25 ستمبر 2018

گربہ کشتن روزِ اول گربہ کشتن روزِ اول

یہ ہمارا معاشرتی اور قومی المیہ ہے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پر اپنی غلطی، کوتاہی، زیادتی اور نامناسب رویہ کو تسلیم کرنے کا رجحان اور عنصر تقریباً ناپید اور عنقا ہے، میں بہت خوش گمانی کا بھی اظہار کروں تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہزاروں میں کوئی دو چار ہی ہوتے ہوں گے جو اعلیٰ اخلاقیات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی غلطی، کوتاہی، زیادتی یا نامناسب رویہ کو تسلیم کر لینے کی ہمت، طاقت، حوصلہ، جرأت اور ظرف رکھتے ہوں، آپ انفرادی طور پر ایک ایک شخص سے بات کر کے دیکھ لیجئے۔ آپ کا مخاطب بہت پڑھا ہو، معمولی اور واجبی تعلیم کا حامل ہو یا چٹا ان پڑھ، اسی طرح آپ سے ہم کلام بڑا افسر ہو یا کوئی چھوٹا ملازم، بڑا بزنس مین ہو یا چھوٹا دکاندار حتیٰ کہ ریڑھی اور چھابڑی لگانے والا کوئی بھی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وہ جھوٹا، بددیانت، تساہل پسند، کام چور، رشوت خور، سفارش پسند، لین دین میں گڑبڑ کرنے والا، ناپ تول میں ہاتھ دکھانے والا یا فرائض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب ہو کر مال حرام کماتا اور کھاتا ہے۔ سبھی لوگ آپ کو پاک باز، دیانتدار، فرش شناس، وقت کے پابند اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے جڑے ہوئے ہونے کے دعویدار ملیں گے۔ میرا سوال صرف اتنا سا ہے کہ اگر ہم انفرادی طور پر واقعتا ایسے ہی نیک، پاکباز اور مثبت اقدار کے حامل ہیں تو پھر بحیثیت مجمومی ہمارا قومی کریکٹر یہ کیوں ہے کہ ہم ٹیکس چور، بددیانت، گراں فروش، رشوت و سفارش کے خوگر، لوٹ مار کرنے والے ہیں؟ یقیناً اس سوال کا عموماً ایک ہی جواب ملتا ہے کہ دراصل ہم انفرادی طور پر اچھے خصائل اور کردار کے حامل نہیں۔ ہماری ذات، شخصیت و کردار سب تضاد کا شکار ہیں۔ ہم پر لگا ہوا لیبل جعلی اور غلط ہے اور ہم خود کو غلط طور پر مثبت شبیہ کے ساتھ متعارف کراتے ہیں۔ میرا ہمزاد کہتا ہے کہ اگر ہم واقعتا دیانتدار، فرض شناس اور رزق حلال کھانے کمانے والے ہیں تو پھر ٹیکس کیوں نہیں دیتے، ٹیکس چور کیوں ہیں؟ اپنی آمدن کم ظاہر کر کے اصل آمدن پربننے والا ٹیکس کیوں بچاتے اور چراتے ہیں؟؟ میرا ہمزاد کہتا ہے کہ اگر ہم درست اور باقاعدگی سے ٹیکس دینے والے ہوتے تو ٹیکس ریکوری کے اداروں 
کی ضرورت ہی کیا تھی، ٹیکس بچا اور دولت چھپا کر کالا دھن کیوں جمع کراتے اور پھراس کی سیاہی کو سفیدی میں بدلنے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی سکیموں کا اجراء کیوں کیا جاتا، اگر ہم ناپ تول اور لین دین میں دیانت کا اظہار کرنے والے ہوتے تو شاعر کیوں بلبلا اٹھتا:
لٹ گیا اسلامؔ عظمی ہر کوئی بازار میں
مول پہ جھگڑا کیا اور تول میں کم لے گیا
(اسلام عظمیؔ)
کالم کی تنگ دامنی زیادہ تفصیل اور مثالوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ سچی بات یہ ہے کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ہماری کوئی کل سیدھی نہیں ہے اور اصلاح احوال کیلئے الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانا اتنا گمبھیر مسئلہ اور مشکل کام ہے کہ اکیلے حکومت کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ صورتحال کچھ ایسی ہے:
ہاتھ الجھے ہوئے ریشے میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کِس سے کریں
(ایوب خاور)
المناک صورتحال یہ ہے کہ ہماری معاشرتی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو پاک صاف ہو، اصول و ضوابط کے تابع ہو اور بطور مثال پیش کیا جا سکے۔ اس تناظر میں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی نئی قائم ہونے والی حکومت کو بہت مشکل ہی نہیں، میرے منہ میں خاک، ناممکن اور ناقابل اصلاح صورتحال کو درست کر کے پٹڑی پہ لانا ہے۔ بلاشبہ یہ عمران خان اور ان کی ٹیم کا ایک کارنامہ ہو گا اگر وہ واقعتاً اپنے پروگرام، منشور، دعوؤں اور وعدوں کے مطابق ملک میں تبدیلی لے آتے ہیں۔ میں عمران خان کا مداح یا فین نہیں مگر میری دانست میں اب عمران خان اور اس کی حکومت کو یکسوئی سے کام کرنے دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے پروگرام اور وعدوں کے مطابق پاکستان کو نبی کریمؐ اور حضرت عمر فاروقؓ کے عہد کی ریاست مدینہ کے مطابق اصلاحی، رفاعی اور فلاحی و خوشحال مملکت بنا سکیں، بصورت دیگر وہ بھی رخصت ہونے والے حکمرانوں کے مصداق یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ انہیں اور ان کی حکومت کو دیگر مسائل اور ’’ہلوں گلوں‘‘ میں الجھا کر کام نہیں کرنے دیا گیا۔ میری دانست میں یہ بات مکمل طور پر درست ہے کہ تبدیلی ہو یا قانون کا سخت اطلاق اور اس پر پابندی سے عمل، یہ ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف آئے تو مؤثر ہوتا ہے۔ نئے وزیراعظم عمران خان نے اب تک یہی اظہار کیا ہے کہ وہ قانون کی عملداری ہو یا احتساب کا عمل اس کا آغاز اوپر سے بلکہ خود سے کریں گے۔ اگر وہ اپنا یہ قول نبھا جاتے ہیں تو یقیناً اس روایت کے مثبت اثرات اور نتائج بہتری کی صورت میں نیچے عوامی سطح پر بھی نظر آئیں گے۔ مگر عمران خان اور ان کی حکومت و ٹیم کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ گزشتہ ستر اکہتر برس میں یہ قوم اپنے اوپر مسلط حکمرانوں کی اللوں تللوں اور بیڈ گورننس کے باعث کرپٹ، بدعنوان، کام چور، تساہل پسند، رشوت و سفارش پسند و حامل ماحول میںTune ہو چکی ہے۔ بقول اقبالؒ:
لیکن مجھے پیدا کیا اس قوم میں تو نے
جس قوم کے افراد غلامی پہ ہیں رضامند
یہاں عوام الناس نے اسی بُرے حال اور ماحول میں رہنے پر خود کو آمادہ کر لیا ہے۔ یوں ان لوگوں کو تبدیلی کے اثرات اور ثمرات سے فیض یاب بھی کرنا ہو گا تاکہ وہ ماضی اور آج کے حکمرانوں میں فرق کر سکیں۔ اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے عرض کروں گا کہ شہری سہولتوں کی فراہمی کے ادارے خصوصاً پولیس وغیرہ کی سخت مانیٹرنگ کرتے ہوئے انہیں راہ راست پہ لانا اور اپنا پرانا طرز عمل و رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہو گا اور یہ کام بہت سہل نہیں ہے۔ ان 
داروں سے وابستہ لوگوں کی گردنوں سے سریا نکال کر انہیں حقیقی معنوں میں عوام الناس کے خدمتگار بنانے میںنئی حکومت کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر اس کے قدم اور بنیادیں روز افزوں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائیں گی۔
حرف آخر یہ ہے کہ نئی حکومت کو پرانے نظام کی دلدادہ اور کرپٹ مافیا پر مشتمل ایک بڑی اپوزیشن کا بھی سامنا ہے جو یقیناً قدم بہ قدم اور لحظہ لحظہ تبدیلی کے عمل کو روکنے کیلئے سرگرم ہو گی اور مختلف اداروں میں تعینات ان کے پروردہ اہلکار و افسر شاہی پرانے انداز سے چلتے ہوئے رشوت، سفارش، ٹال مٹول، بدتمیزی اور بدعنوانی کے کلچر کا نمونہ بنے رہیں گے۔ لہٰذا نئی حکومت بالخصوص عمران خان کو اس طرف خصوصی توجہ اور دھیان دینا ہو گا۔ اگر اب بھی سرکاری دفاتر میں ٹال مٹول، تاخیری حربے، رشوت و سفارش اور دیگر برائیاں موجود رہیں تو لوگوں کے ردعمل کا نشانہ براہ راست عمران خان کو بننا ہو گا۔ لہٰذا ایک فارسی محاورے کے مطابق گر بہ کشتن روز اول کو ملحوظ رکھتے ہوئے منفی طرز عمل کا اظہار کرنے والوں کو Nip the evil in the Bud کی نذر کرنا ہو گا۔ ایسا ہو گیا تو پاکستان یقیناً ریاست مدینہ کی طرح نہ سہی، اسی کی طرح لوگوں کی فلاح اور رفاع کی ضامن ضرور ہو گی۔
بقیہ: باعث افتخار