25 ستمبر 2018
تازہ ترین

کیوں نہیں؟ کیوں نہیں؟

اگر آپ سیلکٹو (Selective) انصاف دیں گے۔ اگر آپ انصاف دینے کے لیے افراد اور ملزمان کا تعین اپنی ترجیحات کے مطابق کریں گے تو سوال اٹھیں گے۔ سوشل میڈیا کا جن اپنے منہ سے مسلسل آگ اگل رہا ہے اور اس کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے ہاں چیک اینڈ بیلنس کا تو کوئی نظام ہے نہیں۔ قوم کی سیاسی تربیت گزشتہ 30سال سے صرف ایک اصول پر ہو رہی ہے اور وہ ہے ’’انتقامی سیاست‘‘ خود ہمارے سیاستدان چونکہ ’’ پاور پالیٹکس ‘‘ کو ہی مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں ان کے پیرو کار تب ہی ان کے کنٹرول میں رہیں گے جب انہیں یہ باور کروا دیا جائے کہ ان کا ایم این اے یا ایم پی اے عقل کل اور مالک و مختار ہے۔ ان کے تمام مسائل کا واحد حل ہے تو وہ بہر صورت کامیاب دیکھنا چاہیں گے۔ انہیں اس کے کردار سے کچھ نہیں لینا صرف اپنے مسائل کا حل چاہیے جو انہیں اچھی طرح سمجھا دیا جاتا ہے کہ ان کے منتخب سیاستدان کی کامیابی کی صورت ہی ممکن ہے مراعات یافتہ میڈیا ملازمین کی (جو خود کو صحافی اور دانشور بھی کہتے ہیں) توپوں کا رخ بھی اس طرح اپنے ’’مالکان‘‘ کے مخالفین کی طرف ہی ہوتا ہے وہ دن رات اپنی ’’تنخواہ‘‘ کو ’’جسٹی فائی‘‘ کرنے اور ’’بونس‘‘ حاصل کرنے کے لیے اس حد تک گر جاتے ہیں کہ بسا اوقات ان کا اشرف المخلوقات ہونا ہی مشکوک ہو جاتا ہے۔
بے چارے سادہ لوح اپنی مجبوریوں اور مسائل کے ہاتھ بلیک میل ہوتے ہیں۔ محرومیوں اور مخصوص ذہنی عوارض کا شکار میڈیا ملازمین اپنی بے بسی کی قیمت ادا کرتے ہیں لیکن وہ اینکر اور نام نہاد صحافی جو باقاعدہ اپنے اداروں سے تنخواہ لیتے ہیں، سرکاری میڈیا سیلز سے ماضی میں (یہ سلسلہ ابھی جاری ہے) اچھا بھلا بخرہ لیتے رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو تو سرکاری ملازمتیں بھی فراہم کی گئیں خصوصاً پی ٹی وی ان کی مستقل ’’آماجگاہ‘‘ بنا رہا جہاں دو تین لاکھ ماہانہ الگ سے بٹورتے رہے۔ یہ ’’کنٹریکٹ ملازمین‘‘ کہلاتے تھے۔ چونکہ ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جنہیں اب ’’عیاشانہ زندگی‘‘ کا چسکا لگ چکا ہے جو صرف اپنے ادارے کی تنخواہ سے پورا نہیں ہوتا۔ ان کے رئیل سٹیٹ بزنس فاورڈنگ اینڈ کلیرنس بزنس، ریکروٹنگ آفسز تب ہی چل سکتے ہیں جب انہیں یہ کور (Cover)میسر رہے۔ اپنی ان مجبوریوں کے ہاتھوں یہ بے چارے اپنے دماغ سے نہیں سوچتے اپنے مالکان کے احکامات کے تابع صحافت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ’’عمران خان کی عید کی نماز کی فوٹو کیوں نہیں آئی؟ پاکپتن والا واقعہ؟ ہیلی کاپٹر کا کرایہ فلاں مرزائی ہے فلاں یہ ہے۔ یہ تو جنرل مشرف کی کابینہ میں بھی تھا، یہ تو پہلے فلاں پارٹی کے ساتھ تھا اب یہاں کیا کرے گا۔ یہ کمیٹی تو پہلے بھی بنی تھی۔ گاڑیاں فروخت کر کے غیر ملکی مہمانوں کو کیا ’’ رینٹ اے کار‘‘ کے ذریعے لایا کریں گے، فلاں ایم پی اے نے یہ کر دیا، فلاں نے یہ کر دیا، عمران خان کی لاہور آمد پر پروٹوکول لگا تھا وغیرہ وغیرہ جیسے ’’ اہم قومی مسائل‘‘ پر رات 8بجے سے 11بجے تک محفلیں سجاتے ، بحث مباحثے کرواتے، اپنے مہمانوں کو ایک دوسرے سے گالی گلوچ پر آمادہ کرتے، ملک میں عدم برداشت کے کینسر کو تقویت دیتے، عوام میں احساس عدم تحفظ پیدا کرتے، قومی مسائل کے بجائے گلی محلے اور تھڑوں کی سطح کی سیاست پر سیاستدانوں کو دست و گریبان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی ہر ایسی خباثت کے اختتام پر مالکوں کی طرف سے داد و تحسین کے ڈونگرے وصول کر کے اپنے اگلے مشن پر لگ جاتے ہیں۔ 
ان بے چاروں کی تو اپنی مجبوریاں یا نفسیاتی مسائل ہوں گے لیکن جب اس نوعیت کی سیاست اور گالی گلوچ سوشل میڈیا پر آتا ہے تو یہ سوسائٹی کے ذمہ داروں کی نظروں سے بھی گزرتا ہے کیونکہ ایسی ہر بے ہودگی کے ساتھ یہ ضرور لکھا ہوتا ہے ’’ اسے اتنا اشیئر کرو کہ فلاں تک پہنچ جائے۔‘‘ فلاں تک پہنچنے کے بعد پھر جو کچھ دیکھنے میں آتا ہے خدا کی پناہ! ممکن ہے کچھ نفسیاتی مریضوں کی ذہنی تسکین تو ہو جاتی ہو لیکن ہم جس تیزی سے معاشرتی توڑ پھوڑ کا شکار ہو رہے ہیں اس کا ممکن ہے ابھی احساس نہ ہو رہا ہو جلد ہو جائے گا۔
چیف جسٹس صاحب نے عدالت کے کمرے سے نکل کر جب انصاف کی بحالی پر کمر باندھی اور دلیرانہ فیصلے کیے تو خاصے واہ واہ کے ڈونگرے برسائے گئے جب کہ اپوزیشن کی طرف سے اس جیوڈیشل ایکٹوازم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن عوامی توقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا اور عوام سمجھنے لگے تھے کہ اب انہیں انصاف با آسانی مل جائے گا۔ چیف جسٹس صاحب نے اپنی تمام تر توانائیاں بھی اس کی نذر کیں عدالتیں چھٹی کے روز بھی کام کرنے لگیں لیکن بعض اہم کیس جو بہت زور و شور سے شروع ہوئے اپنے منطقی انجام کو پہنچے بغیر فائلوں میں دب گئے۔ دور کیا جائیے عطاء الحق قاسمی کیس اس کی مثال ہے جو فیصلے کے بغیر شاید عدالتی طریق کار یا کوئی اور وجہ سے رک گیا اس طرح نہ تو قاسمی صاحب کو انصاف مل سکا میڈیا نے اس کیس کو جو ہائپ دی تھی اس کے بعد سوالات اٹھ رہے ہیں؟ خدشات اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔ ایسی اور بھی مثالیں ہیں کچھ کیس جو عدالت عظمی نے شروع کیے اخبارات میں شہ سرخیوں سے مختلف کمنٹس چھپتے رہے پھر وہ فائلوں کے نیچے دب گئے۔ اس سے غلط فہمیاں جنم نہیں لیں گی تو کیا ہو گا؟ اگر ایک ایم پی اے کو شہری کو تھپڑ مارنے پر لاکھوں روپے جرمانہ ہو سکتا ہے تو سوشل میڈیا پر ایسے درجنوں کیس موجود ہیں۔ کس نے ان کا نوٹس لیا؟ انسانی فطرت ہے لوگ ’’ کہنے‘‘ پر نہیں ’’ہونے‘‘ پر یقین رکھتے ہیں۔