20 ستمبر 2019
تازہ ترین

کیچڑ اور کنول کے پھول کیچڑ اور کنول کے پھول

اگرچہ یہ شاعرانہ تصور اب ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ حسن دراصل دیکھنے والے کی نگاہ میں ہوتا ہے۔ یہی حسن نظر ہے جو رومانی اعتبار سے عام طور پر خون کی گردش کو تیز کر دیتا ہے اور اسی کے بل بوتے پر ہر اہل دل دنیا کو فتح کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ حسن کے پراسرار پہلوؤں کی نشاندہی کرنے والے منفرد شاعر منیر نیازی کہا کرتے تھے کہ حسن، قبیح اور مکروہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ حسن اور بدصورتی ایک دوسرے کے قریب قریب ہی رہتے ہیں جس کی ایک نہایت عمدہ مثال کنول کے پھول ہیں جو عام طور پر کیچڑ اور دلدل کے علاقے میں اپنی خوبصورتی کے رنگ بکھیرتے مشاہدہ کئے جاتے ہیں۔ اس صورتحال کو روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کالم سپرد قلم کرنے سے پہلے ہی یہ خیال مجھے اس وقت آیا جب میری نگاہ سے یہ خبر گزری جس کے مطابق لاہور میں پنجاب حکومت کے مختلف محکموں کے مالی احتساب کے ذمے دار اکاؤنٹ جنرل پنجاب آفس لاہور میں پنشن کی مد میں کروڑوں روپے کے انوکھے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق 2 جونیئر آڈیٹرز عدیل احمد اور محمد اویس نے جعل سازی سے متعدد پرائیویٹ افراد جو کبھی سرکاری ملازم نہیں رہے، کے نام حکومت پنجاب کی پنشن لسٹ میں شامل کر کے گزشتہ 8 ماہ میں صوبائی خزانے پر کروڑوں روپے کا ڈاکہ ڈالا۔
ڈائریکٹر آڈٹ پنجاب سید شوزب رضا نقوی کی زیر سربراہی آڈٹ ٹیم نے سرٹیفکیشن آڈٹ کے دوران 30 جون 2017ء کو ختم ہونے والے مالی سال میں پنشن ادائیگیوں میں مزید 13 ارب روپے سے زائد کی کرپشن، غبن، فراڈ اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی جس کی بنا پر مزید تحقیقات کے بعد ( شاید) ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پنشن فراڈ سکینڈل بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ آڈٹ ٹیم نے تقریباً 550 کیسز کی نشاندہی کی جن میں سے اے جی آفس کی طرف سے 200 واؤچرز تصدیق کے لئے پیش کئے گئے، ان میں 20 سے زائد بڑے کیسز میں 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کے لگ بھگ فراڈ سامنے آیا جبکہ اے جی پنجاب آفس کے حکام 300 واؤچرز کا ریکارڈ آڈٹ ٹیم کو پیش نہ کر سکے۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کے پکڑے جانے والے فراڈ کے تحت اویس اور عدیل نے 10 مختلف افراد اور اپنے رشتے داروں کے بینک کھاتوں میں بقایا جات کی مد میں وقفہ وقفہ سے بڑی رقوم منتقل کیں۔ یہ افراد کبھی سرکاری ملازم نہیں رہے لیکن ان کو پولیس، تعلیم، صحت اور دیگر صوبائی محکموں سے ریٹائرڈ ملازمین ظاہر کیا گیا۔ دونوں ملازمین 
نے اے جی آفس میں نصب کمپیوٹر نظام کے تحت ریٹائرڈ ملازم شاہد احمد بٹ کے الائیڈ بینک لاہور کے اکاؤنٹ میں نومبر 2016ء سے جون 2017ء تک بقایا جات کی مد میں 49 لاکھ 98 ہزار 220 روپے منتقل کئے، اسی طرح محمد ارشد نامی پنشنر کو 34 لاکھ 11 ہزار روپے منتقل کر دیے، اس کے علاوہ ریٹائرڈ سب انسپکٹر محمد عارف کے حبیب بینک اکاؤنٹ میں 39 لاکھ 51 ہزار 358 روپے ٹرانسفر کر کے فراڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر ملازمین میں سے عبدالوحید کے اکاؤنٹ میں 17 لاکھ 65 ہزار 398 روپے، محمد رفیق کے اکاؤنٹ میں 30 لاکھ 99 ہزار روپے، محمد زمان خان کے اکاؤنٹ میں 16 لاکھ 85 ہزار روپے، محمد افضل بٹ 16 لاکھ 87 ہزار روپے، محمد ادریس بٹ کے اکاؤنٹ میں 17 لاکھ 45 ہزار روپے اور اکبر حسین کے اکاؤنٹ میں 2 لاکھ روپے پنشن کے بقایا جات کی مد میں منتقل کر کے فراڈ کیا گیا۔ چند دیگر افراد کو بھی ساڑھے 3 کروڑ روپے منتقل کئے گئے لیکن جن کو صیغہ راز میں رکھا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق عدیل اور اویس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ فراڈ میں ان کے رشتے دار اور بعض دیگر ملازمین بھی ملوث ہیں۔
کرپشن، اقرباپروری، بددیانتی اور بے ایمانی کے اس کیچڑ میں ہی یہ خبر ایک کنول کی طرح مہکتی اور لہکتی ہوئی محسوس ہوئی کہ گوجرانوالہ میں ایک دیانتدار کانسٹیبل نے 1 کروڑ 36 لاکھ روپے کے گمشدہ چیک صنعتکار کو ڈھونڈ کر واپس کر دیے اور جب صنعتکار نے سپاہی کو پانچ لاکھ روپے انعام دینے کی کوشش کی تو سپاہی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ بحیثیت کانسٹیبل یہ میرا فرض تھا، انعام تو میں اپنے اللہ سے لوں گا۔ تفصیلات کے مطابق آر پی او آفس کا ڈاک رنر محمد تنویر کانسٹیبل ڈاک تقسیم کرنے سی پی او آفس جا رہا تھا کہ چرچ روڈ سے گزرتے ہوئے راستے میں اسے 1 کروڑ 36 لاکھ روپے کے 4 چیک زمین پر گرے ہوئے ملے۔ ان میں سے 2 چیک سٹیٹ بینک جبکہ دو نجی بینکوں کے تھے۔ محمد تنویر نے وہ چیک بینک منیجر کو پہنچائے تو اس نے اکاؤنٹ ہولڈر کو اطلاع کی، وہ فوری طور پر بینک پہنچا اور اس نے چیک وصول کر نے کے بعد سپاہی کا شکریہ ادا کیا۔
میرے نزدیک یہ خبر بھی ایک کنول ہی ہے کہ سندھ کے علاقے اسلام کوٹ کے نواح میں 175 بلین ٹن خام کوئلے کے ذخائر موجود ہیں چنانچہ اس معدنی دولت سے کو حاصل کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کی خاطر وہاں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایک قابل تحسین قدم یہ اٹھایا گیا کہ 6 ٹن وزنی ٹرک چلانے کے لئے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی یکساں موقع فراہم کیا گیا جس میں مقامی خواتین، خاص طور پر تھر کی ہندو عورتوں نے خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان میں سے ایک 25 سالہ گلا بان بھی ہے جو بنیادی طور پر ایک گھریلو خاتون اور تین بچوں کی ماں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر 30 خواتین بھی ٹرک ڈرائیور کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ گلابان اپنی دیگر 30 خواتین ساتھیوں میں سے واحد ایسی خاتون تھی جو پہلے ہی کار ڈرائیونگ کا علم رکھتی تھی بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کو دیکھ کر ہی دیگر کئی خواتین کو حوصلہ میسر آیا۔ گلابان کے شوہر ہرجی لال کے مطابق، کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ جب گلابان نے کار چلائی تو میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھ کر خوب قہقہے لگائے۔ 29 سالہ رامو نامی خاتون 6 بچوں کی ماں ہے لیکن 40 ٹن وزنی ٹرک چلاتے ہوئے اس کو کوئی مشکل یا مسئلہ پیش نہیں آتا۔ یہ ٹرک ڈرائیور خواتین ماہانہ تقریباً 40 ہزار روپے کما لیتی ہیں۔
 اس علاقے کے عوام اور خاص طور پر غریب گھرانوں میں یہ احساس اور خیال تیزی سے پھیل رہا ہے کہ سی پیک کے منصوبے کے نتیجے میں اس علاقے میں بھی معاشی اور اقتصادی اعتبار سے تبدیلیاں رونما ہوں گی جس کے ثمرات حاصل کرنے کے لئے ان کو ابھی سے تیار ہو جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ مذکورہ کمپنی (SECMC) کے پاس اس وقت 125 ٹرک ہیں لیکن جب کان کنی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا تو مطلوبہ تعداد 3 تا 400 ہو گی۔ بہرحال اس وقت جب خام کوئلہ نکالنے کے لئے بھورے رنگ کے بھاری ٹرک اس علاقے میں جابجا گھومتے دکھائی دیتے ہیں تو دور سے ان پر شہد کی مکھیوں کا گمان ہوتا ہے۔ کیچڑ اور کنول کے پھول کے بیان کئے گئے رشتے کی علامت کے ابلاغ کے باب میں قارئین کی توجہ اور غور و فکر بنیادی شرط ہے۔