22 ستمبر 2018
تازہ ترین

گستاخانہ خاکے۔ حل کیا ہے؟ گستاخانہ خاکے۔ حل کیا ہے؟

ہالینڈ میں گیرٹ ویلڈرز کے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اعلان نے دنیا کو نفرت کی اس آگ میں دھکیل دیا تھا جو تہذیبی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی تھی۔ مسلم امہ کے اجتماعی وجود کے بے اثری، باہمی تنازعات اور اجتماعی مسائل پر متفقہ موقف نہ ہونے سے فتنہ گر عناصر کی طرف سے وقفے وقفے سے ایسی جسارتوں کا ارتکاب ہوتا رہتا ہے۔ مسلم امہ اگر اپنے کردار کا ادراک کر لے تو نہ صرف اپنے دینی شعائر کے احترام کو یقینی بنا سکتی ہے بلکہ اپنے موثر عالمی کردار سے دنیا کو بھی فتنوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
مسلم امہ کے احتجاج اور خصوصاً پاکستان کی موثر حکمت عملی سے ہالینڈ میں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ ہو گیا۔ اس موقع پر اس مقابلے کے محرک پارلیمنٹیرین گیرٹ ویلڈرز نے اپنی تحریری وضاحت میں کہا کہ اسے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ خاکوں کے مقابلے کی منسوخی اخلاقی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہالینڈ کے سفیر نے بتایا کہ خاکوں کا مقابلہ ترک کر دیاگیا ہے۔ گستاخانہ خاکوں کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار داد بھی منظور کی گئی اور ڈچ وزیر خارجہ تک پاکستانی عوام کے جذبات پہنچائے گئے۔ وفاقی کابینہ نے اس سلسلے میں واضح حکمت عملی اختیار کی۔ ترک وزیر خارجہ کو بھی خط لکھا گیا اور ترک وزیر خارجہ نے پاکستانی موقف کی تائید کی۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس سلسلے میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے موثر سفارت کاری کی کوششوں اور او آئی سی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔ وزیر خارجہ نے اس مسلئے کو اقوام متحدہ میں بھی اٹھانے کا اعلان کیا۔وزیر اعظم عمران خان کے ویڈیو پیغام نے جہاں پاکستان کے مضطرب عوام کو مطمئن کیا ، عالمی سطح پر اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر مسلمان کے دل میں رہتے ہیں۔ جب کوئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ مگر مغرب کے لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں کیونکہ ہم نے مغرب کو سمجھایا نہیں۔ جس طرح مغرب کے لوگ اپنے مذہب کو دیکھتے ہیں وہ بالکل مختلف ہے۔ مغربی لوگوں کو ہمارے جذبات کا احساس نہیں۔ ساری مسلم امہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اٹھائے۔ اس حوالے سے ہم کوششیں کریں گے ، دنیا کوسمجھائیں گے اور انشااللہ ہم کامیاب ہوں گے۔
حکومت پاکستان کی ان کوششوں کو یہاں رکنا نہیں چاہیے۔ بلکہ اولا او آئی سی کی سطح پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور پھر مسلم امہ کے اجتماعی موقف کے طور پر اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے۔مغرب میں آزادی اظہار رائے جسے گستاخانہ خاکوں کے جواز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، ہرگز بھی قاعدے قانون سے ماوار نہیں ہے۔ مغربی دنیا کے کئی قوانین آزادی اظہار رائے پر پابندی عاید کرتے ہیں۔ فرانس میں 29 جولائی 1881ء کے Law on Freedom of the Press کی دفعات 24,32,33کے مطابق کسی شخص، گروہ، زبان، نسل، قوم، مذہب، صنف، جنسی تعلقات کے حوالے سے کسی قسم کے امتیازی، 
دلآزار، ہتک آمیز اور مضحکہ خیز موضوع کی اشاعت ممنوع ہے۔ Law on the Freedom of the Press 1881 کے مطابق اہانت پر مبنی مواد کی اشاعت پر پبلشرز کو مجرم قرار دیا گیا ہے اور ایسے مواد کو Press offence قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے مطابق اہانت و تحقیر کا باعث بننے والے مواد کی اشاعت پر سزاوں کا تعین کیا گیا ہے۔  اس میں وہ مواد بھی شامل ہے جو چاہے زبانی ادا کیا گیا ہو یا تحریری ہو حتی کہ فرانسیسی عدالتوں نے اس قانون کے تحت کئی ایسے افراد کو بھی سزائیں دی ہیں جنہوں نے کسی ویب سائٹ پر توہین آمیز مواد پھیلایا۔اس قانون کے مطابق کسی بھی سرکاری افسر کی توہین پر ایک سال کی قید اور تین ہزار فرانک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ توہین انگیز مواد کی اشاعت اور نسلی منافرت پھیلانے والی مواد پر سزا دینے کے لیے اس قانون میں یکم جولائی 1972ء میں ترمیم بھی کی گئی۔ اس قانون کے تحت جنسی بنیاد پر تحقیر و تضحیک کرنے کے عمل پر سزا دینے کے لیے فرانسیسی پارلیمینٹ نے اس قانون میں 2004ء میں ترمیم کی۔ اس کے تحت اس پر ایک سال تک قید اور 45 ہزار یورو تک جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔
یہودیوں کے خلاف نازی مظالم (Holocaust) پر کسی قسم کا سوال اٹھانا جرم ہے۔ اسرائیل میں ہولو کاسٹ Holocaust کے انکار کو اسرائیلی پارلیمنٹ (Knesset) نے 8 جولائی 1986ء میں Denial of Holocaust (Prohibition) Law, 5746-1986 کے تحت جرم قرار دیا۔اس جرم کی پانچ سال تک قید اور جرمانے کی سزا مقرر کی گئی۔اس جرم کے ارتکاب پر پانچ سال قید اور کئی ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے کہ ہٹلر کے ہاتھوں مرنے والے یہودیوں کی تعداد ساٹھ لاکھ سے کم تھی۔ یہ قانون یورپ کے 17 ممالک میں نافذ ہے۔ اس کی وجہ سے برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ سمیت سینکڑوں مورخ، دانشور صحافی اور مصنف سزا پا چکے ہیں۔ حالانکہ یہودیوں کی آبادی مسلمانوں کی آبادی سے کئی گنا کم ہے۔فرانس اور دیگر مغربی ممالک میں آزادی اظہار کی حدود کی پامال پر سزا کے لیے بھی کئی قوانین موجود ہیں۔ نسل پرستی، صیہونیت دشمنی اور نسلی تعصب سے متعلق جرائم کی روک تھام کے لیے آزادی اظہار کے قانون 1881ء کے آرٹیکل 42میں ترمیم و اضافہ کرتے ہوئے 1990ء کے قانون: 615-90میں ان جرائم کے لیے 5سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی۔علاوہ ازیں انسانیت کے خلاف جرم کے ارتکاب پر سزا دینے کے لیے اسی قانون کے آرٹیکل 24 کے تحت آرٹیکل (a) 24 کا اضافہ کرتے ہوئے قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئیں۔انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر سزا کے لیے اسی قانون کے آرٹیکل 48-1کے بعد آرٹیکل 48-2 کے مطابق پانچ سال تک قید و جرمانے کی سزا مقرر کی گئی۔ 
مغرب میں سیاستدانوں اور عوامی شخصیات (Celebrities) کے بارے میں میڈیا میں  بات کرنے کے قواعد و ضوابط مقرر ہیں جن کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں دی جاتی ہیں۔جرمن کریمینل کوڈ کے سیکشن 189کے تحت مرحومین اور وفات شدگان کی تقریر یا تحریر کے ذریعے توہین کرنے والے کے لیے دو سال قید اور جرمانے کی سزا ہے۔Netherlands میں Wetbock Van Strafrecht کے آرٹیکل 137Cکے مطابق کسی بھی بنیا د پر توہین و اذیت رسانی کی سزا ایک سال قید اور جرمانہ ہے۔ اس قانون کے آرٹیکل 137dکے مطابق یہی سزا اس توہین و ایذاکی بھی ہو گی جو مذہب یا عقیدہ کی بنیاد پر ہو۔یورپی یونین کے اپنے رکن ممالک کے لیے منظور کردہ European Union Framework Decision for Combating Racism and Xenophobia کے مطابق کسی بھی سبب بشمول مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر توہین و ایذا کی سزا تین سال تک قید ہے۔برطانیہ کی پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون The Criminal Justice and Public Order Act 1994 کے Part XII کے مطابق نسلی بنیاد پر نفرت پھیلانے اور اس سے متعلق مواد کی اشاعت کو جرم قرار دیا گیا جس پر مجرم کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور قید و جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون Australia Criminal Code Act 1995 میں انسانیت کے خلاف جرائم کو بالتفصیل بیان کرتے ہوئے ان کے لیے سزاوں کا تعین بھی کیا گیا ہے۔ اس قانون کے سیکشن 268.23 کے مطابق جسمانی و ذہنی اذیت کا باعث بننے والے غیر انسانی اعمال پر 25 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔اس قانون کے سیکشن 80.2Aکے تحت نسل، مذہب، قومیت، رنگ یا سیاسی نقطہ نظر کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنانے پر 7 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔