنے بے بس، لاچار اور کمزور ہو جاؤ گے کہ جو چاہے تمہارے ساتھ اپنے مرضی کے مطابق سلوک کرے اور تم کچھ نہ کر سکو۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہؐ! کیا ہماری تعداد اتنی کم ہو گی کہ ہمیں اس طرح دبا لیا جائے گا اور ہم بھی بالکل غیر مؤثر ہو جائیں گے؟ فرمایا نہیں بلکہ اس وقت تم کثیر تعداد میں ہو گے۔ جب اس حدیث کو پڑھتا ہوں تو فوراً دل میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے سوچا ہو گا کہ شاید لاکھوں میں ہوں گے۔ اس وقت تو تین سو تیرہ، ہزار پر غالب آ گئے تھے اور مسلمانوں کی اس وقت زیادہ سے زیادہ تعداد دس ہزار تھی، جب مکہ فتح ہوا۔ لہٰذا انہوں نے جب یہ سنا کہ ہماری تعداد بہت ہو گی تو ان کا ذہن لاکھوں تک ہی پہنچا ہو گا۔ یہ تو وہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ مسلمان دنیا میں اربوں میں ہوں گے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تمہاری حیثیت اس خس و خاشاک کی سی ہو گی جو سیلاب کے پانی کی سطح پر ہوتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ ہم اتنے کمزور کیوں ہو جائیں گے؟ فرمایا کہ تم 
میں وھن کی بیماری پیدا ہو جائے گی یعنی دنیا سے محبت اور اس کے نتیجے میں دل میں موت سے کراہت کا پیدا ہو جانا۔ اس وقت اللہ کی راہ میں جان دینا سب سے مشکل کام ہو جائے گا۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ دیبل سے جو کبھی کراچی کی بندرگاہ ہوا کرتا تھا، 99ھ میں مسلمانوں کا ایک بحری جہاز گزرا تھا۔ کچھ ڈاکوؤں نے اس بندرگاہ پر حملہ کیا تھا اور ایک مسلمان خاتون کے ساتھ زیادتی کی تھی اور اس نے مدد کے لیے خلیفۂ وقت کو پکارا تھا۔ یہ بات دربار خلافت تک پہنچی اور وہاں سے محمد بن قاسم کی سربراہی میں فوج بھیجی گئی۔ یہ ردعمل ایک مسلمان خاتون کی حرمت کی پامالی پر سامنے آیا تھا۔ ساری دنیا کو سبق سکھا دیا گیا کہ مسلمانوں کو کوئی ٹیڑھی نظروں سے نہیں دیکھ سکتا۔ آج حضورﷺ کے انتہائی توہین آمیز خاکے بار بار بنائے جا رہے ہیں لیکن ہم بے بس اور لاچار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ ہم خود دین کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور نہ کہیں اللہ کے دین کو قائم کیا ہے۔
اس وقت کا دوسرا ایشو یہ ہے کہ امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا دورہ ہونے والا ہے جن کی شہرت سخت گیر اسلام دشمن کے حوالے سے ہے۔ قرائن تو یہ بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کو دھمکی دیں گے۔ وہ دنیا کی ایک بڑی قوت کے نمائندے ہیں۔ ہم کمزور ہیں۔ اس میں ہماری نئی حکومت کا بھی امتحان ہو گا۔ مقام شکر ہے کہ آج سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر نظر آ رہی ہیں۔ وزیر اعظم کی فوجی قیادت کے ساتھ آٹھ گھنٹے کی مصروفیت کے دوران یقیناً کوئی مشترکہ حکمت عملی بنائی گئی ہو گی۔ آرمی چیف کی ان سے تیسری ملاقات کے دوران بھی اس پر گفتگو ہوئی ہے۔ بہرحال یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکا کی روایت ہے کہ وہ مذاکرات کے دوران ڈرانے اور دھمکانے کی پالیسی اختیار کرتا ہے لیکن اگر فریق مخالف ڈٹ جائے تو اپنے موقف میں نرمی کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ڈٹ جانے اور ان کے کسی بھی دباؤ میں نہ آنے کا انحصار حقیقی ایمان پر ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ اللہ کی مدد اصلاً ہے ہی مسلمانوں کے لیے۔ اللہ کے سچے وفادار تو مسلمان ہی ہیں بشرطیکہ ان میں حقیقی ایمان ہو۔ اگر مسلمان اللہ کے دین سے بےوفائی کی روش اختیار کریں تو اللہ انہیں ان کے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ کی تنبیہ بھی موجود ہے کہ وہ دیکھے گا کہ اس صورت میں کون میرے مقابلے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔ دنیا کی اصل قوت تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ آج بھی ہم اپنی روش درست کر لیں تو اس کی نصرت ہم پر سایہ فگن ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رخ پر سوچنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین