22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

گرانی کی کہانی گرانی کی کہانی

معزز قارئین!سب سے پہلے تو ہم آپ کو ایک کہانی سناتے ہیں۔ ایک بادشاہ نے سوچاکہ کیوں نہ اپنے وزیروں اور مصاحبوں کا امتحان لیا جائے چنانچہ بادشاہ نے چند چھوٹی بڑی لکیریں کھینچ کر اپنے وزیروں کو حکم دیا کہ سب سے چھوٹی لکیر کو ہاتھ لگائے بغیر سب سے بڑی بنا دو۔ تعمیل ارشاد میں دیر ہوتی دیکھ کر بادشاہ کی تیوری چڑھنے لگی اور بادشاہ کی تیوری چڑھتی دیکھ کر وزیروں کے چہرے اترنے لگے۔ کام بیشک ناممکن تھا لیکن ناکامی کا اقرار بھی کہاں ممکن تھا۔ واسطہ بادشاہ سے تھا اور بادشاہوں کے مزاج کا کیا ٹھکانہ۔ گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ، خوش ہوں تو سونے چاندی میں تلوا دیں، ناخوش ہوں تو زن و بچہ کے ساتھ کولہو میں پلوا دیں۔ مگر اس دن وزیروں کا ستارہ شاید عروج پر تھا کہ عتاب نازل ہونے سے پیشتر ہی ایک کم سن وزیر نے آگے بڑھ کر نشان زدہ لکیر کے علاوہ تمام لکیریں مٹا ڈالیں اور ہاتھ باندھ کر بولا۔ حضور کے حکم کی تعمیل ہو گئی۔ بڑی لکیریں مٹ گئیں تو یہ چھوٹی سی لکیر ہی سب سے بڑی لکیر بن گئی ہے۔ بادشاہ سلامت خوش ہو گئے اور انعام کے طور پر اس کم سن وزیر کو وزیرِاعلیٰ بنا دیا۔
صاحبو! کہانی سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا جو سوچ اور تدبر سے حل نہ کیا جا سکے۔ اور آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے گرانی۔ حالات کچھ اس طرح ہیں کہ 
مہنگائی نے ہر شے کو بنایا ہے سوالی
دیتے ہیں دکھائی در ویوار گداگر
صاحبو!ہمارے ہاں گرانی کا ایک حل یہ پیش کیا جاتا ہے کہ پیداوار میں اضافہ کرو۔ مانگ سے زیادہ مال بازار میں ہو گاتو قیمتیں آپ سے آپ کم ہو جائیں گی۔ دوسری طرف سے آواز آتی ہے کہ اگر پیداوار کم ہوتی تو مال ایکسپورٹ کیسے ہوتا۔ کسی مال کا برآمد ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ پیداوار مقامی ضرورت سے زیادہ ہے۔ البتہ ہمارے ہاں پیدواری لاگت زیادہ آتی ہے۔ اسے کم کرنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈو۔ اگر حکومت لاگت کم کرنے میںمالی مدد نہیں کرتی تو قیمتیں کم نہیں ہو سکتیں۔ اور لاگت سے کم قیمت پر مال بیچنا فرض ٹھہرا دیا گیا تو تاجروں و صنعتکاروں کا دیوالہ نکل جائے گا۔
صاحبو! ہمارے بعض بقراط کہتے ہیں کہ سرکاری امداد سے پیداواری لاگت کم کرنا خارج از بحث ہے۔ اس لیے عوام کی قوت خرید میں اضافہ کی کوشش کرو۔ تنخواہیں بڑھائو۔ مزدوروں کی اُجرت میں اضافہ کرو تاکہ وہ موجودہ پیداوار کو خرید سکیں۔ تیار شدہ مال آسانی سے بِکنے لگے گا تو پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا اور قیمتیں بھی کم ہوں گی۔ رسد و طلب کا نظام اسی طرح چلتا ہے جو مال زیادہ فروخت ہوتا ہے اس پر نفع بھی کم ہوتا ہے اور وہی مال بازار میں زیادہ آتا بھی ہے۔ یورپ ، امریکہ، جاپان سے سبق لو۔ وہاں گرانی کا جو عالم ہے اس کے مقابلہ میں ہمارے ہاں کی گرانی کو گرانی کہنا گرانی کی توہین ہے۔ پھر بھی وہاں کوئی شخص گرانی کا شکوہ نہیں کرتا۔ کیونکہ گرانی زیادہ ہے تو آمدنی بھی زیادہ ہے اس لیے سب عیش کرتے ہیں۔ 
صاحبو! ایک اور سمت سے آواز اٹھتی واہ صاحب واہ۔ اچھا حل بتا رہے ہیں آپ کھانسی سے بے حال مریض کو نیبو چٹانا چاہتے ہیں۔ صاحب! یہ گرانی آئی ہی افراطِ زر کے باعث ہے کہ ہر جیب میں اس کے ظرف سے زیادہ روپے آگئے ہیں سو اچھل رہے ہیں اس پر آپ مزید سرمایہ بازار میں لے آنا چاہتے ہیں۔ کیا ملکی معیشت کو بالکل ہی تباہ کر دینے کا ارادہ ہے۔ محترم !اس گرانی کا حل صرف یہ ہے کہ سرکاری ٹیکسوں اور بچت کی دلکش اسکیموں کے ذریعے سے یہ فاضل سرمایہ بازار سے کھینچ لو۔ افراطِ زر ختم ہو گا عوام کی قوتِ خرید کم ہو گی۔ روپے کی قوت خرید بڑھے گی تو قیمتیں از خود گر جائیں گی۔
ابھی اس تجویز کے الفاظ بھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آئے تھے کہ ایک نئی آواز آئی۔ لاحول ولا۔ یہ بھی کوئی حل ہے۔ بچت کو دلکش بنانے کے لیے نفع کا عنصر رکھنا لازمی ہے۔ وہ کہاں سے آئے گا۔ روپیہ رکھے رکھے تو بڑھ نہیں جاتا۔ ظاہر ہے کسی نہ کسی نفع بخش بیوپار میں لگانا پڑے گا۔ اور اس طرح وہ سرمایہ پھر بازار میںپہنچ جائے گا۔ گویا وہ مقصد ہی فوت ہو گیا جس کے لیے سرمایہ بازار سے کھینچا گیا تھا۔ رہ گئے سرکاری ٹیکس تو اس سلسلہ میں حکومت کی نیک نامی کا پہلے ہی یہ حال ہے کہ بقول مسٹر دہلوی
بجٹ ہو ’’سرپلس‘‘ یا ہو ’’ڈفی سٹ‘‘ ٹیکس افزا ہے
مری پاکٹ پہ سرکاری کرم یوں بھی ہے اور یوں بھی
صاحبو! ہمارے ایک دانشور دو ست نے عجیب بات کہی ہے۔ کہتے ہیں جہاں تک ہمارا سوال ہے۔ ہم گرانی سے کوئی خاص پریشان نہیں بلکہ ہم تو خوش ہیں کہ بہت سی فضول خریوں سے بچ گئے ہیں۔ ضروریات زندگی سے کچھ بچتا ہی نہیں جو تعیشاتِ زندگی فضولیاتِ زندگی و لغویاتِ زندگی پر خرچ کرنے کی نوبت آئے۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ
گرانی ہے بری بے شک مگر اس میں یہ خوبی ہے
کہ ساقی ہے ادھر خالی ادھر بیٹھے ہیں ہم خالی
بلکہ ہم تو او رخوش ہوں گے اگر ضروریات زندگی کے حصول سے بھی نجات مل جائے۔ مہنگائی کچھ اور بڑھ جائے تو ان کی تکمیل ہمارے بس کی نہ رہے گی۔ پھر ہم ان کے لیے محنت مزدوری کو بے کار سمجھ کر آرام سے دانشوری کریں گے۔ بھوک لگے گی تو کسی پارک میں جا کر کچھ چَرچُگ لیں گے۔ رہ گئے کپڑے تو اللہ بخشے غالب صاحب کو جو فرما گئے ہیں کہ
ع    تن کی عریانی سے بہتر نہیں دنیا میںلباس
پھر جب سماجی حمام میں سبھی ننگے ہوں گے تو اور لطف آئے گا جو کچھ آج کل کے ادب میں پڑھتے ہیں وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی رہیں گے۔
صاحبو! یہ دانشوری ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ رہ رہ کر پرائے پھٹے میں ٹانگ اڑانے پر اکساتی ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی گرانی کے مسئلہ پر غور کیا ہے اور فی الحال اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ گرانی صرف رسد میںکمی یا مانگ میں زیادتی ہی سے نہیں پھیلتی بلکہ یہ خود بھی انڈے بچے دیتی رہتی ہے۔ بالفاظ دیگر جس طرح برگد کا ایک پیڑاپنے جیسے کئی درختوں کو جنم دے دیتا ہے۔ اسی طرح گرانی بھی اپنے آپ کو دوگنا چوگنا کرتی چلی جاتی ہے۔
قارئین! مطلب یہ ہوا کہ مہنگائی کی وجہ سے ہر شخص اپنی آمدنی میں اضافہ پر مجبور ہے ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ معاشرہ اتنا نفع دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر شخص اپنے پیشہ میں کچھ نہ کچھ بے ایمانی کرنے پر مجبور ہے۔ یہ جو رشوتوں کا زور ہے۔ ہر چیز میںملاوٹ ہو رہی ہے۔ دوائیں نقلی ہیں، ڈاکٹر کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ ناپ تول میں گھپلا ہو رہا ہے۔ غرض الٹی سیدھی چھین جھپٖٹ کا جو لامتناہی سلسلہ چل رہا ہے اس کی بنیاد ہی نفع کی ضرورت تھی جو معاشرہ راضی خوشی دینے پر آمادہ نہیں تھا۔ جو گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلا وہ اس طرح نکالا جا رہا ہے۔ اور معاشرہ بھی اس دھاندلی سے آگاہ ہے لیکن اسے یوں ہی بے خبری میں لُوٹا جانا پسند ہے۔
بہرکیف یہ تو جو تھا سو تھا۔ اصل قیامت یہ ہو گئی ہے کہ ضرورت نے ہمیں جس بے ایمانی پر مجبور کیا تھا۔ اس بے ایمانی میں اب ہمیں مزا آنے لگا ہے۔ مجبوری اب ہوس بن گئی ہے۔ اور یہی اصل میں کرپشن کا دوسرا نام ہے۔لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ جب پورا معاشرہ ایک ہی رنگ میں رنگ جائے تو ہر کاٹنے والا۔ ایک جگہ کاٹے گا تو دس جگہ خود بھی کاٹا بھی جائے گا۔ اور جب اسے اپنے کاٹے جانے کا احساس ہو گا تو وہ دوسروں کے حق  میں مزید بے رحم ہوتا ہے جائے گا۔
کرپشن کو ذیابیطس ہی سمجھو
جو آ جائے تو پھر جاتی نہیں ہے